حال و احوال
پیر اقبال رشید
حالیہ دنوں میں وادیٔ کشمیر کے مختلف حصوں میں بارشوں اور سیلابی صورتحال نے ایک مرتبہ پھر 2014 کے ہولناک سیلاب کی تلخ یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر، پانی میں ڈوبے ہوئے مکانات، بے گھر خاندان، تباہ شدہ فصلیں، منہدم پل اور بے بس نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھتے لوگ ہمیں ایک ہی سوال کی طرف لے جاتے ہیںکہ کیا ہم واقعی تیار ہیں؟
یہ سوال صرف حکومتوں، انتظامیہ یا امدادی اداروں سے نہیں بلکہ ہم سب سے ہے۔ کیونکہ ہر آفت کے بعد ہم چند دن افسوس کرتے ہیں، امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، مگر جیسے ہی پانی اترتا ہے، ہماری یادداشت بھی خشک ہو جاتی ہے۔ ہم پھر وہی غلطیاں دہرانا شروع کر دیتے ہیں جنہوں نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا۔
2014ءکا سیلاب محض ایک قدرتی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سخت تنبیہ تھی۔ اس سانحے نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کیا، کروڑوں روپے کی املاک تباہ ہوئیں، تعلیمی ادارے، اسپتال، سڑکیں اور بازار پانی میں ڈوب گئے۔ اس وقت سب نے عہد کیا تھا کہ آئندہ ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جائے گی، دریاؤں کے قدرتی راستے محفوظ کیے جائیں گے، جنگلات کی حفاظت ہوگی اور شہری منصوبہ بندی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ مگر آج جب دوبارہ بارشیں شدت اختیار کرتی ہیں تو وہی خوف، وہی بے بسی اور وہی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
آج بھی ایک غریب انسان اپنے تباہ شدہ گھر کے سامنے کھڑا ہے۔ اس کی آنکھوں میں امید ضرور ہے، مگر اس امید کے ساتھ ایک بے یقینی بھی جڑی ہوئی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید کوئی آئے گا، اس کی مدد کرے گا، اس کے بچوں کے لیے خوراک لائے گا، اس کا گھر دوبارہ تعمیر کرے گا، اس کے نقصان کا ازالہ کرے گا۔ لیکن اس کے دل میں ایک اور سوال بھی جنم لیتا ہے، وہ کب آئے گا؟ اور کیا ہر بار کسی کے آنے کا انتظار ہی ہماری تقدیر رہے گا؟یہ سوال میرے ذہن میں بھی بار بار گونجتا ہے کہ کیا واقعی کوئی آئے گا؟ یا پھر وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ، اپنی ترجیحات اور اپنے رویّوں کو بدلیں۔
قدرت ہمیشہ انسان کی دوست رہی ہے۔ دریا زندگی دیتے ہیں، جنگلات بارشوں کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں، پہاڑ زمین کو مضبوطی عطا کرتے ہیں اور ندی نالے اضافی پانی کو محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے ان سب کو اپنی خواہشات کی نذر کر دیا۔ ہم نے جنگلات کاٹے، پہاڑوں کو زخمی کیا، ندی نالوں پر قبضے کیے، دریاؤں کے کناروں پر تعمیرات کیے اور قدرتی بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب بارش معمول سے کچھ زیادہ ہوئی تو پانی نے اپنا راستہ خود بنایا، اور اس راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ سیلاب صرف آسمان سے برسنے والے پانی کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ زمین پر کیے گئے ہمارے فیصلوں کا بھی انجام ہوتا ہے۔ جب جنگلات ختم ہوتے ہیں تو بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے تیزی سے نیچے آتا ہے۔ جب ندی نالوں پر تجاوزات قائم ہوتی ہیں تو پانی اپنا راستہ بدل دیتا ہے۔ جب شہری منصوبہ بندی میں ماحولیات کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو قدرت اپنے اصول خود نافذ کرتی ہے۔
آج ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم ترقی کو صرف کنکریٹ، سیمنٹ اور بلند عمارتوں سے جوڑتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زیادہ سڑکیں، زیادہ تعمیرات اور زیادہ تجارتی مراکز ہی ترقی کی علامت ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ترقی جو ماحول کو تباہ کر دے، انسان کو محفوظ نہیں بنا سکتی۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے فطرت کو صرف وسائل کا ذخیرہ سمجھ لیا ہے۔ ہم نے درختوں کو لکڑی، دریاؤں کو پانی، پہاڑوں کو پتھر اور زمین کو صرف منافع کمانے کا ذریعہ سمجھا، حالانکہ یہ سب ہمارے وجود کی بنیاد ہیں۔ جب بنیاد ہی کمزور کر دی جائے تو عمارت کب تک قائم رہ سکتی ہے؟
ہر سال ماحولیاتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، بارشوں کے انداز بدل رہے ہیں، گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے اور قدرتی آفات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم ان انتباہات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے صرف اس وقت جاگتے ہیں جب پانی ہمارے اپنے دروازے تک پہنچ جاتا ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حکومتوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مضبوط ڈیزاسٹر مینجمنٹ، جدید وارننگ سسٹم، مؤثر شہری منصوبہ بندی، نکاسیٔ آب کے بہتر انتظامات، تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی، جنگلات کا تحفظ اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ لیکن صرف حکومتیں ہی سب کچھ نہیں کر سکتیں۔ اگر عوام خود قانون شکنی کریں، قدرتی راستوں پر قبضے کریں، درخت کاٹیں اور ماحول کو نقصان پہنچائیں تو کوئی بھی نظام مکمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی نئی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں صرف ترقی، دولت اور سہولتوں کی دوڑ میں شامل کر رہے ہیں یا انہیں یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ایک درخت کاٹنے سے پہلے دس مرتبہ سوچنا چاہیے، ندی نالے کو بند کرنا صرف ایک تعمیراتی فیصلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ پیدا کرنا ہے، اور ماحول کا تحفظ دراصل اپنی زندگی کا تحفظ ہے۔
قدرت انتقام نہیں لیتی، بلکہ توازن بحال کرتی ہے۔ جب ہم اس توازن کو بگاڑتے ہیں تو اس کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، خشک سالی، شدید گرمی اور دیگر قدرتی آفات ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ انسان فطرت کا مالک نہیں بلکہ اس کا ایک حصہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آفات کا انتظار کرنے کے بجائے ان سے پہلے تیاری کریں۔ اسکولوں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی تعلیم دی جائے، مقامی سطح پر رضاکار ٹیمیں تشکیل دی جائیں، دریاؤں اور ندی نالوں کی مستقل نگرانی ہو، شجرکاری کو قومی تحریک بنایا جائے اور ماحولیات کو ہر ترقیاتی منصوبے کا بنیادی جزو قرار دیا جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ایک درخت لگانا صرف ایک پودا لگانا نہیں بلکہ مستقبل کی ایک نسل کو محفوظ کرنا ہے۔ ایک ندی کو اس کا قدرتی راستہ دینا صرف پانی کے بہاؤ کو برقرار رکھنا نہیں بلکہ ہزاروں گھروں کو ممکنہ تباہی سے بچانا ہے۔ ماحول کی حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی اخلاقی، سماجی اور قومی ذمہ داری ہے۔
آج اگر ہم واقعی مستقبل کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہمیں لالچ کے بجائے ذمہ داری، بے حسی کے بجائے شعور اور وقتی فائدے کے بجائے پائیدار ترقی کو اختیار کرنا ہوگا۔ ورنہ ہر چند سال بعد ہم ایک نئی تباہی کے سامنے کھڑے ہو کر یہی سوال دہراتے رہیں گے کہ ’’کیا کوئی آئے گا؟‘‘شاید اصل سوال یہ نہیں کہ کون آئے گا؟ بلکہ یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟
جب تک ہم خود اپنے رویّے نہیں بدلیں گے، قدرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی اختیار نہیں کریں گے، جنگلات، دریاؤں اور ندی نالوں کا احترام نہیں کریں گے اور ماحولیات کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کریں گے، تب تک کوئی امدادی قافلہ، کوئی پیکج اور کوئی وقتی سہارا ہمیں مستقل تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ضمیر سے ایک سچا سوال کریں، کیا ہم واقعی تیار ہیں؟اگر جواب ’’نہیں‘‘ہے تو پھر آج ہی سے آغاز کرنا ہوگا، کیونکہ آنے والی آفت تاریخ نہیں دیکھتی، کیلنڈر نہیں دیکھتی اور کسی کا انتظار بھی نہیں کرتی۔
آئیے عہد کریں کہ ہم فطرت کے محافظ بنیں گے، اس کے دشمن نہیں۔ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسی دنیا دیں گے جہاں دریا آزاد ہوں، جنگلات سرسبز ہوں، پہاڑ محفوظ ہوں اور انسان فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزار سکے۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ حالات اُس وقت بدلتے ہیں جب انسان اپنی سوچ بدلنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ اور اگر ہم آج بھی نہ بدلے تو شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی کہ جب سب کچھ تمہارے سامنے تھا، تب تم نے کیا کیا؟
[email protected]
�����������������