اقرا ء گلزار،اننت ناگ
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’کشمیر جینے کے لئے نہیں سیر و تفریح کے لئے بھلی جگہ ہے ‘‘۔یہ قول کشمیر کے موجودہ حالات پر بالکل صادق آجاتا ہے ۔وادی ٔکشمیر کو ’’ سرگ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، یہ وادی دنیا کی حسین ترین جگہوں میں سے شمار ہوتی ہے اور اپنی قدرتی خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔جس کی وجہ سے ہر کس و ناکس اس کی خوبصورتی کے گیت گانے پر مجبور ہو جاتاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی خوبصورتی اور مہمان نوازی کے گُن بھی ہر سوں تذکروں کے بحث بنے رہتے ہیں۔ان چیزوں کو چھوڑ کر وادی امن و امان اور مسرت و انبساط بخشنے والی وادی کے طور پر بھی دنیا بھر میں مشہور و معروف رہی ہے اور اس کے حصول کے لیے دور دور سے لوگوں نے یہاں کی مسافت طے کی ہے اور اپنی سیمابی طبعیتوں کو قرار دینے کے لئے آئے ہیں۔یہاں پر آ کے وہ دنیا کے رنج و غم سے نجات حاصل کرکے کچھ وقت کے لئے فطرت کی رنگینیوں میں گُم ہو جاتے تھے لیکن آج وادی کے جو حالات بنے ہوئے ہیں ۔ ان کو دیکھ کر ہر آنکھ نم ،ہر قلب پریشان ہرذہن مفلوج زدہ اور ہر روح دہشت زدہ بن کر رہ گئی ہے۔
وادیٔ کشمیر جو کہ سیبوں کی پیداوار کے لیے ہندوستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مقبول و معروف ہے، آج ایک سنگین معاشی بحران سے گزر رہی ہے۔کشمیر کے سیب اپنی چاشنی ،سجا وٹ اور بناوٹ کے لیے دنیا بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔باغ مالکان اس فصل کے لیے اپنی پوری محنت اور لگن سے جان تک نچھاور کرتے ہیں۔تاکہ باغات کی فصل اعلیٰ معیار کی ہو اور زیادہ سے زیادہ گاہکوں کا دل موہ لے۔باغ مالکان سال بھر اپنی زندگی اجیرن بنا کے باغات کے لیے ہر کوئی چیز مہیا رکھتے ہیں ،اپنے اہل و عیال کا قافیہ تنگ کرکے باغات کے لیے ہر کوئی چیز دستیاب رکھتے ہیں ۔ ایک کسان موسم ِبہار سے ہی اپنے باغات کے لیے تن دہی سے کام کرتا ہے ۔باغات کی صحیح نشونما کے لیے بہت ساری کھادوں(Fertilisers ) اور ادویات(Pesticides)کا استعمال کرتے ہیں تاکہ فصل اچھے معیار کے ہوں اور بکنے کے وقت سیبوں کی اچھی سے اچھی قیمت وصول ہو،لیکن موجودہ صورتحال الگ ہی نظیر پیش کر رہی ہے۔ ۲۰۲۲ء باغ مالکان کے لیے قہر بن کر برس رہا ہے۔۲۰۲۱ء میں سیب کی ایک پیٹی(Box)جہاں گھر میں ہی ۹۰۰/۱۰۰۰ تک بک رہی تھی۔اس سال کوئی بیوپاری ۴۰۰/۵۰۰ سے زیادہ بات کرنے کو راضی نہیں ہو رہا ہے۔۲۰۲۰ء/ ۲۰۲۱ء کے مقابلے میں بازار سے ہر چیز جہاں دوگنی قیمت پر مل رہی ہے ۔ جس میں سے لکڑ پیٹی ۲۰۲۰ء/ ۲۰۲۱ء کے مقابلے میں دوگنی قیمت پر یعنی کی ۶۰ کے مقابلے میں ۱۱۰/ ۱۲۰پر ملتی ہے۔گاڑی کرایہ اخبارات،گھاس،مزدوری اور انتظامی لاگت میں بھی جہاں دوگنا اضافہ ہوا ہے ،تاہم کسان کی پیٹی ہی ہے جو زوال کا شکار ہو رہی ہے۔اس کے پیچھے کورونا وائرس کی آفت ہے یا سیاسی داؤ پیچ ،وقت سارے راز اپنے شکم سے ایک دن آشکار کرے گا ،لیکن تب تک شاید زمین کو رونق بخشنے والے کسان ہی صفحۂ ہستی پر نہ رہیںہوں۔موجودہ صورتحال کے پیشِ نظرکشمیر کے باغ مالکان دم بخود ہوچکے ہیں،وہ اس نا مناسب ریٹ پر اپنے باغات کے اخراجات کی بھرپائی بھی نہیں کر پائیںگے۔کسی نئے idea پر کام کرنا تو بعید از قیاس ہے۔
کشمیری قوم کے ساتھ ہر کوئی حکومت بلند بانگ دعوے کرتے تھکتی نہیں ہے تاہم زمینی سطح پرکوئی بھی حکومت اپنے وعدوں پر کھری اترتی دکھائی نہیں دیتی ۔موجودہ حکومت نے بھی کشمیری لوگوں سے جو وعدے کئے تھے ،وہ ریت کا ڈھیر ثابت ہو رہے ہیں۔آسائش ، روز گار اور ترقی کے دعوے دار گورنر صاحب نے جو میٹھے میٹھے دعوے کشمیری قوم کے ساتھ کئے تھے، ان میں سے ہنوز کوئی بھی دعویٰ شرمندہ تعبیر نہیں ہوپایا ہے۔الٹا یہاں بے روزگاروں کی صف میں اضافہ ہوا اور روز گار مہیا کرنے والی سب سے بڑی صنعت سیب پر بھی شب خون مارا گیا ہے۔ آج اکثر باغ مالکان Depression کے شکار نظر آتے ہیں،کیونکہ سیبوں کو اچھے داموں میں کوئی خریدنے والا مل نہیں رہاہے۔موجودہ سال میںباغ مالکان مہنگائی کو دیکھ کر اپنے سیبوں کے بہتر دام کے انتظار ہی میں تھے کہ منڈیوں سے سوگوار خبریں سننے کو ملی جس کی وجہ سے کشمیر کے زمیندار طبقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔یہ مایوس کن خبر ابھی گردش ہی میں تھی کہ کشمیر سے جموں جانے والی شاہراہ سات دن کے طویل وقفے کے لیے بند کر دی گئی، جس کی وجہ سے بیوپاریوں کا لاکھوں میں نقصان ہوا۔اس کے بعد سے قومی شہراہ پر ایک دن کے لیے قومی شہراہ آمدو رفت کے لیے چھوڑ دی جاتی ہے اور چار دن مالدار گاڑیوں کی آمد و رفت پر قدغن عائد کر دی جاتی ہے۔ایسے میں ٹرک ڈرائیوروں نے کرایہ میں قریباًدوگنا اضافہ کیا ہوا ہے اور اوپر سے گاڑیاں بھی وقت پے ملنی محال ہو گئی ہیں۔ان حالات میں باغ مالکان کے پاس یاس اور نا امیدی کے سوا دوسرا کوئی در کھلا نہیں ہے۔گویا کہ سال ۲۰۲۲ء باغ مالکان سے لے کر بیوپاریوں تک کے لیے سوہانِ جان بنا ہوا ہے، جس نے مصائب و مشکلات سے ستائی ہوئی کشمیری قوم کو مزید مشکلات میں لے ڈبویا۔ سیب امسال ساگ کی قیمت پر بھی نہیں بک رہا ہے۔ایسے میں کشمیری معیشت دن بہ دن زمین میں دھنس رہی ہے۔نیزجن باغ مالکان نے بینک سے قرضہ لے رکھا ہے ،وہ اپنا سر پیٹ رہے ہیں اور کچھ باغ مالکان تو گرتے داموں کے پیش نظر اپنے سیب ندی نالوں میں ضایع کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
سیب کی فصل کشمیری معیشت کی Backbone(ریڑھ کی ہڈی) تصور کی جاتی ہے۔اس صنعت کے ساتھ بلواسطہ یا بلا واسطہ یہاں کی ۷۰ فی صد آبادی جڑی ہوئی ہے۔کہنے کا مدعا یہ ہے کہ انتظامی سطح پر اس صنعت سے وابستہ لوگوں کی شکایات کا اگر سدِ باب نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب کشمیری لوگ یاس و نا امیدی میں اپنے باغات کو اکھاڑ پھینکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آخر پر میں کشمیری باغ مالکان کی طرف سے یہاں کی انتظامیہ کو مطلع کرنا چاہتی ہوں کہ باغ مالکان کی گزارشات کی طرف بھی غور کریں،تاکہ انتظامیہ کی غفلت شعاری سے سیب کی صنعت سے وابستہ کئی لوگ بے موت مارے نہ جائیں۔
[email protected]>