پلوامہ بادام پیدا کرنے والے سب سے سرکردہ ضلع کی حیثیت کھو گیا
مشتاق الاسلام
پلوامہ // پلوامہ، جو کبھی جموں اور کشمیر میں بادام پیدا کرنے والا سرکردہ ضلع تھا، نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنے کاشت کے رقبے میں 70فیصدسے زیادہ کمی دیکھی ہے۔ 2006 میں پورے کشمیر میں بادام کی اراضی 16,000 ہیکٹر سے کم ہو کر 4,500 ہیکٹرسے بھی کم رہ گئی ہے اور، کسان اعلیٰ کثافت والے سیب کے باغات اور تجارتی تعمیرات کے لیے بادام کی کاشتکاری کو ترک کر رہے ہیں۔ سب سے درد ناک پہلو یہ ہے کہ سیب کے باغات لگانے کے لئے بادام کے باغات کا صفایا کیا گیا اور وہاں بھی سیب کے درخت لگانے کی شروعات کی گئی۔وادی کشمیر میں ضلع پلوامہ اور ضلع بڈگام ایسے دو اضلاع تھے جہاں بادام کی پیداوار سب سے زیادہ ہوتی تھی لیکن دونوں اضلاع میں بادام کے باغات سکڑتے جارہے ہیں۔ ضلع پلوامہ میں کبھی بہار کی آمد کے ساتھ بادام کے سفید و گلابی پھولوں سے سجے ڈھوانی زمینیں آج خاموشی اختیار کرتی جا رہی ہیں اور تازہ تقابلی اعداد و شمار نے ایک تشویشناک حقیقت آشکارا کی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ضلع میں بادام کی کاشت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے نہ صرف مقامی معیشت بلکہ زرعی تنوع اور ثقافتی منظرنامے کو بھی متاثر کیا ہے۔یہ ضلع ایک وقت میں پوری وادی میں بادام کی پیداوار کے لحاظ سے نمایاں مقام رکھتا تھا اور ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی اسی شعبے سے وابستہ تھی۔
دو دہائیوں میں حیران کن گراوٹ
اعداد و شمار کے مطابق 20 برس قبل 2006 میںضلع میں 10,000 ہیکٹر رقبے پر بادام کی کاشت ہوتی تھی اور سالانہ 28 ہزار سے 32 ہزار میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ منظرنامہ یکسر بدل گیا۔سال 2025 تک بادام کا رقبہ گھٹ کر 3,541 ہیکٹر رہ گیا اورپیداوار کم ہو کر صرف 7,941 میٹرک ٹن رہ گئی ۔یہ کمی ماہرین کے مطابق 90 فیصد سے زائد گراوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔نیوہ اور پانپور کے علاقے کبھی بادام کی پیداوارکے مرکز ہوا کرتے تھے لیکن آج نیوہ سے پکھر پورہ تک کہیں بادام کے درخت نظر نہیں آتے ہیں۔پلوامہ اور ضلع بڈگام کے درمیانی علاقے میں صرف بادام کے باغات تھے جو ہزاروں ہیکٹر اراضی پر پھیلے ہوئے تھے لیکن آج یہاں صرف سیب کے درخت ہیں۔تحصیل نیوہ میں بادام کی پیداوار کاموجودہ رقبہ صرف428 ہیکٹر رہ گیا ہے اورپیداوار صرف 980 میٹرک ٹن رہ گئی ہے۔اس علاقے میں2006 میں پیداوار 3600-3700 میٹرک ٹن تھی۔تحصیل پانپور میںموجودہ رقبہ1414 ہیکٹر رہ گیا ہے اور پیداوار 3225 میٹرک ٹن رہ گئی ہے۔ملنگ پورہ، رینزی پورہ، سنری گنڈ، شالہ ٹکن، وکھرون، واصورہ، ٹہاب، پنجگام، قوئل اور پائر،اب اس روایت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔یہاںاب رقبہ 628 ہیکٹر رہ گیا ہے اورپیداوار محض 1375 میٹرک ٹن تک گر گئی ہے۔ترال میں بادام کی کاشت کارقبہ 200 ہیکٹر ہے اورپیداوار 440 میٹرک ٹن تک گر گئی ہے۔زون پلوامہ میںبادام کا رقبہ285ہیکٹر رہ گیا ہے۔کاکاپورہ میں 35 ہیکٹر ،شادی مرگ میں18 ہیکٹراورلتر میں 353 ہیکٹر رہ گیا ہے۔یہ تبدیلی واضح کرتی ہے کہ کاشتکار اب زیادہ منافع بخش فصل کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔مقامی کسانوں کے مطابق کئی عوامل اس تبدیلی کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بادام کی کم قیمت اور غیر مستحکم مارکیٹ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، حکومتی معاونت کی کمی ،اعلیٰ پیداوار دینے والی اقسام کی عدم دستیابی اوربیرونی بادام سے سخت مقابلہ کے نتیجے میںکاشتکار وں نے بادام سے سیبوں کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔کسانوں کا کہنا ہے کہ مقامی بادام کے لیے مناسب مارکیٹ موجود نہیں، جبکہ محکمہ باغبانی کی توجہ زیادہ تر سیب پر ہے، اسی لیے سیب زیادہ منافع بخش بن چکا ہے۔حکومتی موقف اور مستقبل کی تشویش کے درمیان باغبانی محکمے کے مطابق ہائی ڈینسٹی بادام باغات کی سکیم شروع کی جا چکی ہے، تاہم پودوں کی کمی کے باعث نتائج سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے آزاد تجارتی معاہدوں اور بیرونی بادام سے مقابلے کو بھی بڑا چیلنج قرار دیا۔بادام سے منسلک کاشت کاروں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگرسبسڈی،جدید باغبانی تکنیک اور مثبت مارکیٹنگ فراہم نہ کی گئی تو پلوامہ اپنی اس تاریخی شناخت سے محروم ہو سکتا ہے۔