راجوری //منی سیکریٹریٹ راجوری کی تعمیر سیاسی رسہ کشی کا شکار بن کر ایک خواب بن گئی ہے ۔پانچ سال قبل منظور ہونے کے بعد اگرچہ اس کی تعمیر کاکام 2015میں ڈائٹ راجوری کی زمین پرشروع کیاگیاتاہم لگ بھگ ایک کروڑ روپے صر ف کرنے کے بعد تعمیر کا کام بند کردیاگیااور پھر اس کے بعد آج تک یہ کام دوبارہ شروع نہیںہوااوراب سیاسی لیڈران اپنے اپنے مفادات کو ملحوظ نظر رکھ کر اس کی تعمیر کیلئے اپنی اپنی پسند کی جگہیں تجویز کررہے ہیں۔منی سیکریٹریٹ راجوری ایک ایسا معاملہ بن چکاہے جس پر سیاسی پارٹیوںکے مقامی قائیدین میں کوئی اتفاق رائے نہیں اور اسی وجہ سے اس کی تعمیر میں طوالت کھینچ رہی ہے۔کوئی اسے ڈائٹ کی اراضی پر ہی تعمیر کرنے کیلئے راضی ہے تو کوئی اسکی تعمیر نگروٹہ میں چاہتا ہے۔چند ماہ قبل نائب وزیر اعلیٰ نے بھی اس سلسلے میں مداخلت کرکے ضلع راجوری کے ارکان قانون سازیہ سے میٹنگ کرکے تعمیر کے حوالے سے امکانات کا جائزہ لیکن بدقسمتی سے یہ میٹنگ بھی ثمر آور ثابت نہ ہوسکی ۔منی سیکریٹریٹ کی تعمیر کامعاملہ کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گیاہے اور اب مقامی لوگوں کی نظریں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے مجوزہ دورہ ٔ راجوری پر مرکوز ہیں اور انہیں اس بات کی امید بھی ہے کہ وزیر اعلیٰ موقعہ پر ہی اس کا حل تلاش کریںگی ۔وزیرا علیٰ دیگر اضلاع کی طرح راجوری کا دورہ بھی کرنے جارہی ہیں جہاں وہ عوامی وفود سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنیںگی ۔ مقامی لوگوں آفتار لو ن،سجاد احمد ، افتخار جٹ، محمد سعید ، وسیم عباس ، نعیم اور ثاقب حسین کاکہناہے کہ منی سیکریٹریٹ کی تعمیر دو حکمران جماعتوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے لیڈران کے درمیان رسہ کشی کاشکار بن کر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے عام لوگ مشکلات کاسامنا کرنے پر مجبور ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کھیورہ کے مقام پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد اس پروجیکٹ کی تعمیر روک دی گئی اور دونوں سیاسی جماعتیں کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پارہی اور لیڈران اپنے اپنے مفاد کی تکمیل چاہتے ہیں جو بدقسمتی کی بات ہے ۔انہوںنے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اپنے دورے کے دوران اس مسئلہ کا موقعہ پر ہی حل نکال کر جائیں اور منی سیکریٹریٹ کی تعمیرکو مزید تعطل کاشکار نہ بنایاجائے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ وقت میں راجوری کے لوگوں کو اگر کوئی کام کراناہوتو انہیں ڈپٹی کمشنر دفتر سے کسی دوسرے دفتر پہنچنے کیلئے کئی کئی کلو میٹر کا سفر طے کرناپڑتاہے۔ راجوری میں سرکاری دفاتر مختلف اطراف میں بکھرے ہوئے ہیںاور دور دراز علاقوںسے آنے والے لوگوں کو دفاترتلاش کرنے میں ہی پورا دن لگ جاتاہے۔