ٹی ای این
سرینگر//جموں و کشمیر میں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے کو نئی سمت دینے کیلئے حکومت کی جانب سے مارچ 2025 میں جس کثیر فریقی سیاحت مشاورتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا، وہ اعلان دس ماہ گزرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اس غیر معمولی تاخیر نے حکومت کے دعوؤں اور زمینی حقیقت کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کو بے نقاب کر دیا ہے۔7 مارچ 2025 کو حکومت نے باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ سیاحت کے شعبے کو مضبوط بنانے، پالیسی معاملات پر مشاورت اور درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ حکومتی دستاویز کے مطابق ہدف یہ تھا کہ اگلے چار سے پانچ برسوں میں سیاحت کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار میں شراکت کو 7 فیصد سے بڑھا کر کم از کم 15 فیصد تک پہنچایا جائے۔تاہم، اعلان کے دس ماہ بعد بھی اس کمیٹی سے متعلق نہ کوئی نوٹیفکیشن جاری ہوا، نہ اس کی تشکیل، ارکان یا دائرہ کار ریفرنس آف ٹرمزکو منظر عام پر لایا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی سیاحت کی ترقی، تشہیر، عالمی سطح پر مثبت تشخص کی بحالی، اعلیٰ معیار کے انفراسٹرکچر کی تخلیق اور سیاحت سے جڑے مسائل کے حل کے لیے ایک کلیدی ادارہ تصور کی جا رہی تھی۔
ماہرین اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ دس ماہ کا عرصہ کسی مشاورتی کمیٹی کے قیام کے لیے ہرگز زیادہ نہیں ہوتا، خاص طور پر جب نیت اور اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہو۔ ان کے مطابق اس تاخیر سے یا تو حکومتی سنجیدگی پر سوال اٹھتا ہے یا پھر پالیسی اعلانات اور انتظامی عملدرآمد کے درمیان خطرناک حد تک رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ذرائع نے اس صورتحال کو سیاحت جیسے اہم معاشی شعبے میں ’’پالیسی جمود‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاحت کو محض بیانات کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔ جب تک ماہرین پر مشتمل ادارہ جاتی نظام فعال نہیں ہوگا، فیصلے بیوروکریسی تک محدود رہیں گے اور زمینی حقائق سے کٹے رہیں گے۔ماضی میں قائم ہونے والی سیاحت مشاورتی کمیٹیوں نے حکومت کو روایتی سرکاری حدود سے نکل کر ماہرین کی رہنمائی میں مؤثر اور مارکیٹ پر مبنی پالیسیاں بنانے میں مدد دی ہے۔ مجوزہ کمیٹی سے بھی توقع تھی کہ وہ انفراسٹرکچر کی کمیوں کی نشاندہی، پائیدار اور اعلیٰ درجے کی سیاحتی سہولیات، عالمی مارکیٹنگ حکمت عملی، کم معروف علاقوں کی سیاحت میں شمولیت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم معاملات پر ٹھوس سفارشات پیش کرے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیاحت کی غیر منصوبہ بند توسیع جاری رہی تو اس سے قدرتی وسائل کو نقصان، بھیڑ بھاڑ، ماحولیاتی بگاڑ اور سیاحوں کے تجربے میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جو بالآخر اسی شعبے کو نقصان پہنچائے گی جسے حکومت ترجیح دینے کا دعویٰ کرتی ہے۔سیاحت مشاورتی کمیٹی کے قیام میں ناکامی سے حکومت کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ سرمایہ کاروں، صنعت سے وابستہ افراد اور بین الاقوامی شراکت داروں کو یہ پیغام جا رہا ہے کہ پالیسی وعدے عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہو پا رہے۔ذرائع نے زور دیا کہ جموں و کشمیر میں سیاحت محض ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ’’معاشی بقا‘‘ کا ذریعہ ہے۔ لاکھوں افراد کی روزی روٹی اس سے وابستہ ہے اور کسی بھی انتظامی خلا کا براہِ راست اثر روزگار اور آمدنی پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ اعلانات سے آگے بڑھتے ہوئے فوری طور پر سیاحت مشاورتی کمیٹی کو فعال بنائے، ورنہ تاخیر سے نقصان مزید بڑھتا جائے گا۔