غلام نبی رینہ
کنگن// وادی میں سیاحت کاشعبہ دھیرے دھیر ے پٹری پر آرہاہے اورپہلگام حملہ کے بعد جوسیاحوں کی وادی آمد ٹھپ ہوگئی تھی ،اب وہ بحال ہورہی ہے۔سونہ مرگ کے سیاحتی مقام پر گزشتہ ایک ماہ کے دوران سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ سونمرگ میں 22اپریل سے نومبر تک تقریبا 172000ہزار سیاحوں جن میں ملکی ،غیر ملکی اور مقامی سیلانی شامل ہیں، یہاں کے دلفریب نظاروں سے لطف اندوز ہوئے ۔ سیاحوں نے کشمیر عظمی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں حالات سازگار ہیں اور یہاں کے لوگ مہمان نوازہیں اور سیاحوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں کی قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوئے ہیں اور ہم بھارت کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کا رُخ کریں اور یہاں کے برفیلے پہاڑوں کا نظارہ کریں کیونکہ سوئزرلینڈ اتنا خوبصورت نہیں ہے، جتنا کشمیرہے۔ سونہ مرگ کی سیرو تفریح پر آرہے سیاح سونہ مرگ ٹنل کے پاس سیلفیاںلیتے ہیں اور پھر سونہ مرگ کا سفر شروع کرتے ہیں۔ راج کمار نامی ایک سیاح نے بتایا کہ وہ تیسری بار سونہ مرگ آئے ہیں،مگر برفباری کی وجہ سے سونہ مرگ بند رہنے کی وجہ سے وہ گگن گیر سے ہی واپس لوٹ جاتے تھے، مگر اب سونہ مرگ ٹنل تعمیر ہونے کے بعد وہ موسم سرما میں پہلی بار سونہ مرگ کی خوبصورتی کو دیکھ سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے لوگ بہت اچھے ہیں اور سیاحوں کے ساتھ میٹھی زبان سے بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ٹی وی چینلوں میں دکھایاجاتا ہے،وہ سب غلط ہے۔