سرینگر //کرالہ یار رعناواری سے تعلق رکھنے والا 35سالہ نوجوان محمد صدیق دانتوں میں سخت درد سے کرارہاتھا اور طبی معائنہ کیلئے میاں شاہ صاحب میں قائم پرائمری ہیلتھ سینٹر گیا۔یہاں موجود خاتون میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ ڈینٹل سیکشن کا عملہ کورونا وائرس کی خصوصی ڈیوٹی پر تعینات ہے اسلئے مریض کو ڈینٹل کالج کارخ کرنا پڑیگا۔رعناواری اسپتال میں ڈینٹل سیکشن موجود ہونے کے بائوجود بھی مریض وہاں نہیں جاسکتے کیونکہ اسپتال عام مریضوں کیلئے بند ہے اور مقامی لوگوں کو پرائیویٹ کلنکوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔اسی طرح کی گھمبیر صورتحال اسپتال میں قائم شعبہ زچگی کی ہے۔ رعناواری اسپتال میں عالمی وباء سے قبل زچگی کی روزانہ 10سے12جراحیاںانجام دی جاتی تھیں لیکن اب لل دید اور کبھی 8کلو میٹر دور سکمز صورہ جانا پڑرہا ہے۔سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ کی صورتحال کوئی مختلف نہیں ہے۔رعناواری ، خانیار، سعدہ کدل ،حضرت بل ، زکورہ، پاندچھ اور گاندربل سے روزانہ 2500افراد طبی معائنہ کیلئے اسپتال پہنچنے تھے جن میں سے 100کے قریب اسپتال میں بھرتی ہوتے ہیں اور 30سے زائد جراحیاں روزانہ ہوتی ہیں۔انچارج میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر رئوف بٹ نے کشمیر عظمی کو بتایا ’’طبی خدمات ہم ازخود بحال نہیں کرسکتے کیونکہ اس پر حکومت کو فیصلہ لینا ہے‘‘۔میڈیکل سپر انٹنڈنٹ نے کہا ’’ہم نے انتظامیہ سے دیگر طبی خدمات بحال کرنے کی اجازت طلب کی ہے لیکن ابھی تک سرکار نے اسکی اجازت نہیں دی‘‘۔ سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں کشمیر صوبے کے تمام اضلاع سے چھاتی کے امراض میں مبتلا مریضوں کو خصوصی علاج کیلئے بھیجا جاتا ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے اسپتال میں او پی ڈی خدمات بند کردی گئیں‘‘۔سی ڈی اسپتال میں شعبہ امراض چھاتی کے سربراہ ڈاکٹر نوید نذیر نے کہا ’’ او پی ڈی کھولنے کی سرکاری کو درخواست دی گئی ہے لیکن ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سرکار کے فیصلے کا انتظار ہے اور جونہی سرکار اجازت دیگی او پی ڈی کو چالو کیا جائیگا۔