جموں//جموں میں روایتی بھائی چارے کی مثال اُس وقت دیکھنے کوملی جب گذشتہ روزسکھ برادری کی سرکردہ شخصیات نے آپسی بھائی چارے اورخیرسگالی کے جذبے کوفروغ دینے کیلئے مکہ مسجد بٹھنڈی میں مسلمان بھائیوں کواپنے ہاتھوں افطاری کروائی۔ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لیڈروں نے اس عزم کااعادہ کیاکہ اسلام اور سکھ دھرم کاآپس میں گہراتعلق ہے چونکہ دونوں مذاہب کی بنیادعقیدہ توحیدپرمبنی ہے اورامرتسرکے ایک مذہبی مقام کی بنیادبھی ایک مسلم روحانی بزرگ کے ہاتھوں ہی رکھی گئی تھی جواس بات کابین ثبوت ہے کہ دونوں مذاہب کس قدرفکری طورپر ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ اس موقعہ پربولتے ہوئے مقررین نے زوردے کریہ بات کہی کہ وہ کسی بھی صورت میں آپسی بھائی چارے کے ماحول کوکمزورنہیں ہونے دیں گے۔اس موقعہ پر BAMCEF نامی تنظیم کے نمائندے بھی موجودتھے جنھوں نے افطاری مجلس میں شریک ہوکر ہندومسلم بھائی چارہ قائم رکھنے کے عزم کااعادہ کیا۔مکہ مسجدکی انتظامیہ کی جانب سے ان تمام مہمانوں کاشکریہ اداکیاگیا اورسکھ برادری کویہ یقین دلایاگیاکہ مسلم طبقہ ہر دورمیں اُن کے شانہ بشانہ کھڑارہے گااورآپسی بھائی چارہ اوررواداری کی ہرتحریک میں ان کاساتھ دے گا۔ اس موقعہ پرتقریباً ایک ہزارلوگوں نے ایک ساتھ افطاربھی کی اورپھرنمازمغرب باجماعت ادا کی۔سکھ برادری کی نمائندگی سرداراوتارسنگھ خالصہ جنرل سیکریٹری گورودوارہ پربندھک کمیٹی جموں نے کی جبکہ سردار منندرجیت سنگھ ببرنے ڈیموکریٹک یونائٹیڈفرنٹ کی نمائندگی کی۔اس موقعہ پرراشٹریہ مسلم مورچہ کے جسارت خان اوربی اے ایم سی ای ایف کے امردیپ سنگھ نے بھی شرکت کی۔