یہ ایک سرکاری سکول کی بات ہے، جو کہ ہائی سطح تک کا ہے۔ پچھلے سال کے تعلیمی سیشن میں یہاں 56 ؍میں سے صرف 8؍ بچے ہی کامیاب قرار پائے ۔ اس طرح سے کامیابی کی شرح محض 14؍ فیصد رہی۔ متعلقہ سکول کے ہاں 20؍ نفری پر مشتمل تدریسی و غیر تدریسی عملہ بھی کام کرتا ہے۔ حکام نے سکول کے حوالے سے بروقت انفارمیشن بھی مہیا کرلی۔ اس انفارمیشن کو حاصل کرنے کا مقصد سکول کی اس مایوس کن کارکردگی پر کاروائی کرنا تھا، لیکن ابھی تک کوئی بھی کاروائی نہیں کی گئی۔ اسی سال سکول کے عملے کو قریباً سَوا کروڑ روپے بھی سرکاری خرانے سے بطور تنخواہ ادا کر دی گئی۔ جہاں تک سکول کے انفراسٹریکچر کی بات ہے تو وہ بھی تسلی بخش ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ اس سب کے باوجود کارکردگی اتنی غیر تسلی بخش رہی؟ سوا کروڑ روپیوں کے عوض صرف 4؍ بچوں کو کامیاب کرایا گیا ۔ جہاں باقی سکولوں کے بچوں نے زبردست کامیابی حاصل کر لی، وہیں اس سکو ل کے اندر کس چیز کا فقدان ہے کہ کارکردگی اتنی مایوس کن رہی؟
سکول کے ہیڈماسٹر کو مع اپنے عملے ،سے جب ایسے ہی کچھ سوالات پوچھے گئے تو پہلے انہوں نے اپنی ناکارہ کارکردگی کا بر ملا اعتراف کر دیا۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ’ ہمارے ہاں آٹھویں پاس کرنے کے بعد جو بھی بچے آتے ہیں ، وہ اس پایہ کے نہیں ہوتے کہ براہ راست دسویں کے امتحان کو پاس کر سکیں۔ یہاں بھیجے جارہے بچے چاہے پرائمری پاس کر کے آئے ہوں یا آٹھویں پاس کر کے، اُن کو بنیادی سطح پر ہی خراب چھوڑا جارہا ہے۔ اب محض ایک یا دو سال کے اندر ہی ہم کس طرح ایسے بچوں کو دسویں کے امتحان کو پاس کرانے کے قابل بنا سکیں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پری پرائمری اور پرائمری سطح پر بچوں کی طرف خاص دھیان دینا چاہیے۔ لیکن بد قسمتی سے ان کلاسوں کو یکسر ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہاں دسویں یا بارہویں کو ہی اہم سمجھا جاتا ہے‘۔
اسی دوران ایک اور استاد نے اپنا نقطہ نظر کچھ یوں بیان کر دیا کہ ’ اللہ شاہد ہے کہ ہم کتنا محنت کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں جو بچے بھیجے جارہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ان کو کچھ پلے پڑتا ہی نہیں۔ اب اگر آپ ان کو کچھ ڈرائیں یا دھمکائیں، تو وہ سکول ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کو پڑھانا کارِ درد والا معاملہ بن جاتا ہے‘۔ ایک مثال پیش کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ’ ہمارے ہاں کچھ بچے وردی پہن کے نہیں آرہے تھے۔ ایک استاد نے جوں ہی ان سے کہا کہ وہ وردیاں پہننے کے پابند ہیں، تو ان میں ایک طالب علم نے عین موقع پر ہی سکول چھوڑ دیا۔ جب ایک دوسرے استاد نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس بچے نے کچھ نہ مانی۔ جب آپ ایسے بچوں کو ہمارے ہاں صرف دسویں پاس کرنے کے لیے بھیجتے ہیں تو خدار ا یہ بتائیں کہ ہم کریں تو کریں کیا ‘۔والدین کے اوپر تنقید کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ’ سرکار بھی جانتی ہے کہ بچوں کی تعلیم کو لے کر صرف سکول اور استاد ہی سب کچھ نہیں ہے۔ بلکہ والدین کو بھی اس حوالے سے سنجیدگی دکھانی چاہیے۔ جب وہ خود بچے کے حوالے سے sensitive نہیں ہیں تو بھلااس میں مارنے کو صرف استاد ہی کیوں رہ گیا ‘۔
ایک دوسرے استاد جو کہ اس گفتگو کو خاموشی سے سن رہے تھے ،نے اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے براہ راست اپنے آپ کو خطا وار تسلیم کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ میں سرکار سے ایک موٹی رقم بطور تنخواہ لیتا ہوں۔ میرے لیے یہ فرض ہے کہ میں اپنی ساری فکر محض اسی کام پر لگائوں کہ کس طرح سے ہمارے بچے اعلیٰ سے اعلیٰ پرفارم کر سکیں۔ بچے میں کوتاہیاں ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے تو وہ بچہ کہلاتا ہے۔ یہ ہماری ذمہ واری ہے کہ ہم اپنے پیشے سے انصاف کریں اور بچوں کے تئیں اپنی ساری صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں‘۔
اس گفتگو میں شریک ایک اور نوجوان استاد نے کہا کہ’ جہاں آپ کا آدھے سے زیادہ سیشن لاک ڈائون کی نذر ہو، جہاں بچوں کا استاتذہ کے ساتھ رابطہ ہی منقطع ہو، وہاں کسی خیر کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ باقی سکولوں نے پھر ہم سے بہتر کارکردگی کیسے دکھا دی۔ اس کے لیے میں آپ کو واشگاف الفاظ میں بتانا چاہوں گا کہ باقی سکولوں کے بچے جن سنٹرس میں امتحان دے رہے تھے وہ امتحان گاہیں کم اور گھپوں کے قلعے زیادہ لگ رہے تھے۔ ہمارے بچے جن سنٹرس میں امتحان دے رہے تھے وہاں حد سے زیادہ strictness رکھی گئی۔ میں اس بات کا اظہار نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن اظہار کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی تو نہیں ہے‘۔
اس گفتگو سے جو بات سامنے آگئی وہ یہ ہے کہ سکولی تعلیم کے ساتھ جتنے بھی المیے منسلک ہیں وہ ہمہ جہت(multi-dimensional) ہیں۔ یہاں کسی ایک فریق(stakeholder) کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔ اس میں والدین اور استاتذہ کے ساتھ ساتھ پالیسی ساز اور ا علیٰ حکام بھی برابر کے ساتھ شریک ہیں اور مل کر ہی اس مسئلہ کا حل نکالاجاسکتا ہے۔
نوٹ: چنانچہ امتحانات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ زیر نظرمضمون میں درج بات گو کہ پچھلے سال کی ہے، لیکن ایسی باتیں ہمیںآئے سال سننے کو ملتی ہیں۔ اسے پہلے کہ ہمیں کوئی اور ایسی ہی بات سننے کو ملے، با ت کی تہہ تک جانے کی ضرورت ہے۔
(مضمون نگار جامعہ کشمیر میں شعبہ سماجی ورک کے محقق ہیں)
رابطہ۔[email protected]