عظمیٰ نیوزڈیسک
خرطوم//سوڈانی فوج کے ایک سینیر کمانڈر نے پڑوسی ملک کینیا کی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ سوڈان میں 100 سے زائد دنوں سے جاری خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے امن فوجی دستے بھیج رہا ہے۔سوڈانی فوج کے سینیر عہدیدار کینیا کی طرف سے امن فوجی دستوں کو بھیجنے کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے سنگین نتائج پر خبردار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرکینیا کی طرف سے سوڈان میں فوجی بھیجے گئے تو ان میں سے کوئی بھی زندہ واپس نہیں جائیگا۔سوڈانی فوج اور نیم فوجی ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان تین ماہ سے زاید عرصے سے لڑائی جاری ہے۔ سوڈان میں جاری محاذ آرائی روکنے کے لیے بین الاقوامی ثالثی کی بہت سی کوششیں ہوچکی ہیں، لیکن کوئی بھی 15 اپریل کو شروع ہونے والی لڑائی کو ختم کرنے یا روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔اس ماہ کے شروع میں بین الحکومتی اتھارٹی آن ڈویلپمنٹ (IGAD) ایک مشرقی افریقی علاقائی بلاک جس میں کینیا بطور رکن شامل ہے نے سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں امن فوجیوں کی تعیناتی سمیت ایک اقدام کی تجویز پیش کی تھی۔سوڈانی فوج نے کینیا کی قیادت میں پیش قدمی کو بار بار مسترد کرتے ہوئے اس پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی امن فوجیوں کو دشمن قوتیں تصور کریں گے۔