عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// صارفین کے تنازعات سے متعلق ازالہ کمیشن بارہمولہ-بانڈی پورہ نے دو عمرہ زائرین کا سامان گم ہونے کے معاملے میں ایئرلائن کمپنی ‘انڈیگو ‘ کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے کمیشن نے گروگرام میں قائم اس ایئرلائن کو کل 1.19 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔کمیشن میں شکایت محمد مقبول حکیم ولد حبیب اللہ حکیم اور ان کی اہلیہ فرحت آرا دختر غلام رسول ڈار ساکنہ کرنکشوان کالونی سوپور، ضلع بارہمولہ نے دائر کی تھی۔ شکایت کنندگان نے 15 اپریل 2025 کو کمیشن سے رجوع کیا اور انڈیگو ایئرلائنز پر ناقص سروس فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔شکایت کے مطابق جوڑے نے سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی انجام دی اور واپسی کے لیے دمام سے دہلی کے راستے سرینگر تک ایک ہی پی این آر پر ٹکٹ بک کیا تھا، جس میں دیگر زائرین بھی شامل تھے۔
درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ دمام ایئرپورٹ پر ایئرلائنز عملے نے گروپ کے سامان کو بغیر مناسب جانچ کے یکجا طور پر سنبھالا۔دہلی ایئرپورٹ پہنچنے پر جوڑے کو معلوم ہوا کہ پانچ میں سے ان کا ایک بیگ غائب ہے۔ انہوں نے فوراً پراپرٹی اریگولیریٹی رپورٹ (PIR) درج کرائی اور ٹکٹ نمبر 20439273 کے تحت ایئرلائن میں شکایت بھی درج کی۔اگرچہ ایئرلائن نے یقین دلایا تھا کہ 14 دن میں مسئلہ حل ہو جائے گا، لیکن گم شدہ سامان کبھی نہیں ملا۔ بعد میں 15 مارچ 2025 کو ایئرلائن نے یہ کہتے ہوئے دعویٰ مسترد کر دیا کہ سامان کی تاخیر ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔اس کے خلاف شکایت گزاروں نے کہا کہ یہ معاملہ تاخیر کا نہیں بلکہ ایئرلائن کی “سراسر لاپرواہی” کا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گم شدہ بیگ میں عمرہ کے دوران خریدی گئی مقدس اشیا سمیت تقریباً 89 ہزار روپے کی قیمتی چیزیں تھیں۔ انڈیگو ایئرلائنز، جس کی نمائندگی اس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سرینگر ایئرپورٹ کے مقامی دفتر کے ذریعے ہونی تھی، سماعت کے دوران کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔کیس کی سماعت کے بعد کمیشن، جس میں صدر نیلا یاسین اور رکن پیرزادہ قوسر حسین شامل تھے، نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا سامان ایئرلائن کی تحویل میں گم ہوا اور کیا یہ سروس میں کمی کے زمرے میں آتا ہے۔اپنے فیصلے میں کمیشن نے کہا: “یہ بات متنازع نہیں کہ شکایت گزاروں نے پرواز میں سفر کیا اور پانچ بیگ جمع کرائے، لیکن صرف چار ہی واپس ملے۔”بنچ نے مزید کہا کہ پی آئی آر جمع کرانے کے باوجود “سامان کا سراغ نہیں ملا” اور ایئرلائن صرف یہ کہتی رہی کہ سامان تاخیر کا شکار ہے۔ایئر کیریج ایکٹ 1972 کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ اگرچہ ایئرلائن کی ذمہ داری کی کچھ حدود ہیں، لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے مناسب معاوضہ دینا ضروری ہے۔ کمیشن نے کہا: “ذاتی سامان میں عام طور پر موجود اشیا کی نوعیت، شکایت گزاروں کو پیش آنے والی پریشانی اور ایئرلائن کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے مناسب معاوضہ دینا درست ہے۔”کمیشن نے شکایت کو منظور کرتے ہوئے انڈیگو ایئرلائن کو 89 ہزار روپے گم شدہ سامان کی قیمت کے طور پر ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ 20 ہزار روپے ذہنی اذیت، ہراسانی اور تکلیف کے لیے اور 10 ہزار روپے مقدمے کے اخراجات کے طور پر دینے کی ہدایت دی گئی۔کمیشن نے حکم دیا کہ یہ رقم 30 دن کے اندر ادا کی جائے، بصورت دیگر پوری رقم پر فیصلے کی تاریخ سے 10 فیصد سالانہ سود بھی لاگو ہوگا۔