یہ حقیقت اب نمایاں ہورہی ہے کہ ہمارے بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی ساخت پر سوشل میڈیا کے گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔عالمی ادارۂ صحت اور مختلف ممالک میں ہونے والی تحقیق ،نفسیاتی ماہرین کی آراء اور تعلیمی اداروں کے مشاہدات سے یہ بات اُبھررہی ہے کہ غیر محدود اور غیر نگرانی شدہ ڈیجیٹل ماحول بچوں میں اضطراب، احساسِ کمتری، تنہائی اور خود اعتمادی کے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ اسکرین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی جسمانی،اخلاقی اور ذہنی قوت پربُرےتاثرات پڑ رہے ہیں۔ کیونکہ کمسن اور نابالغ بچوںمیں ضبط، اعتدال اور خود نگرانی کی مکمل طور پرصلاحیت موجود نہیں ہوتی ہے،جس کے باعث اُن میں نیند کی کمی، مطالعے سے دوری، توجہ کی کمزوری پیدا ہوجاتی ہے،جواُن کے تعلیمی اور فکری سفر کو نقصان پہنچا تےرہتے ہیں۔حالانکہ یہ کہنا بالکل غلط ہوگاکہ سوشل میڈیا سراسر منفی شۓ ہے کیونکہ اِس پلیٹ فارم نے تعلیم، معلومات، سماجی بیداری اور اظہار کے بے شمار مواقع فراہم کردیئے ہیں۔
جس سےظاہر ہورہاہے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اس کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر متوازن استعمال کا ہے۔شائد اسی لئےدنیا کے کئی ممالک میں کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیاکے استعمال پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یورپ میں عمر کی حد، والدین کی اجازت اور ڈیٹا تحفظ کے قوانین کو سخت کیا گیاہے، جبکہ امریکہ میں مختلف ریاستیں اسکرین ٹائم اور عمر کی تصدیق جیسے اقدامات کی طرف قدم بڑھارہی ہیں۔ ان تمام فیصلوں کا بنیادی مقصد قطعاًآزادیٔ اظہار کو محدود کرنا نہیں بلکہ بچوں کو ایک ایسے ڈیجیٹل ماحول سے بچانا ہے جو اُن کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی نشوونما کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔بے شک اس جدید دور میں ٹی وی، انٹرنیٹ اور موبائل کی بے تحاشا اور غیر مناسب رسائی نے کم سن بچوں اور نوجوان نسل کی ذہن سازی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ایسے میں جب والدین اور اساتذہ تربیت اور کردار سازی پربھرپور توجہ نہیں دیتے تو نوجوان نسل بھٹکنے لگتی ہے اور معاشرے میں اخلاقی زوال کا رُجحان تیزی سے پھیلتا جارہا ہے، اسی طرح معاشرے میں حکومت کا غیر سنجیدہ رول، قانون کی کمزور گرفت اور انصاف میں تاخیرسے جہاں خرابیاں و بُرائیاں فروغ پارہی ہیں ،وہیں جرائم میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہیں،جبکہ سوشل میڈیا اور جدید ڈیجیٹل دنیا کی بے لگام رسائی سے یہ صورتِ حال دن بہ دن سنگین ہوتی جارہی ہے۔ بغیر ِنگرانی کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال نے کمسن بچوں کو ایسے مواد تک پہنچا دیا ہے جو اُن کی فطری معصومیت اور سوچ کو بگاڑ رہی ہے۔
غیر اخلاقی مواد کی آسان دستیابی، نامناسب ویڈیوز اور بے ہنگم آن لائن آزادی نے ذہنی اور سماجی سطح پر تباہ کن اثرات مرتب کردیئےہیں، جس کے نتیجے میں معاشرہ رفتہ رفتہ عدم توازن اور اخلاقی انتشار کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ظاہر ہے کہ جس معاشرے میں بُرائیاں اورخرابیاں عام ہوجاتی ہیں ، اُس معاشرے میں جرائم کی رفتار میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ،جس سے خوف ،عدم ِ تحفظ اور بے اعتمادی کا ماحول جنم لیتا ہےجبکہ احساسِ عدم تحفظ نہ صرف افراد کی ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرتی نظام کو بھی متزلزل کر دیتا ہےاور اس صورت ِ حال سے معاشرے میں انتشار جنم لیتاہے، ساتھ ہی قانونی و انتظامی ڈھانچے کے لئےبھی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔اس لئے لازم ہے کہ ہم اپنےبچوں کے لئے اپنے گھروں میں ایسا تربیتی و تفریحی نظام قائم کریں ،جو نہ صرف صاف و ستھرا ہو بلکہ مثبت اور اخلاقی معیار کے مطابق ہو، تاکہ بچوں کی ذہن سازی پر کوئی منفی اثر نہ پڑے ۔والدین کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں اور نوجوان اولاد کی بہتر تربیت میں ہرگز کوتاہی نہ برتیں اور سوشل میڈیا کے استعمال کے معاملے میںاُن کی نگرانی کریں،اُن کی سرگرمیوں اور روابط پر مناسب نظر رکھیں اوراس بات ذہن نشین رکھیں کہ ہر معاملے میںاصل سوال توازن، حدود اور ذمہ داری کا ہےاور بچوں کے معاملے میں غیر جانبداری کا مطلب خاموشی نہیں بلکہ باشعور، مدلل اور دور اندیش فیصلہ سازی ہے۔ ایک ایسا نظام جو بچوں کو محفوظ رکھے، اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دے، اُنہیں حقیقی دنیا سے جوڑے رکھے اور ساتھ ہی ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں سے باخبر بھی کرے۔