ماہِ رمضان کو ہم سے الوداع ہوتے ہوئے اب تقریباً بیس دن ہوئے ہیں۔عید یعنی خوشی، گویا ماہ شوال کے پہلے ہی دن مسلمانوں کو اْن تمام خوشیوں کی نوید سنائی گئی کہ جس میں زندگی اور آخرت کی فلاح کا دارومدار ہے۔ خوشی اس بات کی کہ مسلمانوں نے اس پورے مقدس ماہ میں حتی المقدور عبادت کا ایک تربیتی کورس حاصل کر کے اپنے لیے راہِ راست کا صحیح ڈھنگ پایا ہے۔ خوشی اس بات کی بھی ہے کہ رب الزوجلال نے مسلمانوں کے سارے گناہوں کے معاف ہونے کا وعدہ فرمایا ہے۔خوشی اس بات کی بھی ہے کہ مسلمانوں کو ان ایام سے گزار کر وہ کچھ سیکھایا گیا ہے جو انہیں بظاہر مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ مسلمانوں نے دیکھا کہ مسلسل نماز پڑھنے میں وقت ضائع نہیں ہوتا بلکہ چند منٹ کے عوض بدنی عبادت کی ادائیگی سے قلبی سکون میسر ہوتا ہے۔ ایک مومن نے پایا کہ جو لوگ آج کے اِس نام نہاد جدید اور ترقی پسند دور میں اسلام پر چلنے کو مشکل ہی نہیں گنواتے بلکہ ناممکن قرار دیتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں، وہ اْس پر چلنے کو کتنی آسانی محسوس کر گئے ہیں ۔روزوں کے دوران حلال چیزوں کے کھانے سے بھی اجتناب کرنا سیکھا۔
مسلمانوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ قرآن پاک کی تلاوت کا ہر روز اہتمام کرنے سے صرف اس کی حق ادائی نہیں ہوتی بلکہ اس کی تلاوت سے بے قرار دلوں کو چین و سکون میسّر ہوا ہے ، دماغ کو تازگی ملتی ہے، ایمان میں حلاوت پیدا ہوئی ہے، بدن میں قوت پیدا ہوئی ہے اور زندگی میں ایک عملی انقلاب برپا ہوا ہے۔ مسلمانوں نے یہ بھی عملی طور پہ دیکھا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے اْن کا مال کم نہیں ہوا ہے بلکہ اس میں پاکی اور مزید اضافہ ہوتا ہوا چلا گیا ہے اور ساتھ ہی اِس سے معاشرے پر اچھے مثبت نتائج نکل آئے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اختتام رمضان پہ اْن سے ایک ایسی خوشی عطا کی گئی ہے کہ اگر مسلمان اْس پر اپنی ثابت قدمی دکھائے تو اْس سے ہر روز خوشی کے دن کو یوم العید ہی محسوس ہوتا ہوا دِکھے گا۔ درحقیقت اسلام، خوشی کے پیغام کا دوسرا نام ہے۔ اسلام جب بھی اپنی اصل کے اعتبار سے تسلیم کیا گیا، تو ماحول پر اس کے اثرات ایسے پڑے کہ دنیا خوشیوں کا مسکن بن گیا ہے۔
ماہ شوال میں مسلمانوں کو ابتداء ہی میں جو عید کی خوشی ملتی ہے وہ رب الزوجلال کی طرف سے پہلے ایک انعام ہوتا ہے، ایک اعلان ہوتا ہے اور اس سے بڑھ کر ایک پیغام ہوتا ہے کہ " اے مسلمان آج کے بعد تو برابر ایسا ہے جیسے کہ تجھ سے کوئی خطا ہی نہیں ہوئی ہو ‘‘ کیوں کہ تو نے ماہ مبارک میں اللہ وحدہْ لاشریک کی فرماں برداری کی ہے اور فرماں برداری کا ایک مکمل چارٹ ' تقوی' حاصل کر کے اب وہ مقام پایا ہے جو اس کے گناہوں کی بخشش کا سبب بن گیا ہے۔ آپ کے حسنات کئی گْنا بڑھا دئے گئے ہیں ۔آپ کے سئیات گھٹا دئے گئے ہیں۔ آپ پہ اللہ رب العالمین کی خصوصی رحمت نازل فرما دی گئی ہے۔ اب آپ کا انتخاب اللہ کے خاص بندوں میں ہو چکا ہے جن کو عظیم نعمتوں کے حق دار ٹھرا کر اور بلند و بالا عالیشان محلوں کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔
حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’جو ایمان اور احتساب کے ساتھ ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھے ،اس کے تمام گناہ بخش دئے گئے ہیں ‘‘ گویا یکم شوال کے روز ایک مسلمان ایسا ہو جاتا ہے جیسا کہ اب دْنیا میں اِس کی نئی پیدائش ہوئی ہو۔ اب مسلسل پاک وصاف رکھنے کے لیے مسلمان کو ایک چارٹ دیا گیا ہے ، اس کے ہاتھ میں ایک پیغام نامہ تھما دیا گیا ہے کہ اگر میں اس پر ثابت قدمی سے رہا تو دنیا میں مجھے عزّت و اکرام کا مقام حاصل ہوگا اور آخرت کی ابدی زندگی میں جنت میری مقدر ہوگی۔ جو ہماری زندگی کی اصل عید ہوگی، لیکن اگر ثابت قدمی نہ رہے تو وہی کچھ پھر سامنے آئے گا جس سے انسان دوچار تھا۔ خوشیوں کے بدلے غم اور پریشانیاں ہمارا استقبال کرنے کے لیے تیار ہوں گی۔
ماہ شوال اگرچہ ایک طرف خوشی کا پیغام ہے تو دوسری طرف اس بات کا اشارہ بھی کرتا ہے کہ اگر پھر واپس مڑے تو ہمارا وہی حال ہوگا جو منکرینِ حق کا اس سے پہلے ہوا ہیں۔ دنیا ہمہارے لیے عذاب اور بد امنی کا گہوارہ بن جائے گا اور آخرت میں ابدی خسران نصیب ہوگا۔ اب انسان کے سوچنے کا کیا انداز ہے کہ وہ اس خوشی کو برقرار رکھے یا ابدی خسارے کا سودا کرنا چاہے؟ یہ سب انسان کی کوشش، جدوجہد، طلب اور اس کی عمل پر دار و مدار ہے۔
قرآن پاک کی ایک آیت کریمہ میں یوں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ’’ تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ ‘‘ (سورۃ النحل92)
درج بالا آیت کریمہ میں اس چیز کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ایک عورت مہینے بھر محنت و مشقت کے ساتھ سوت کاتے اور جب وہ تیار ہو جائے تو خود ہی اپنے ہاتھوں سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ ہمیں اس بات کی طرف قبل از وقت اشارہ کیا گیا ہے کہ اپنی کمائی پر پانی نہ پھیرنا جس سے وہ برباد ہو جائے کہ پھر ہاتھ ملنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہ رہے – بہر حال یہ نادانوں کا کام ہے، عقلمند کا نہیں۔
درحقیقت ایک مسلمان رمضان المبارک کے پورے مہینے میں اللہ کی فرماں برداری کرتا رہا، اللہ کے خوف کو دل میں بھٹائے رکھا ہوا ہے اور مسجد میں پنج وقتہ نماز کے ساتھ قیامِ لیل ادا کرتا رہا۔ اللہ کی راہ میں صدقات و خیرات بھی دیتا رہا ، روز تلاوت قرآن کا اہتمام کرتا رہا اور اس پر مزید ہر وہ احسن کام کیا جس سے روزوں میں روح پیدا ہو جاتی ہے، اور پھر ماہ شوال کے آتے ہی پورے مہینے کے تربیت شدہ پروگرام کو یکسر نظر انداز اور ترک کر کے خود اپنے طریقے پر چلے، یہ نادانی نہ ہوئی تو اور کیا ہے۔اس چیز کو محنت سے سوت کات کر اور پھر اپنے آپ ہی اِسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کے مانند فرمایا گیا ہے جو عقلمندوں کے لئے تدبر و تفکر کرنے کے لئے کافی ہے۔
لہٰذا ہمیں رمضان المبارک سے حاصل شدہ تربیت کے مطابق سال کے باقی گیارہ ماہ گزارنے کی عادت اپنے آپ میں پیدا کرنی چاہئے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک متقیانہ زندگی کا کردار ادا کریں۔ایسا نہ ہو کہ ہم شوال کا چاند دیکھتے ہی اْس باغی گھوڑے کی طرح بننا شروع نہ ہو جائیں جو اپنی راہ سے ہٹ کر نہ صرف اپنے مالک کا نافرمان ہوتا ہے بلکہ اپنی راہ میں آنے والی تمام چیزوں کو تباہ و برباد کر کے اپنے مالک کی مار کھاتا ہے بلکہ ساتھ میں عوام الناس کے غضبناک رویے کا شکار بھی ہوتا ہے اور بالآخر وہ بے بس، بے سہارا اور بے یار و مددگار ہوکر اپنے کئے پر پچھتاتے ہوئے اپنے آپ کو کوستا رہتا ہے۔اللہ رب العالین ہمیں قرآن و حدیث کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق بخشے۔
رابطہ۔ہاری پاری گام، ترال کشمیر
فون نمبر۔ 9858109109
������