نئی دلی// بھارت نے سندھ طاس آبی معاہدے کی رو سے حاصل پانی کو موثر طریقے سے استعمال میں لانے کیلئے تین اہم پروجیکٹوں پر فاسٹ ٹریک بنیادوں پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں دو ڈیمبوں کی تعمیربھی شامل ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ان تین پروجیکٹوں میںشاہ پور کنڈی ڈیمپ پروجیکٹ ،جبکہ پنجاب میں ستلج بیاس رابطہ نہراور اجھ ڈیمپ پروجیکٹ جموں وکشمیر شامل ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ سندھ اطس آبی معاہدہ کے تحت ان تین آبی ذخائر ستلج ،بیاس اور راوی کے پانیوں کا حق بھارت کو سونپا گیا جبکہ چیناب،جہلم اور سندھ کا پانی پاکستان کو دیا گیا ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آبی معاہدے کی رو سے بھارت کو ان تین دریائوں سے کل 186ملین ایکڑ فٹ میں سے 33ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے جوکہ اس پانی کا لگ بھگ20فیصد حصہ ہے ۔بھارت اس میں سے صرف93-94فیصد استعمال میں لاتا ہے ۔باقی پانی بغیر استعمال کئے پاکستان کی طرف چلا جاتا ہے۔جموں کے کٹھوعہ میں اجھ ڈیمب کی تعمیر بجلی کی پیداوار اور آبپاشی مقاصد کیلئے کی جارہی ہے ۔یہاں سے 196میگا واٹ بجلی پیدا کئے جانے کا تخمینہ ہے ۔جموں وکشمیر حکومت نے اس پروجیکٹ کی تعمیر کیلئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ مرکز کو ارسال کیا ہے۔