کشمیری افسانہ کے حوالہ سے نقادوں کا کہنا ہے کہ جنم لینے کے بعد کشمیری افسانوی ادب کو باقی زبانوں کے افسانوی ادب کی طرح ابتدائی قدم اٹھانے کے دوران جدوجہد نہ کرنا پڑی بلکہ کشمیری افسانہ جنم لیتے لیتے ہی کھڑا ہوگیا اور اختر محی الدین اور ہری کرشن کول جیسے قد آور افسانہ نگاروں کی انگلی تھام کر اس نے دوڑنا شروع کیا۔سچائی یہ ہے کہ کشمیری افسانہ انتہائی کم عمری میں ہی عالمی معیار کی دوڑ میں شامل ہوگیا۔یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ اس قافلہ کے ساتھ قدم ملاتے وقت ہمارے آج کل کے افسانہ نگار کی ٹانگیں کانپتی ہیںتاہم موجودہ زمانہ کے کچھ پُر اعتماد اور فن شناس افسانہ نگار سخت جان ثابت ہوئے اور اپنے قدم گاڑ کر بدلتے عالمی منظر نامہ کے ساتھ ساتھ کشمیری افسانہ کو بھی فنی و موضوعاتی اعتبار کے حساب سے ترقی کے نئے منازل کی طر ف لیجایا ۔ایسے ہی ہنر مند افسانہ نگاروں میں ایک نام مشتاق احمد مشتاق ؔ ہیں ۔
مشتاقؔ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیںمگر اُن کچھ سنگ ہائے میل کا ذکر کرنا لازمی ہے جو مشتاقؔ نے اپنے افسانوی سفر کے دوران عبور کئے ہیں۔مشتاقؔ نے 1982-83میں افسانے لکھنے شروع کئے اور1997میں اپنا پہلا افسانوی مجموعہ ’’یَتھ واوِ ہالے‘‘شائع کیا۔یہ آپ کی پہلی کوشش تھی او ر اس نے مشتاقؔ کو بحیثیت افسانہ نگار ادبی دنیا میں متعارف کرایا۔اس کے بعد مشتاق ؔسنجیدگی کے ساتھ افسانوی فن کی طرف متوجہ ہوئے اور2012میںاپنا دوسرا افسانوی مجموعہ’’آکھ‘‘شائع کیا۔یہ وہ کتاب ہے جس نے مشتاقؔ کو بحیثیت افسانہ نگار وہ پہچان عطا کی جس کی وجہ سے آج ہم افسانہ نگار مشتاق احمد مشتاق ؔ کو جانتے ہیں۔اس کتاب کو2014میںکلچرل اکیڈمی کی طرف سے BEST BOOK ایوارڈاور2018میںساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ بھی ملا۔ظاہر ہے کہ اس کتاب کا ہندوستان کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا جس کی وجہ سے مشتاقؔ نہ صرف کشمیری ادبی دنیا میں جانے جاتے ہیں بلکہ ہندوستان کی مختلف زبانوںکے ادبی حلقوں میں بھی مشتاق ؔکے جاننے والے لوگ موجود ہیں۔مشتاقؔ اپنے آپ کو ایک کامیاب افسانہ نگار ثابت کرکے رُکے نہیں بلکہ مسلسل لکھتے رہے اور اب ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ’’دُگوش‘‘ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
مشتاق ؔ کا زیر نظر افسانوی مجموعہ ’’دُگوش‘‘147صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں کل 16افسانے شامل ہیں۔مادی ترقی کی پختہ سڑکوں پر چل کر دور نظر آنے والے سراب کو پانی جان کر جو نظروں کا دھوکہ موجودہ زمانہ کے انسان کو ہوا اور ہورہا ہے ،اس مجموعہ کے تمام افسانے اُس نظر کے دھوکہ کی نشاندہی کررہے ہیں اور ترقی کے دھوکے میں اس حقیقت سے صرف ِ نظر کرنے والے انسان کو بار بار یہ بار کرواتے ہیںکہ دولت کی فراوانی نے جو نظروںکا دھوکہ آپ کو دیا ہے ،وہ اصل میں تنزل ہے ،ترقی نہیں۔مشتاق ؔ کے افسانوی فن کی ایک نمائندہ خصوصیت یہ ہے کہ یہ علامتی یا تجریدی جاموں میں لپیٹ کرفلسفہ یا مابعد طبعیات کے بڑے سوالات اٹھاکراپنے قاری پر روب جمانے کی کوشش نہیں کررہا ہے بلکہ اپنی کہانی کے ذریعے اپنے سماج کے ایسے روزمرہ کے مسائل کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے جو ہم سب کے مشترکہ اور حل طلب مسائل ہیں۔نشہ کرکے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پڑے شخص سے متعلق خود سے پوچھنے والا ’سوال ‘ہو یا پھرآصف کمال کی ناول استعمال کرکے سیاسی مفاد کو روبہ عمل لانے کا ’متیٔ آب ‘ہو ؛ شوہر کے کھو جانے کے بعد اکلوتے فرزند سے جدا ہونے خوف کادھوکہ ’دُ گوش ‘ہویا فرحت صاحب کے دماغ میں ہچکولے کھانے والے ریٹائرمنٹ کے خوف کا پیغام’شیچھ‘ ؛ بوڑے بیمار والد کو گھر لانے پر بیوی کے وطیرہ سے متعلق اشرف صاحب کا کا گماں’’گمانہ ‘‘ہو یا ناامیدی اور بے وفائی کی دھند’’وُنل‘‘ کو چیر کر غلام جیلانی کی اہلیہ کی ٹنل بنانے کی فکر ،غرض ا س مجموعہ کی ہر ایک کہانی اور ہر ایک کردارہمارے گرد و پیش میں رونما ہونے والے واقعات کی طرف ہم سب کی توجہ مبذول کراتے ہیںاور اپنی نظروں کا دھوکہ محسوس کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔مشتاق ؔحد سے زیادہ چابکدستی کا مظاہرہ کرکے فنی پیچیدگی کے نمونوں اور الفاظ کا استعمال کرکے استعاراتی اور اصلاحاتی اظہار کے ذریعے قاری کو نظروں کے دھوکہ سے دوچار کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیںبلکہ افسانہ کے پلاٹ اور کردار کے سماجی پس منظر کے مطابق ایسی تکنیک اور الفاظ کا استعمال کرتے ہیںجو قاری کو کہانی میں گھس کر وہی درد محسوس کرنے پر مجبور کردیتا ہے جو درد افسانہ نگار نے خود محسوس کیا ہے۔میرے اس بیان کی تائید مجموعہ میں شامل شاپھ،تھزر،شِشُر،امار اورگمانہٗ جیسے افسانے کررہے ہیں۔
ڈرگ ایڈیکشن ہمارے آج کل کے سماج کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس کو ایک طرف گزشتہ تین چار دہائیوں کی افرا تفری اور دوسری طرف حرام کمائی کی فراوانی فروغ دے رہی ہے اور ہم کسی نہ کسی انداز میں اس پر رائے زنی کررہے ہیںمگر مشتاقؔ افسانہ ’سوال ‘میں اپنے آپ سے اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑا کرکے ایک ایسا سوال قائم کرتے ہیں جو اس سماجی بدعت سے متعلق مشتاقؔ کی سنجیدگی کا فنکارانہ اظہار ہے ۔کوئی نشہ آور چیز پی کرغلاظت کے ڈھیر پر دراز پڑے شخص کو ہسپتال بھیج کر راوی اپنے سامنے بیٹھے کسی شخص (جو بعد میں کہیں نہیں ہوتا ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ راوی کا اپنا ضمیر تھا)سے پوچھتے ہیں؛
ترجمہ:’میرے اُس نوجوان کو غلاظت کے ڈھیر سے اٹھاکر کتوں سے بچا کر ہسپتال بھیجنا بڑ اکارنامہ تھا یا اُس نوجوان کا اس مقام تک پہنچنا بڑا المیہ تھا؟‘
یہ ایک ایسا سوال ہے جو اس مسئلہ سے متعلق سوچنے کے نئے پیمانے مقرر کرتا ہے اور مشتاق ؔکے انداز میں سوچنے کا تقاضا کرتا ہے ۔اسی افسانہ میں مشتاقؔ ہمارے دور کے افسانہ نگارو ں کے سامنے سماجی مسائل بھلا کر پری پیکر نازنینوں کے سراپا اور عام انسان کے اختیار سے باہر سیاسی الجھنوں کو اپنے افسانوںکے موضوعات بنا نے پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔یہ افسانوی ادب سے متعلق مشتاق ؔ کی سنجیدگی اور ذاتی رائے کا آئینہ ہے۔
گزشتہ تین دہائیوں کے پُر آشوب حالات نے کشمیری فرد کوسماجی ،سیاسی و نفسیاتی طور مصیبتوںمیں مبتلا کردیا۔یہ ہمارے افسانوی ادب کا بڑا محرک ہے اور مختلف افسانہ نگاروں نے اس دور سے وابستہ مسائل کو اپنے انداز میں زبان دی ہے ۔مگر مشتاق احمد مشتاقؔ ’دُگوش ‘افسانہ میں ایسے ایک ذہنی انتشار کا ذکر کررہے ہیںجو شاید کسی اور افسانہ نگار نے محسوس نہیں کیا ہے۔شوہر کے غائب ہونے کے بعد بیوہ ہونے یا نہ ہونے کا پتہ ہوئے بغیر محمودہ اپنے بیٹے کو سکالر شپ پر باہرکی یونیورسٹی میں ایڈمشن ہونے پر خوشی کے بدلے خوف کے شکنجے میں مبتلا ہوجاتی ہے اور اُس کو اُس بھیانک رات کا وہ دردناک منظر آنکھوںکے سامنے گردش کرتا نظر آتا ہے جب نقاب پوشوںنے اُس کے شوہر کو اٹھالیاتھا۔یہ ہماری نفسیات پر خوف کا وہ اثر ہے جس نے سوچ کے زاوئے بدل کر خوشیوں میں بھی مصیبتوں کی آہٹ سننے کی عادت پیدا کردی ہے۔
اپنی جائے پیدائش ،رشتہ دار وںاور یار دوستوں چھوڑ کر ترقی ،دولت حتاکہ سکون پانے کیلئے پرائے علاقہ میں جاکر گزر بسر کرناعملی طور دانائی کا فیصلہ ثابت نہیں ہواہے ۔ایسا فیصلہ کرکے اپنی مٹی اور ثقافت سے دور جاکر اپنوں سے جدائی کادرد جھیلنا مشتاق ؔ کا پسندیدہ موضوع ہے۔یہ جدائی کا کرب اکثر ان کے افسانوںمیں پایاجاتا ہے اور اس مجموعہ کے افسانہ ’امار‘کا موضوع بھی یہی جدائی کاکرب ہے۔سکون کی تلاش میں اگرچہ نذیر احمداپناتبادلہ کرواکے دلّی بھی پہنچ گئے لیکن اپنے بچپن کے حسین دن اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کو وہ بھلا نہ پائے۔افسانہ کا ایک نمونہ ملاحظہ کریں؛
ترجمہ: ’وہ اپنے آپ کو تنہا محسو س کرتا ہے اور کشمیر میں بچپن کے حسین دن اس کی یادوںکا پیچھا نہیں چھوڑتے ہیں ۔دہلی میں جس طرح ہر ایک نفسا نفسی کے عالم میں گرفتار ہے ،اس کے اس کا کبھی وارا نہیں تھا‘۔
اس جیسے موضوع کوایسی فنکاری کے ساتھ نبھانے کا مطلب یہ ہے کہ افسانہ نگار محض کسی افسانوی دنیا میں رہ کر افسانے نہیں کہتا ہے بلکہ اپنے سماج میں رہ کر روزمرہ کی زندگی کے دوران وہ سب محسوس کرتا ہے جو اُس کے آس پاس رونما ہورہا ہے اور اس کے بعد اپنے ثقافتی پس منظر کے ساتھ تخیل کا تال میل بٹھاکراس زبوں حالی کو اپنی زبان دیکر افسانہ پیدا کرتے ہیں۔
ہیرو افسانہ میں مشتاق ؔ مصائب میں گھری وادیٔ کشمیرکے حال کو ایک نئے انداز میں بیان کرتے ہیں۔کسی واقعہ میں کیوں کوئی ہیرو نظر نہیں آتا جواس ستم کو ختم کرکے ظلم کا باب بند کردیتا،اس سوال کے ارد گرد بُناگیا یہ افسانہ کشمیر کے ماضی اور حال اور حال سے وابستہ مجموعی حالات کا احاطہ کرتا ہے۔افسانہ کا مرکزی کردار ہر واقعہ میں ہیرو ڈھونڈتا ہے جو کشمیرکے بانی کشپ ریشی کی طرح دیو کو ہرا کرکے زندگی کو جلا عطا کرتالیکن ایک غیبی آواز اُس کی امیدوں کو چکنا چور کردیتی ہے۔
مشتاق ؔکے افسانوں کی بڑی بات یہ ہے کہ یہ ہمارے افسانے ہیں۔ہماری زمین او ر ہمارے سماج کے افسانے ہیں ۔مشتاق ؔ ذہنی اور ادبی طور اپنی روایات ،اپنے سماج او اپنی ثقافت کے ساتھ جڑے ہیںاور اپنے ہر ایک پلاٹ کو اسی سماج اور ثقافت کے اندر راہ کے کسی واقعہ کو اٹھاکربیان کرتے ہیں۔مشتاق ؔ کے افسانوںسے متعلق کشمیری ادب کے معروف ادیب اور نقاد پروفیسر مجروح رشید لکھتے ہیں؛
’افسانہ نگار(مشتاق احمد مشتاقؔ)افسانہ کی روایت میں مکمل طور اپنی فنکارانہ شخصیت تعمیر کرکے اپنے زمانہ کے گوناگوں مسائل ،پُر خطر مصائب اور خوش کرنے والے مسائل ایسے انداز میں بیان کرتے ہیںکہ قاری افسانہ نگار کے فن کے ذریعے کشمیری زندگی سے وابستہ مختلف مسئلوں اور ان کی شعوری ،تحت الشعوری اور لاشعوری اہمیت کا ادراک کرکے تجربات کی منہج پر پہنچ جاتے ہیںجو افسانہ نگار کے فن کا ایک معجزہ ہے‘۔
تجریدی اور تمثیلی افسانہ فی الحال مشرق کا عصری افسانوی رجحان ہوسکتا ہے مگر نئے تجربات اور تکنیکوںکے درمیان عالمی افسانہ آج ایک بار پھرچیخوف،موپاسان یا گورکی کے اُس کہانی پن کی تلاش میںسرگرداں ہے جس کو علامتی اظہار کے ابہام نے پردوںکے پیچھے چھپا لیا ہے۔اس حوالے سے مشتاق احمد مشتاقؔ کے سارے افسانے وہی کہانی پن لیکر نقادوں سمیت ایک عام قاری کو وہی حظ اٹھانے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں او ر کہیں کہیں جذبات کو ابھار کرتطہیر یا کیتھرسس کا کام بھی کرتے ہیں۔علامتی اور تمثیلی افسانوں سے درکنار کرکے ایک سیدھی سادھی کہانی میں توجہ طلب سماجی مسائل ابھاکر مشتاق ؔ اپنے آپ کو اُس چوتھے جنگل سے الگ کردیتے ہیں جس کے متعلق انتظار حسین کے مطابق زیادہ تر سفر کرنے والوںکو راستہ سے بھٹکنے یا راہ کھوجانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔مشتاقؔ کے افسانے حقیقت کے اتنے قریب ہیں کہ قاری کو کسی بھی جگہ اعتقاد کو التوا میں رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ۔یہ عصری افسانوی ادب کی خصوصیت بھی ہے اور مخلصانہ تقاضا بھی ۔مشتاق ؔ اپنی کہانی کے حقیقت پسندانہ پلاٹ کے مطابق زیادہ تر زو رُخی یعنی فلیٹ کردار پیدا کرتے ہیں جن میں قاری کو افسانہ کے اصل تک پہنچنے کیلئے کسی تیسری سمت یا سہ رُخی شخصیت یعنی رائونڈ کردار کی موجودگی کا پتہ لگانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔پلاٹ کے اس حقیقت پسندانہ پس منظر میں کرداروں کا غیر مبہم تشخص مشتاق ؔ کے انفرادی تشخص کا غماز ہے جو ان کے سبھی افسانوی مجموعوں میں موجود افسانوں کی خصوصیت ہے۔
جہاں تک افسانوں میں زبان کے برتائو کا سوال ہے ،یہ ہر ایک تخلیق کار کے انفرادی اسلوبیاتی اظہار کا طریقہ ہے۔جتنا ایک تخلیق کار اپنے اسلوب کو تخلیقی اظہار دے سکتا ہے ،اُتنا اُس کی فنکارانہ صلاحیت ابھر کرسامنے آتی ہے۔اس ضمن میں مشتاق ؔ ایسے ہی حقیقت پسندانہ اسلوبیاتی اظہار کو اپنی زبان بخشتے ہیں جتنا اُن کا حقیقت پسندانہ پلاٹ تقاضا کرتا ہے ۔اگر چہ مشتاقؔ کے افسانوںمیں مکالماتی طرز اظہار بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے ،مگر جہاں جہاں مکالمے کہے گئے ہیں،وہاں وہاں کردار کو سماجی ،ثقافتی ،اقتصادی اور طبقاتی پس منظر کے مطابق زبان دی گئی ہے ،جو افسانوی فن پر مشتاق ؔ کی دسترس کا ثبوت ہے ۔گوکہ کہیں کہیں غیر ضروری طوالت بھی دیکھنے کو ملتی ہے اور روایتی بیانوی تکنیک کی یک رنگی کچھ چبھتی سی ہے مگر موضوع کی رنگا رنگی اور افسانوی طرز اظہار کی مہک دار زبان ایسے چیزوںکو محسوس نہیں کرنے دیتی ہے۔
کتاب کی چھپائی شاندار ہے ۔سرورق خوبصورت ہے اور کاغذ کا معیار بھی اعلیٰ ہے ۔تاہم پروف ریڈنگ میں ذرا لاپرواہی برتی گئی ہے جس کی وجہ سے املا اور کمپوزنگ کے حوالے سے کچھ غلطیاں دیکھنے کو ملتی ہیں،جو دوسرے ایڈیشن میں دور کرنے کی ضرورت ہے ۔مجھے امید ہے کہ مشتاق احمد مشتاقؔ کے دوسرے افسانوی مجموعہ کی طرح ہی یہ تیسرا مجموعہ بھی اپنا مقام پانے میں کامیاب ہوگااور کشمیری افسانہ کو آگے بڑھانے میں اپنا رول ادا کرے گا۔میں اس تنقیدی مقالہ کو افسانہ نگارسے متعلق کشمیری زبان کے معتبر نقاد پروفیسر شفیع شوق صاحب کے اس قول کے ساتھ اختتام کو پہنچاتا ہوں جس میں وہ کہتے ہیں؛
’موضوع کا تنوع ،بیان کی روانی ،واقعہ نگاری اور کرداروں کی اندرونی و باہری جانکاری مشتاق ؔ کو اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں میں ممتاز بنادیتی ہے ۔وہ ایسے لوگوں کی طرح بیہودہ علامتوں اور تجریدوں کوکرداروں اور واقعات کی جگہ نہیں برتتے ہیںجن کے پاس اصل میں کہنے کو کچھ نہیںہوتا ہے اور وہ پھر یوںہی کچھ سری جیسی باتیں گڑھنے کی کوشش کرتے ہیں‘۔