ریتلے ڈیم کنکریٹ کا افتتاح، کہا بھارت اپنے مفادات کیلئے کام کریگا:مرکزی وزیر بجلی
عظمیٰ نیوز سروس
جموں // مرکز نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کسی پاور پروجیکٹ پر اعتراض کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔بجلی اور ہائوسنگ اور شہری امور کے مرکزی وزیر منوہر لال اتوار کو جموں پہنچے تاکہ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں این ایچ پی سی کے پن بجلی منصوبوں کا جائزہ لیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے ریتلے پروجیکٹ پر اعتراضات کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔مرکزی وزیرنے پاکستانی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے مفادات کیلئے کام کرتا ہے اور کام کرتا رہے گا، ہمیں کسی کی پرواہ نہیں کہ کون ملک کیا کہے گا۔کشتواڑ پاور پروجیکٹ قضیہ کے بارے میں وزیر نے کہا کہ پروجیکٹ میں کام کرنے والوں کے بارے میں کوئی شکایات آرہی ہے،یہ مقامی نوعیت کا مسئلہ ہےاور سے مقامی سطح پر ہی حل کیا جائیگا،اسکے لئےانکوائری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے تاہم کہا کہ جو ٹھیک لوگ ہیں انہیں کام ملنا چاہیے اور جو غلط ہیں انہیں کام نہیں ملنا چاہیے۔ ادھردورے کے دوران بھوپیندر گپتا، سی ایم ڈی، این ایچ پی سی نے وزیر کو جموں و کشمیر میں واقع این ایچ پی سی کے مختلف ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹوں کی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیا۔ انکے دو روزہ دورے میں ریاسی، رام بن اور کشتواڑ اضلاع میں واقع پروجیکٹوں کا معائنہ بھی شامل ہے۔منوہر لال نے سلال پاور پروجیکٹ کا دورہ کیا، جہاں انہیں جاری کاموں سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کارپوریشن کو سلال آبی ذخائر سے تلچھٹ ہٹانے کے کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع ریاسی میں دریائے چناب پر واقع سلال پاور سٹیشن سندھ طاس آبی معاہدہ کے خاتمے کے بعد تلچھٹ کو ہٹانے کا کام کر رہا ہے، جس کا مقصد جمع شدہ گاد کو ہٹانا اور آبی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ہے۔سلال پاور سٹیشن کے دورے کے دوران، وزیر نے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے پروجیکٹ کے احاطے میں شجرکاری مہم بھی چلائی۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ اور مختلف متعلقہ محکموں کے اعلی حکام سے بھی بات چیت کی تاکہ کاموں کی بروقت تکمیل کے لیے مربوط کوششوں کو یقینی بنایا جا سکے۔کشتواڑ کے راستے میں منوہر لال نے ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ (1856میگاواٹ)کا فضائی معائنہ کیا۔کشتواڑ پہنچنے پر، انہوں نے ریتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈیم کنکریٹنگ کے کاموں کا سنگ بنیاد رکھا اور پروجیکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کام کو موثر اور مقررہ مدت میں مکمل کریں۔