پرویز احمد
سرینگر//پھیپھڑوں کے سرطان میں سرینگر نے پورے ملک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور یہ پورے ملک میںسب سے زیادہ ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں ماحولیاتی آلودگی اور سگریٹ نوشی بنیادی وجہ قرار دی جارہی ہے۔ صورہ میں 24کروڑ روپے کی لاگت سے نصب کئے گئے نئے طبی آلات کی رسم رونمائی کے دوران ڈایکٹر سکمز ڈاکٹر محمد شرف گنائی نے کہا کہ کشمیر میں سگریٹ پینے والے لوگوں کی شرح 38فیصد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سکمز میں 20نئی سپر سپیشلٹیز کا آغاز کیا گیا ہے اور سکمز کو نئے شعبہ جات میں پوسٹ گریجویشن اور ایم سی ایچ کی نئی 140 نشستیں ملیں گی جس سے ہسپتال کو مزید 350کروڑ روپے کے فنڈس وصول ہونگے۔ ڈاکٹر گنائی نے بتایا کہ مختلف شعبہ جاتی کی ترقی اور نئے طبی آلات کی تنصیب پر 24کروڑ روپے صرف ہوئے ہیںجن میں 15کروڑ روپے مختلف شعبہ جات کی ترقی جبکہ 9کروڑ روپے کی لاگت سے نئے طبی آلات کو نئے گئے ہیں۔
ڈائریکٹر سکمز نے کہا کہ اس سال کے آخر تک 50فیصد طبی و نیم طبی عملے کی تقرری کا عمل مکمل ہوجائے گااور نئے عملے کے آتے ہی لوگوں کو سہولیت فراہم کرنے کا عمل تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’’ سکمز کو 20نئے شعبہ جات میں تربیتی کورسز شروع کرنے کی اجازت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبہ جات میں امراض اطفال جگر ، امراض اعصاب اطفال اور دیگر نئے شعبہ جات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے شعبہ جات میں سکمز کو 140 نشستوں کی اجازت مل گئی ہے جس سے نہ صرف عملہ دستیاب ہوگا بلکہ 140سیٹوں کیلئے 350کروڑ روپے بھی مرکزی سرکاری سے فراہم ہونگے۔ وادی میں سرطان کے پھیلائو پر بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر سکمز نے کہا ’’ملکی سطح پر سال 2021-22کے اعداد و شمار جمع کئے گئے ہیں جو آئندہ چنددنوں کے اندر اندر پورے ملک کے سامنے آئیں گے‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے توسکمز واحد وہ ادارہ ہے جہاں آئی سی ایم آر رجسٹری اور ہسپتال کے اعداد و شمار بھی موجود ہیں اور اس پر تحقیق جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اعدادو شمار کی ابتدائی جانچ پڑتال کے بعدمیں یہ بتاسکتا ہوں کہ سرینگر میں پھیپھڑوں کے سرطان کے مریضوں کی تعداد پورے بھارت میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر ضلع پھیپھڑوں کے سرطان کے معاملے میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے لیکن تمام اعداد و شمار آئندہ چند دنوں میں صحیح طریقے سے دیکھنے کے بعد پیش کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی سگریٹ نوشی اور ماحولیاتی آلودگی ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں 38فیصد لوگ سگریٹ نوشی کررہے ہیں جو ایک بڑی اوسط ہے کیونکہ یہاں مردوں کی بڑی تعداد سگریٹ پیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں پھیپھڑوں کا سرطان زیادہ پایا جاتا ہے۔ ڈائریکٹر نے کہا کہ کچھ لوگ جراثیم کش ادویات کو سرطان میں پھیلنے کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں لیکن صحیح تحقیق اور اعداد و شمار کے بغیر ہم اس پر کوئی بھی بات نہیں کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرطان کے حوالے سے آئندہ چند دنوں کے دوران ایک مفصل رپورٹ عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ سکمز جہاں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں پیش پیش ہے،وہیں تحقیق کے ساتھ ساتھ طبی تعلیم بھی فراہم کی جارہی ہے۔ اس موقع پر مختلف شعبہ جات میں 15کروڑ روپے کی لاگت سے مختلف مشینری نصب کی گئی جن میںکڈنی ٹرانسپلانٹ یونٹ کیلئے پورٹیبل آئیسولیشن یونٹ کے علاوہ دیگر طبی آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہسپتال انتظامیہ نے مختلف خدمات فراہم کرنے کیلئے 9کروڑ 30لاکھ روپے کی لاگت سے11یو ایس جی مشینیں، 20مانوں پرنٹر، 2مانوں فوٹو کوپیئر،8سکینر، 7کمپوٹر ورک سٹیشن، 30آل ان ون پرنٹر ، 440سرینج پمپ، 30ماڈولر مانٹرز اور 48انفیوژن پمپز شامل ہیں۔