وزیر اعلیٰ کی رابطہ دفتر میںعوامی نمائندوں کے ساتھ ملاقات
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کل سرکٹ ہاوس چرچ لین سرینگر میں نئے تعمیر شدہ اضافی رہایشی بلاک کا افتتاح کیا جس کا مقصد مہمان نوازی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانا اور معززین اور مہمانوں کیلئے سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔پروجیکٹ کو پبلک ورکس ( آر اینڈ بی ) ڈیپارٹمنٹ نے کیپیکس بجٹ کے تحت 781.34 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا ہے۔نئی سہولت تین منزلہ ڈھانچہ ہے جس میں ایک تہہ خانے ، زیریں منزل اور دو اوپری منزلیں شامل ہیں۔ اس بلاک میں 18 رہائش کے کمرے ہیں جن میں 12 معیاری کمرے اور چھ سوئٹ شامل ہیں ، جو آرامدہ اور جدید رہائش کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔رہائش کے یونٹوں کو جدید اندرونی اور روائتی کشمیری تعمیراتی عناصر کے امتزاج کے ساتھ جمالیاتی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔
کمروں میں وال پیپر والی دیواریں ، کھدی ہوئی ربڑ کی لکڑی کے بیڈبیک پینلز ، خاتمبند چھتیں اور پرتدار فرش شامل ہیںوزیر اعلیٰ نے نو تعمیر شدہ بلاک کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور سہولت کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے عمارت کی جمالیات ، تعمیر کے معیار اور اس کے اندرونی حصوں میں روائتی ڈیزائن کے عناصر کو سوچ سمجھ کر شامل کرنے کی تعریف کی۔اس دوران متعدد عوامی نمائندوں اور وفود نے کل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ان کے عوامی رَسائی دفتر ‘ رابطہ ‘میں ملاقات کی اور اَپنے حلقوں اور مختلف شعبوں سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔لداخ سے ممبر پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ نے لداخ میں پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے خدمات انجام دینے والے ملازمین اور کرگل پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔ وفود نے اَپنے اَپنے شعبوں سے متعلق مسائل اور مطالبات پیش کئے۔ ممبر قانون ساز اسمبلی بانڈی پورہ نظام الدین بٹ ،رْکن قانون ساز اسمبلی حضرت بل سلمان ساگر،رْکن اسمبلی بیروہ ڈاکٹر شفیع احمد وانی نے بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور اَپنے اپنے حلقے سے متعلق ترقیاتی اور عوامی فلاحی مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے مسائل کوبغور سْنا اور مناسب توجہ دینے کا یقین دِلایا۔چیئرپرسن جے اینڈ کے بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزامینیشنز (بی او پی اِی اِی) پروفیسر مینو مہاجن نے بھی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور انہیں بورڈ کے کام کاج اور جموں و کشمیر میں پیشہ ورانہ داخلہ امتحانات کے انعقاد سے متعلق مختلف امور کے بارے میں جانکاری دِی۔