عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// عام بجٹ کے بعد مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کے لیے ایک اہم اپ ڈیٹ سامنے آیا ہے۔ یہ خبر طویل انتظار کے مہنگائی الائونس(ڈی اے)سے متعلق ہے۔ جنوری 2026میں ڈی اے پر نظرثانی کا راستہ صاف دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ اہم AICPI-IWڈیٹا جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت محنت اور روزگار نے دسمبر 2025 کیلئے صنعتی کارکنوں کے لیے آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس (AICPI-IW) جاری کیا ہے۔ انڈیکس 148.2پر مستحکم رہا، اسی سطح پر جو نومبر 2025میں تھا۔ لگاتار دو ماہ تک انڈیکس اسی طرح رہنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت مہنگائی الانس میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ماہرین اور ملازمین تنظیموں کے مطابق مرکزی حکومت اس بار مہنگائی الانس میں پانچ فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو موجودہ 58 فیصد ڈی اے بڑھ کر 63 فیصد ہو جائے گا۔ آل انڈیا این پی ایس ایمپلائیز فیڈریشن کے صدر منجیت سنگھ پٹیل کے مطابق، تازہ ترین AICPI-IW ڈیٹا کی بنیاد پر، ڈی اے میں پانچ فیصد اضافے کا بہت زیادہ امکان ہے۔مہنگائی الائونس پر نظرثانی مرکزی حکومت سال میں دو بار کرتی ہے۔ایک بار جنوری میں اور ایک بار جولائی میں۔ جنوری 2026 کا ڈی اے نظرثانی اس دو سالہ عمل کا حصہ ہے۔ اس سے قبل جولائی 2025 میں حکومت نے مہنگائی الانس کو 55 فیصد سے بڑھا کر 58 فیصد کیا تھا۔مہنگائی الائونس ملازمین اور پنشنرز کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ روزمرہ کی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں تنخواہوں اور پنشن پر اثر انداز نہ ہوں، وقتا فوقتا ڈی اے پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس (AICPI-IW)مہنگائی الانس کا حساب لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈی اے فیصد کا حساب پچھلے 12 مہینوں کے اوسط انڈیکس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ موجودہ ڈی اے میں اضافے کی مقدار کا تعین کرنے کے لیے ایک مقررہ فارمولہ استعمال کیا جاتا ہے۔