مشتاق الاسلام
پلوامہ//ضلع انتظامیہ پلوامہ نے غیرقانونی کان کنی کے خلاف سخت اور مربوط کارروائی کرتے ہوئے لدو پانپور، پدگام پورہ، کنڈی زال اور ٹنگہار میں بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کیا۔ اس دوران غیرقانونی معدنیات نکالنے کیلئے بنائے گئے عارضی راستوں کو مسمار کیا گیا اور دریائے جہلم کے کناروں پر پہنچنے والے نقصان کی بحالی کا کام بھی عمل میں لایا گیا۔ یہ مشترکہ کارروائی محکمہ جیالوجی اینڈ مائننگ، فلڈ کنٹرول ڈپارٹمنٹ اور اونتی پورہ پولیس کی جانب سے انجام دی گئی، جس کے نتیجے میں پدگام پورہ اور کنڈی زال پانپور میں دریائے جہلم سے غیرقانونی طور پر ریت نکالنے میں ملوث 15افراد کو گرفتار کیا گیا۔ سرکاری عہدیدار کے مطابق اس غیرقانونی سرگرمی سے دریا کے حفاظتی پشتوں کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے سیلاب کا خطرہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ماحولیات کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوئے۔دریں اثناء ٹنگہار پلوامہ میں محکمہ جیالوجی اینڈ مائننگ کی جانب سے اچانک چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک جے سی بی کو ضبط کیا گیا، جسے غیرقانونی کان کنی میں استعمال کیے جانے کا الزام ہے۔ایک اہم قانونی پیش رفت میں پولیس اسٹیشن اونتی پورہ نے ایف آئی آر نمبر 273/2025 (دفعات 303(2)اور 324(4)بھارتیہ نیائے سنہتا)کے تحت درج مقدمہ کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ منرل آفیسر (ڈی ایم او)پلوامہ سے رجوع کیا ۔ تفتیش کے دوران پدگامپورہ میں دریائے جہلم کے پشتے کے قریب سے 50مربع فٹ ریت کوضبط کیا گیا۔ پولیس نے تفتیش کی تکمیل اور قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ویلیویشن سرٹیفکیٹ کے اجرا کی باضابطہ درخواست بھی کی ۔عہدیدار نے واضح کیا کہ ضلع انتظامیہ کی غیرقانونی کان کنی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رہے گی اور ایسے مربوط آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ دریائی ماحولیاتی نظام، فلڈ کنٹرول انفراسٹرکچر اور سرکاری محصولات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور قانون شکن عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔