عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//نئے سال 2026کی شروعات ملک کے کروڑوں سرمایہ کاروں کیلئے فکرمندی کا سبب بن سکتی ہے۔ مرکزی حکومت جنوری تا مارچ کی سہ ماہی کیلئے اسمال سیونگز اسکیموں کی شرحِ سود پر ازسرِنو غور کرنے جا رہی ہے اور ماہرین کے مطابق اس بار شرحِ سود میں کمی کا امکان مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق پبلک پروویڈنٹ فنڈ (PPF)، سکنیا سمردھی یوجنا اور سینئر سٹیزن سیونگز اسکیم جیسی مقبول اور محفوظ سرمایہ کاری اسکیمیں اس کٹوتی کی زد میں آ سکتی ہیں۔ حکومت اسمال سیونگز اسکیموں کی شرحِ سود مقرر کرنے کیلئے شیاملا گوپی ناتھ کمیٹی کے فارمولے پر عمل کرتی ہے، جس کے تحت شرحیں سرکاری بانڈز کی پیداوار (Yield)سے منسلک ہوتی ہیں۔گزشتہ چند مہینوں میں 10سالہ سرکاری بانڈز کے منافع میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو اوسطاً 6فیصد کے آس پاس رہی۔ فارمولے کے مطابق 0.25 فیصد اسپریڈ شامل کرنے پر پی پی ایف کی شرح تقریبا ً6.80فیصد بنتی ہے، جبکہ اس وقت سرمایہ کاروں کو 7.10فیصد سود دیا جا رہا ہے یہی فرق آئندہ کمی کی بنیاد بن رہا ہے۔آر بی آئی کی پالیسی بھی اہم سبب سال 2025کے دوران ریزرو بینک آف انڈیا نے ریپو ریٹ میں تقریباً 1.25فیصد کی کمی کی، جس کے بعد بینکوں نے بھی فکسڈ ڈپازٹ کی شرحیں گھٹانا شروع کر دیں۔اس کے ساتھ ساتھ خوردہ مہنگائی میں کمی نے حکومت کو سود کی شرح میں نرمی کیلئے مزید گنجائش فراہم کی ہے۔ملک میں لاکھوں افراد، خاص طور پر سینئر سٹیزن، اپنی باقاعدہ آمدنی کیلئے ڈاک خانہ کی اسکیموں پر انحصار کرتے ہیں۔چونکہ ان اسکیموں میں کروڑوں افراد کی زندگی بھر کی بچت لگی ہوئی ہے، اس لیے حکومت کیلئے شرحِ سود میں کسی بھی قسم کی کٹوتی ایک انتہائی حساس اور نازک فیصلہ ہوگا۔