محمد تسکین +عظمیٰ نیوز سروس
بانہال +سرینگر//کشمیر میں شبانہ شدید سردی سے کچھ راحت ملی ہے کیونکہ زیادہ تر مقامات پر کم سے کم درجہ حرارت میں اضافہ ہوا لیکن نقطہ انجماد سے کافی نیچے رہا۔ حکام نے اتوار کو کہا کہ سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی 1.6 ڈگری سیلسیس کے نیچے رہا جب کہ گلمرگ جموں و کشمیر کا سب سے سرد مقام تھا جہاں کم سے کم 10.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا، جو ایک رات پہلے منفی 12 ڈگری تھا۔ پہلگام منفی 6.2 ، قاضی گنڈ میں منفی 3.1 جب کہ کوکرناگ میں منفی 5 ڈگری سیلسیس اور کپواڑہ میں منفی 3.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔کشمیر میں گزشتہ جمعہ کو موسم کی پہلی بڑی برف باری ہوئی اور پیر یعنی 26جنوری کو ایک اور مغربی ڈسٹربنس جموں و کشمیر پر اثر انداز ہونے کا امکان ہے، جس کے زیر اثر زیادہ تر مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش یا برفباری کا امکان ہے۔حکام نے بتایا کہ پیر 26جنوری کی رات سے27جنوری منگل کی دوپہر تک چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ تیز ہوائوں کا امکان ہے۔اس کے بعد 3 فروری تک موسم بنیادی طور پر خشک لیکن جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ادھرجموں سری نگر شاہراہ دو دن کے بعد جزوی طور پر ٹریفک کے لیے بحال کی گئی۔جموں سرینگر قومی شاہراہ کو اتوار کے روز جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ، اور نویوگ اور ناشری ٹنل کے درمیان پھنسے ہوئے گاڑیوں کونکالنے کی کوششیںکی گئیں۔ حکام نے اتوار کو بتایا کہتاہم، مغل روڈ، سرینگر-سونہ مرگ-گمری روڈ اور سنتھن روڈ موجودہ موسمی حالات کی وجہ سے بند ہیں۔ مسلسل دو دن تک بند رہنے کے بعد اتوار کی صبح سے جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ پر جزوی طور پر ٹریفک کو بحال کیا گیاہے ۔ ٹریفک حکام کے مطابق ضلع رام بن کے رامسو سے بانہال ٹنل تک شاہراہ سے برف ہٹانے کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا، جس کے بعد گاڑیوں کی جزوی آمدورفت بحال کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ جھکینی(اودھمپور) اور قاضی گنڈ سے درماندہ مسافر بردار گاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر اپنی اپنی منزلوں کی طرف جانے کی اجازت دی گئی ۔