مینڈھر //سب ڈویژن مینڈھر کی سرحدی پنچایت ’گھانی ‘میں بجلی پانی و سڑکوں کےساتھ ساتھ دیگر بنیای سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے لوگ پسماندہ طرزکی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔مقامی لوگوں و پنچایتی اراکین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ضلع انتظامیہ اور انتظامیہ کے زیر تحت کام کرنے والے محکموں کی جانب سے سرحدی گاﺅں میں بنیادی سہولیات کی فراہم نہیں کی جارہی ہیں جبکہ لوگ مختلف سرکاری دفاتر میں چکر کاٹ کر بے بسی کی حالت میں آگئے ہیں ۔مقامی سرپنچ شفیق چوہدری نے بتایا کہ گاﺅں میں 150سے زائد ایسے کنبے موجود ہیں جن کے گھروں کے قریب محکمہ بجلی کی جانب سے اس جدید دور میں بھی پختہ کھمبے نصب نہیں کئے جاسکے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں بجلی نظام سبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں کے حوالے کیا گیا ہے جو کہ انسانوں کےساتھ ساتھ دیگر جانوروں کےلئے انتہائی خطر ناک ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے شروع کردہ ’گاﺅں کی اور ‘پروگرام میں علاقہ میں بجلی کے پختہ کھمبوں کی فراہمی ودیگر مانگیں درج کروائی گئی تھی جس میں سے ابھی تک بجلی کے 4کھمبے فراہم کئے گئے ہیں ۔پنچایتی اراکین نے بتایا کہ محکمہ کے ملازمین بجلی کا ماہانہ بل ارسال کرنے کےلئے پسماندہ علاقوں کی جانب آتے ہیں جبکہ شعبہ کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کےلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایاجارہا ہے ۔عام لوگوں نے بتایا کہ تحصیل منکوٹ کی سرحدی پنچایت ہونے کی وجہ سے سڑکوں اور پانی جیسی دیگر بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں جبکہ متعلقہ محکموں و مقامی انتظامیہ کےساتھ ساتھ پونچھ انتظامیہ سے بھی رجوع کر چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں و پنچایتی اراکین نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ گھانی پنچایت میں بجلی ،پانی ودیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔