مینڈھر//سخی میدان ۔کلائی روڈ کا چار گلیاری منصوبہ منظور ہو اہے جس پر مینڈھر کے نیشنل کانفرنس کارکنان نے ممبراسمبلی جاوید احمد رانا کی ستائش کی ہے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میںاین سی کارکنان کاکہناہے کہ سب ڈویژن مینڈھر میں یوں تو کوئی ایسا گائوں نہیں جہاں عوام کو بنیادی سڑک رابطہ میسر نہ ہوتاہم اس پروجیکٹ کو منظور ی دلانا قابل ستائش اقدام ہے۔ این سی کی ایک میٹنگ میں بولتے ہوئے آفتاب ساگر نے کہا کہ ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید احمد رانا نے جہاں زندگی کے ہر ایک شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مثالی منصوبے منظور کروائے ہیں وہیںسخی میدان کلائی سڑک جو کہ مینڈھر میں ایک تاریخی سڑک کی حیثیت رکھتی ہے،کو پی ایم جی ایس وائی کے تحت منظوری دلائی گئی ہے جس کی تعمیر کا کام جلد ہی شروع ہونے والا ہے اوراس کی تکمیل کے بعد لوگ ضلع صدر مقام پرکم مسافت میں پہنچ سکیںگے ۔انہوںنے کہا کہ سرنکوٹ مینڈھر سڑک اور سنگیوٹ سڑک پر تار کول بچھانے کا کام جلد ہی مکمل ہونے والا ہے اوران منصوبوں کی حصولیابی کے لئے ممبر اسمبلی مینڈھر نے سخت کوششیں کیں۔ان کاکہناتھاکہ اسمبلی حلقہ مینڈھر جغرافیائی لحاظ سے اس طرح بکھرا ہوا ہے کہ مشرق سے مغرب تک پہنچنے میں دو دو دن گزر جاتے ہیں لیکن آج اس بنیادی سڑک رابطوں کی بدولت مختصر سے وقت میں عوام اپنے معاملات کے سلسلہ میں با آسانی آ جا سکتے ہیں۔ایک اور کارکن محمد رشید مغل نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ممبر اسمبلی نے شعبہ تعلیم میں بے مثل اور قابل صد آفرین کام انجام دیتے ہوئے پرائمری سطح تک بلکہ یونیورسٹی تک منظور کروا یاہے ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے حاجی میر محمد نے کہا کہ مینڈھر کے بعض سیاست دان سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے منظور شدہ منصوبوں کو اپنے نام رقم کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں حالانکہ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی بھی منصوبہ ممبر اسمبلی کی جانب سے حتمی منظوری ملنے کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ان کاکہناہے کہ اگر کوئی پروجیکٹ منظور ہو جاتا ہے تو اس کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش میں رہتے ہیں اور اگر خدا نخواستہ کوئی منصوبہ منظور نہیں ہو سکا یا کسی تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر منظور ی میں تاخیر ہو گی تو اس کا ذمہ دار ممبر اسمبلی مینڈھر کو ٹھہرایا جاتا ہے اور جو منصوبے منظور ہو جاتے ہیں ان کے مالک سب بن جاتے ہیں۔