سْومو ڈرائیوروں پر ہراسانی اور تشدد کے الزامات،تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
جاوید اقبال
مینڈھر// مینڈھر–پونچھ شاہراہ پر واقع سخی میدان چوک اْس وقت احتجاج کا مرکز بن گیا جب بڑی تعداد میں آٹو رکشا ڈرائیور اپنے مطالبات کے حق میں سڑک پر نکل آئے اور دھرنا دے کر شدید احتجاج کیا۔ احتجاج کے باعث کچھ وقت کے لئے شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی جبکہ مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔احتجاجی آٹو رکشا ڈرائیوروں نے الزام عائد کیا کہ سْومو ڈرائیور دانستہ طور پر انہیں مختلف روٹس پر گاڑیاں چلانے سے روک رہے ہیں اور آئے دن انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کے مطابق کئی مواقع پر انہیں راستے میں زبردستی روکا گیا، بدزبانی کی گئی اور بعض ڈرائیوروں کی جانب سے جسمانی تشدد کی دھمکیاں بھی دی گئیں، جس کے باعث وہ شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔احتجاج میں شریک ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ زیادہ تر غریب اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کر کے اپنے خاندانوں کا گزر بسر کرتے ہیں، مگر مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کی وجہ سے ان کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ان کے لئے اپنے پیشے کو جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ڈرائیوروں نے مزید الزام لگایا کہ اتوار کی صبح بس اڈہ مینڈھر کے قریب ایک سْومو ڈرائیور نے ایک آٹو رکشا ڈرائیور کو گاڑی سے زبردستی اتار کر مبینہ طور پر مارپیٹ کی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔احتجاجی مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک حکام سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیں اور آٹو رکشا ڈرائیوروں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام مسافر بردار گاڑیوں کے لئے ایک منصفانہ، شفاف اور مساوی نظام نافذ کیا جائے تاکہ کسی بھی ڈرائیور کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو اور ہر شخص بلا خوف و خطر اپنا روزگار جاری رکھ سکے۔مظاہرین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ علاقے میں مبینہ غنڈہ گردی اور دھمکی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ قانون کی عملداری برقرار رہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔احتجاج کے دوران ڈرائیوروں نے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی بھی کی اور خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں مزید سخت احتجاجی اقدامات کیے جا سکتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔مقامی لوگوں نے بھی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے لے اور دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسئلے کا پْرامن حل نکالا جائے تاکہ عوام کو درپیش سفری مشکلات کا خاتمہ ہو اور علاقے میں معمولاتِ زندگی بحال رہیں۔