سرینگر//سیاسی ،سماجی اورمذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے حالیہ ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی فرقے کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے اورجموں کشمیرمیں فرقہ وارانہ بھائی چارے کو کسی طور زک پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ حالیہ ہلاکتوں سے ساراجموں کشمیرلرزاُٹھا ہے اورلیفٹینٹ گورنر کو نہتے عوام کی حفاظت کیلئے کمر بستہ ہوناچاہیے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا ،’’جموںوکشمیر کے اطراف و اکناف میں یہ سوال وسیع پیمانے پر اٹھایا جا رہا ہے کہ گذشتہ چند دنوں میں جن افراد کو قتل کیا گیا ہے ، انہوں نے کس خطا کی سزا پائی ہے‘‘۔انہوں نے کہاکہ ان معصوم لوگوں کے قتل سے سارا جموںوکشمیر لرز اُٹھا ہے ۔ مس سپندر کور ایک ٹیچر تھی اور اپنی ایمانداری کیلئے اُس کو پہچانا جاتا تھا۔ اس کے خاندان نے سوال اٹھایا ہے کہ اُس کو کس گناہ کی سزا دی گئی ہے۔ یہی سوال دوسرے تباہ حال کنبے اٹھا رہے ہیں۔بندرو، گورو اور سپندر کور کے خاندان پوچھتے ہیں کہ اُن کے پیاروں کو کس چیز کی سزا دی گئی ہے۔سوز نے کہاکہ میرا دل ان غمزدہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت سے بھر گیا ہے۔میں لیفٹیننٹ گورنر سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ نہتے عوام کی حفاظت کیلئے کمربستہ ہو جائے اور ان غمزادہ خاندانوں کیلئے رفاقت اور ہمدردی کے فوری اقدامات کرے۔پیپلزکانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے حالیہ ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ پر زوردیا کہ وہ بلند بانگ دعوئوں کے بجائے لوگوں کے ساتھ بات کریں جودہائیوں سے سے یہاں آس پاس ہیں۔انہوں نے انتظامیہ کو صلاح دی کہ وہ ذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے بلندبانگ دعوے کرناچھوڑ دے۔سجاد لون نے کہا کہ لگتا ہے آنے والاوقت ہمارے لئے مشکل ہوگااورہر دن نئی مشکل آن پڑے گی۔اپنی پارٹی کے شیڈیول ٹرائب ونگ صدر سلیم چوہدری نے پچھلے چند روز سے کشمیر میں معصوم شہریوں کے بہیمانہ قتل کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔ صورتحال کو تشویش کن قرار دیتے ہوئے سلیم چوہدری نے کہاکہ حکومت کو سیکورٹی صورتحال میں بہتری لانے کے لئے اقدامات اُٹھانے چاہئے جوکہ وادی کشمیر میں عرصہ دراز سے رہائش پذیر اقلیتی طبقہ کے لوگوں کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں خوف وڈر ہے لیکن حکومت کو چاہئے کہ اہلیان ِ کشمیر کی سلامتی وحفاظتی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ بائز ہائر اسکینڈری اسکول عیدگاہ ڈاؤن ٹاؤن سرینگر میں ٹیچر دیپک چند مہرا، اسکول پرنسپل ستندر کور کا قتل غیر انسانی ہے جس کی پرزور الفاظ میں مذمت کی جانی چاہئے۔فلاح دارین ویلفیئرسوسائٹی اننت ناگ کے چیئرمین محمد یوسف چراغ نے وادی میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں پرصدمے اوردکھ کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔چراغ نے ایک بیان میں لوگوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے اپنی اوراپنے ادارے کے تمام اراکین کی طرف سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ کویی مذہب بے گناہوں لوگوں کوقتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی کشمیرمیں فرقہ وارانہ تانے بانے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو کئی دہائیوں سے برقرار ہے۔
اننت ناگ میں ہلاکتوں کیخلاف بھاجپا کا احتجاج
عارف بلوچ
اننت ناگ//اننت ناگ میں بی جے پی کارکنوں نے حالیہ ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کیا ۔وادی میں گذشتہ کئی روز سے اقلیتی فرقے کے لوگوں کو بندوق برداروں کے ہاتھوں مارے جانے کے واقعہ کے خلاف اننت ناگ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاجی جلوس نکالا ۔کھنہ ہاوسنگ سے پارٹی کے نائب صدر صوفی یوسف کی قیادت میں ایک احتجاجی جلوس بر آمد ہوا، جلوس میں شامل کارکنوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اقلیتی فرقے کے لوگوں کو’ مارنا بند کرو، معصوم شہریوں کا قتل عام بند کرو‘ نعرے درج تھے۔جلوس میں شامل لوگ ٹی آر ایف نامی تنظیم کے خلاف نعرے بلند کر رہے تھے اور قتل عام میں ملوث افراد کو فوری طور بے نقاب کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوفی یوسف نے کہا کہ پاکستان کے اشارے پر یہاں اقلیتی طبقے کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اقلیتی طبقہ کشمیری سماج کا حصہ ہے، لہذا ایسے حربوں سے یہاں کے صدیوں پرانی بھائی چارے کو زک نہیں پہنچایاجاسکتا۔