ملک منظور
نور، ستاروں کے خاندان کی ایک چمکدار اور پیاری بیٹی تھی، جسے خدا نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ صبحِ صادق کے وقت آسمانِ اوّل سے نکلتی اور رفتار کی حدوں کو پار کرتے ہوئے ہمارے نیلے کرے کی طرح دکھنے والی زمین پر پہنچ جاتی۔ اس کی آمد پر ہوا میں ایک نرم سی خوشبو پھیل جاتی، دل کو چھونے والی روشنی چاروں طرف بکھر جاتی، اور زمین ایک خوابیدہ خوبصورت عورت کی طرح آنکھیں کھولتی۔
پھر وہ پھولوں اور غنچوں کو گہری نیند سے جگاتی، شبنم سے نہلاتی، رنگ بھرتی اور خوشبو سے مہکاتی۔ ننھے غنچے بھی جاگ کر پھول بن جاتے، ان کی پنکھڑیاں کھل کر مسکراہٹیں بانٹتیں اور ہوا میں ایک میٹھی سی سرگوشی چلتی۔ اسی طرح نور درختوں اور پودوں میں زندگی کی چاہت جگاتی، انہیں کام پر لگاتی اور پھل تیار کرنے کی ترغیب دیتی۔
زمین کو سبز گھاس کے مخملی لباس سے آراستہ کرتی، جو پاؤں تلے ایک نرم سی چادر کی طرح محسوس ہوتی، اور پرندوں کو چہچہانے پر اکساتی، جن کی آوازیں دل کو سکون دیتیں۔ فصلیں لہلہاتیں، گلیشیئر پگھلتے اور سمندر بھاپ بن کر موسم کو خوشگوار بناتے۔ یوں زندگی باغِ بہاراں بن جاتی، ہر طرف ایک گہری خوشی اور امید کی لہر دوڑ جاتی، اور ہر سانس میں قدرت کی محبت محسوس ہوتی۔
لوگ کہتے:
“نور تو زندگی کی روح ہے، اس کے بغیر سب کچھ ویران!”
ایک دن اچانک نور غائب ہو گئی۔ کئی دن گزر گئے، مگر اس کا کوئی پتہ نہ چلا۔ سب نے ڈھونڈا مگر ہاتھ خالی رہے۔ نور کی جدائی میں دل ٹوٹ سے گئے، آنکھیں نم ہوئیں اور ایک گہری اداسی چھا گئی۔ پھول مرجھا گئے، ان کے رنگ اُڑ گئے اور خوشبوئیں غائب ہو گئیں، جیسے کوئی عزیز چلا گیا ہو۔ فصلیں بے وقت برباد ہو گئیں۔ پھل درختوں سے گر کر ضائع ہو گئے۔ دریا خشک ہو گئے، زمین کا سرسبز لباس جل کر راکھ بن گیا۔
موسم نے کروٹ بدلی اور ہاہاکار مچ گئی۔ دل میں خوف اور مایوسی کی لہر اٹھی۔ پرندے اور چرندے بھوک پیاس سے آخری سانسیں گننے لگے، ان کی چیخیں دل کو چیر دیتیں۔ زندگی موت کی تمنا کرنے لگی، ہر طرف سناٹا اور درد کی چیخ سنائی دیتی۔
لوگوں کے من میں ایک ہی سوال تھا:
“نور غائب کیسے ہو گئی؟!”
یہ سوال دل کو کھا رہا تھا، آنکھوں میں آنسو اور سینے میں جلن تھی۔
کافی کھوج کے بعد معلوم ہوا کہ ایک کالے دہشتگرد نے نور کو سیاہ جیل میں قید کر رکھا ہے۔ وہ دہشتگرد آلودگی کا دیو تھا، جو فیکٹریوں کے دھوئیں، گاڑیوں کی زہریلی گیسوں اور پلاسٹک کے ڈھیروں سے پلتا تھا۔ اس کی سیاہ شکل دیکھ کر دل دہل جاتا، اور اس کی بدبو سینہ گھونٹ دیتی۔
لوگ حیران ہو کر سوچتے:
“یہ کالا دہشتگرد کون ہے؟”
ایک شخص نے دور پہاڑوں پر کالے دھوئیں کے بادل دیکھے، جو آسمان کو ڈھانپے ہوئے تھے، جیسے غم کا سمندر چھا گیا ہو۔ لوگوں کو غصے نے لال کر دیا۔ دل میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے جلدبازی میں ایک منصوبہ بنایا اور دہشتگرد پر بم گرائے، لیکن وہ اور زیادہ طاقتور ہو گیا۔ اس کی ہنسی ایک خوفناک گونج بن گئی۔
پھر انہوں نے لڑاکا جہازوں سے اس کی دیواریں گرانے کی کوشش کی، مگر وہ اور مضبوط ہوتی گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے نقلی بارش برسائی، لیکن کالے دہشت گرد پر کوئی اثر نہ پڑا۔ کالے دہشتگرد نے آہستہ آہستہ ماحول میں گرمی کی تمازت بڑھا دی۔ ہوا جلنے لگی، سانس لینا دشوار ہو گیا۔
پھر ایک دن نور کی دو سہیلیاں، انفرا اور الٹرا، بھی اوزون پرت سے گزر کر زمین پر آ گئیں۔ اوزون پرت نور کے سوا کسی کو زمین پر آنے نہیں دیتی تھی، لیکن دہشتگرد نے اسے اتنا کمزور بنا دیا تھا کہ وہ انفرا اور الٹرا کو روک نہ سکی۔
ان کے آنے سے درختوں کی چھال جل گئی، جلنے کی بدبو پھیل گئی۔ انسانوں اور جانوروں کی جلد بھی جھلس گئی۔ ان کے بدن پر جھلسنے کے بلبلے ظاہر ہو گئے۔ وہ درد سے کراہنے لگے، چیخیں آسمان کو چیرنے لگیں۔ عورتیں اور بچے تڑپ تڑپ کر مرنے لگے، ان کی آہیں دل توڑ دیتیں۔ نوجوانوں کی سانسیں پھولنے لگیں۔ سارے علاج و معالجے بیکار ہو گئے، امید ختم ہو گئی۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے۔
تمام گلیشیئر پگھل گئے اور سمندروں کی سطح اتنی بلند ہو گئی کہ بڑے بڑے شہر ڈوب گئے۔ بستیاں برباد ہو گئیں اور شہر اجڑ گئے۔ یوں آباد سیارہ برباد ہو گیا۔ ہر طرف موت کا رقص تھا، دل میں گہرا غم اور پچھتاوا۔
پھر ایک دن نئی نسل نے یہی قصہ کتابوں میں پڑھا۔ انہوں نے دانشوروں کو بلایا اور تحقیق کی تو پتہ چلا کہ دہشتگرد کی طاقت زمین سے ملنے والی غذائی سپلائی، یعنی آلودگی، سے ہے۔ اسے کمزور کرنے کے لئے دھوئیں کی جڑیں کاٹنی ہوں گی اور نور کے بھائی سبزہ زار (سبزار) کو ہر جگہ پھیلانا ہو گا۔
دل میں نئی امید جاگی۔ ماحول دوست اقدامات کئے گئے: فیکٹریوں پر پابندیاں لگائیں، گاڑیوں کی آلودگی کم کی، پلاسٹک بند کیا اور درخت لگانے کی مہم چلائی۔ بچوں نے اسکولوں میں عملی طور پر کام کیا، ان کے معصوم ہاتھوں سے امید کے بیج بوئے گئے۔ بڑوں نے گھروں اور بازاروں میں سبزہ زار کو دعوت دی۔
“سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے” کا اصول اپنایا گیا، یعنی آلودگی ختم ہو مگر ترقی نہ رکے۔ سبزہ زار نے میدانوں، پہاڑوں اور شہروں میں اپنے قدم جما لئے۔ درختوں کی چھاؤں بڑھی، ہوا صاف ہوئی، دل کو سکون ملا۔ کالے دہشتگرد کی طاقت دھیرے دھیرے کمزور پڑ گئی۔ اس کا سیاہ مکان گرنے لگا اور نور آزاد ہو گئی۔
نور کی واپسی پر زمین پھر سے ہری بھری ہو گئی۔ قدرت نے بارشیں برسائیں، پھول کھل اٹھے، پھل لَد گئے اور پرندے چہچہانے لگے۔ لوگ خوشی سے پھولے نہ سمائے، آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ نور نے مسکرا کر کہا:
“میری جدائی نے تمہیں سکھا دیا کہ زندگی کا توازن سبزہ زار سے ہے۔ آلودگی تو اندھی ناگن ہے جو سب کچھ نگل جاتی ہے۔”
اب لوگ ہر سال درخت لگاتے اور کہتے:
“صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔”
محنت سے زمین پھر باغ بن گئی۔ کالے دہشتگرد نے دوبارہ نور کے راستے بند کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ راستے میں ہی زائل ہو جاتا۔ اسے دوبارہ موقع نہ ملا۔ ماحول صاف ستھرا ہو گیا، نور چمکتی رہی اور زندگی حسین و جمیل بن گئی۔
���
قصبہ کھل کولگام،موبائل نمبر؛9906598163