ڈاکٹروں کی عدم دستیابی پر لوگو ں کے ساتھ ساتھ ممبر اسمبلی بھی برہم
اشرف چراغ
کپوارہ// شمالی کشمیر کے کپوارہ کو ضلع کا درجہ دیئے ہوئے اب 40سال سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن ابھی تک یہا ں لوگو ں کو بہتر طبی سہو لیات دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے آئے روز یہا ں کے مریضوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔سب ضلع اسپتال کپوارہ کو اس لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ اسپتال ضلع کے دور دراز جن میں مژھل ،کیرن ،جمہ گنڈ ،چوکی بل،بڈنمل اور لولاب کے لوگو ں کے لئے واحد امید ہے تاہم مزکورہ اسپتال میں بار بار طبی اورنیم طبی عملے کی شکایت برقرار ہے ۔صورتحال کا انداز ہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہفتہ کے روز اسپتال میں کوئی بھی ماہر امرا ض ڈاکٹر دستیاب نہیں تھا جس کی وجہ سے حاملہ اور درد ذہ میں مبتلا خواتین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔اسپتال میں جن حاملہ خواتین کو ہفتہ کے روز اسپتال میں داخل ہو نے کا مشورہ دیا گیا وہ یہ جان کر حیران رہ گئی کہ اسپتال میں کوئی بھی ماہر امرا ض ڈاکٹر موجود نہیں تھا جس کے نتیجے میں مریضوں نے احتجاج بھی کیا اور متعلقہ ممبر اسمبلی کپوارہ میر محمد فیا ض بھی وہا ں پہنچ گئے اور محکمہ صحت پر برس پڑے ۔معلوم ہونے پر پتہ چلا کہ جس ڈاکٹر کو ہفتہ کے روز ڈیو ٹی تھی انہیں ایک روز قبل ہی یہا ں سے تبدیل کر کے سب ضلع اسپتال کرنا ہ کے لئے روانہ کیا گیا جس کی وجہ سے سب ضلع اسپتال میں کوئی بھی ماہر امرا ض ڈاکٹر موجود نہیں تھا ۔ڈاکٹرو ں کی عدم موجودگی کے معاملہ نے جب طول پکڑا تو چیف میڈیکل آفیسر کپوارہ ڈاکٹر ظفر کو اس ماہر امرا ض خواتین کو ہفتہ کی 4بجے اسپتال لانا پڑا جس نے دو روز دورات لگا تا ر اپنی ڈیوٹی نبھائی تھی ۔ممبر اسمبلی کپوارہ نے سوال اٹھایا کہ جب سب ضلع اسپتال کپوارہ میں پہلے ہی ماہر امرا ض ڈاکٹرو ں کی کمی ہے تو ایسے میں ایک اہم ڈکٹر کاتبادلہ لانا کہا ں کا انصاف ہے ۔مزکورہ اسپتال میں ماہر امرا ض خواتین کی دو اسامیا ں ہیں جو عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں اور اس کی طرف کوئی بھی توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔اسپتال میں اس وقت میڈیکل آفیسر جنہو ں نے گائنی کا لجوسٹ میں ڈپلو ا کیا ہے لیکن کوئی ماہر امرا ض خواتین ڈاکٹر موجود نہیں ہے ۔ممبر اسمبلی کپوارہ کے ساتھ ساتھ مقامی لوگو ں نے بھی سوال کیا کہ 1979کو کپوارہ کو ضلع کا درجہ تو مل گیا لیکن ضلع میں طبی نظام بالکل غیر فعال ہے اور 40سال گزرنے کے باجود بھی یہا ں کا طبی نظام کو درست نہیں کیا گیا جو اس پسماندہ ضلع کے لوگو ں سے ایک مذاق ہے اور آج کے جدید طور میں بھی یہا ں کے زیادہ تر مریضوں کو ہندوارہ ،بارہ مولہ اور سرینگر منتقل کیا جانا ایک معمول بن گیا ہے ۔