منڈی/اگر چہ ریاستی سرکار کی جانب سے ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی میں سب ضلع اسپتال کی نئی عمارت کروڑوں روپے خرچ کر کے تعمیر کی گئی مگر اس عمارت میں لوگوں کے لیے ماہر ڈاکٹروں کا کوئی بھی انتظام نہیں ہے ۔ذرائع کے مطابق ریاستی سرکار نے 1978میں منڈی تحصیل کے لیے اس اسپتال کا قیام کیا گیا تھا تب تحصیل منڈی کی آبادی کافی کم تھی لیکن 38سال گزر جانے کے بعد تحصیل کی آبادی کافی حد تک بڑھ گئی ہے ۔ دو لاکھ سے زاید آبادی والی تحصیل منڈی کے لیے محض ایک ہی سب ضلع اسپتال ہے جہاں پر ماہر ڈاکٹروں کی تمام اسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ اسپتال کا کام کاج نیشنل ہیلتھ مشن اور چند مستقل ڈاکٹروں سے چلایا جا رہا ہے جو کہ 2لاکھ سے زاید آبادی کے لیے نہ کے برا بر ہیں ۔اسپتال میں محض آٹھ ڈاکٹر تعینات ہیں جبکہ سرجن فزیشن ماہر اطفال اور ماہر زنانہ اور دوسرے ماہر ڈاکٹروں کی کل پانچ اسامیاں ہیں اور پانچ اسامیاں خالی ہیں جبکہ اسسٹنٹ سرجن ڈاکٹروں کی نو اسامیاں اسپتال کے لیے ہیں جن میں سے محض تین پر ڈاکٹر کام کر رہے ہیں جبکہ چھ اسامیاں خالی ہیں یہاں کی عوام کو ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے علاج کے لیے پونچھ ضلع اسپتال یا جموں اور وادی کے اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔محمد معشوق ولد مخر دین ساکنہ ساوجیاں منڈی نے اس حوالے سے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی حکومت کے مشکور ہیں جنہوں نے منڈی اسپتال کی عمارت کو نئے طرز پر تعمیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال کی عمارت کا کوئی فایدہ نہیں ہے جب تک اس میں ماہر ڈاکٹروں کو تعینات نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں محض چند ہی ڈاکٹر تعینات ہیں جن پر پوری تحصیل کا بوجھ ہے انہوں نے کہا کہ اس اسپتال کے ساتھ تحصیل کے مختلف علاقے پڑتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ منڈی تحصیل ایک سرحدی تحصیل ہے جہاں پر آئے روز ہند پاک افوج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگ زخمی ہوتے ہیں جنہیں اسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہاں پر ابتدائی علاج کے بعد یا تو پونچھ اسپتال یا جموں اسپتال روانہ کیا جاتا ہے جو یہاں کی غریب عوام کے لیے کافی مشکلات کا سبب بنتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں یا پونچھ جانا یہاں کے لوگوں کی بس کی بات نہیں ہے ۔علاقہ کی عوام نے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ اسپتال کی نئی عمارت کے ساتھ ساتھ اسپتال میں نے ڈاکٹروں کی تعیناتی کو بھی عمل میں لایا جائے تاکہ یہاں کی غریب عوام کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے ۔بلاک میڈیکل آفسر منڈی سید مشتاق حسین شاہ نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے حوالے سے محکمہ کے اعلی آفسرن کو متعدد دفعہ تحریری طور پر لکھا ہے مگر ابھی تک ڈاکٹروں کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔