اب جبکہ آج سے نئے سال کا آغاز ہوا ہے تو یہ سالِ نو بھی مجموعی طور پرہمارے معاشرے کے لئے خود احتسابی، اصلاح اور نئے عزم کا پیغام لے کر آیا ہےتاکہ ہمارےمعاشرے کا ہر بالغ فرد ماضی کے تجربات سے اسباق لیتے ہوئے ایک بہتر، باشعور اور ذمہ دار مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں۔جس کے لئے سب سے پہلے ہمیں یہ سوچنے وسمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی کہ ہماری زندگی کی بنیاد کیا ہے، ہمارے وجود کی اصل حقیقت کیا ہے، بحیثیت ِانسان ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں اوربحیثیت ِ مسلمان کن قواعد و ضوابط کے تحت ہمیں زندگی گذارنی ہے؟فلاسفروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی گھر کی بنیاد کمزور ہو تو عمارت چاہے کتنی ہی خوبصورت ہو، زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔
یہی اصول ہماری زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔جس کے لئے پہلا زاویہ یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی قرآن و سنت کی روشنی میں گزارنے کو اولین ترجیح دیں۔کیونکہ قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے اور سنوارنے کا واضح دستور ہےاور سنتِ رسولؐ صرف چند اعمال کا نام نہیںبلکہ ایک مکمل عملی نمونہ ہے جو ہمیں سکھاتا ہےکہ کن مقاصد کے تحت ہماری زندگی گذرنی چاہئے۔موجودہ جدیددور میںہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو زندگی کے کنارے پر رکھ دیا ہے۔ قرآن ہمارے گھروں میں موجود ہے مگر ہمارے فیصلوں میں شامل نہیں، سنت ہماری زبان پر ہے مگر ہمارے رویّوں میں جھلکتی نہیں۔ نتیجتاً ہم سہولتوں کے باوجود بے چین، علم کے باوجود اُلجھے ہوئے اور عبادات کے باوجود اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔ اگرہم واقعی سال ِ نوکو تبدیلی کا سال بنانا چاہیں تو اِس فاصلے کو ختم کرنا ہوگا جو ہمارے دعوؤں اور ہمارے عمل کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔ہمیں اپنے تمام معاملات چاہے وہ گھریلو ہوں، تعلیمی ہوں، معاشی ہوں یا سماجی ،انصاف ، دیانت، سچائی اور تقویٰ کے اصولوں پر قائم کرنے ہوںگے،تاکہ ہمارے شعور میں پختگی آجائے۔دیکھا یہی جارہا ہے کہ جب انسان کا کردار دُرست ہو جاتا ہے تو حالات خود بخود بدلنے لگتے ہیں، جبکہ تبدیلی کا آغاز کسی نعرے یا وقتی جذبات سے نہیں بلکہ شعوری فیصلے سے ہوتا ہے۔
اگر ہم نے اپنی زندگی کا مرکز قرآن و سنت کو بنا لیا تو بے شک ہمارے لئےیہ سالِ نو ایک نئی فکری سمت، ایک نئی عملی روش اور ایک بامقصد زندگی کا آغاز بن جائے گا۔جس میںہمیں سائنس، ریاضی، سوشیالوجی، تاریخ، بایولوجی، فزکس، ای کامرس اور پولٹیکل سائنس جیسے جدید علوم سے زمانے کو سمجھنے، نظاموں کا تجزیہ کرنے اور جدید دنیا میں باوقار انداز میں اپنا مقام بنانے کی صلاحیت حاصل ہوگی اور یہ علوم جہاںہمارے لئے روزگار کا ذریعہ بن سکتے ہیں وہیں ہمیںمعاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بھی بنا سکتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ جب دینی بصیرت ،دنیاوی مہارت کے ساتھ جڑ جاتی ہے تو ایک ایسا انسان وجود میں آتا ہے جو باکردار بھی ہوتا ہے اور باصلاحیت بھی۔ ایسا انسان نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے معاشرے کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ سال 2026 میں ہماری نسلیں فکری انتشار، اخلاقی زوال اور شناخت کے بحران سے محفوظ رہیں تو ہمیں آج ہی سے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگا۔ یہ صرف اسکول یا مدرسے کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، خاندان اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ علم کی یہی متوازن وراثت وہ سرمایہ ہے جو آنے والے وقت کو سنوار سکتی ہے اور یہی دوسرا زاویہ ہے جس کے بغیر کوئی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔اس لئے سال ِ نو کو بہتر بنانے کا تیسرا اور نہایت اہم زاویہ یہ ہے کہ ہم اپنے والدین کی عزت، خدمت اور قدر دانی کو محض اخلاقی جذبہ نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھیں۔قرآن و سنت کی تعلیم ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ والدین کی عزت صرف اُن کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ان کے بعد بھی اُن کے لئےدعا، صدقہ اور اچھے اعمال کے ذریعے اُن سے تعلق قائم رکھنا عبادت ہے۔والدین کی عزت کا مطلب صرف مالی سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ اُن کی بات سُننا، اُن کے جذبات کا احترام کرنا، اُن کی تنہائی کو سمجھنا اور اُن کے بڑھاپے کو رحمت سمجھ کر قبول کرنا ہے،کیونکہ زندگی کے عظیم تر ین و مخلص تر ین رشتے والدین ہوتے ہیںاور یہ خاصہ صرف ہمارے یہاں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے ۔