ڈی اے رشید
سرینگر// جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ زچگی کی چھٹی خواتین کا ایک ناقابلِ تنسیخ آئینی حق ہے، جو ان کے وقار اور عزتِ نفس سے جڑا ہوا ہے، اور کسی خاتون کو صرف اس کی ملازمت کی نوعیت یا معاہدے کی بنیاد پر اس حق سے محروم کرنا آئین میں دیے گئے مساوات کے اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔جسٹس راجنیش اوسوال نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی ماں کو صرف اس کے ملازمت کے معاہدے کی تکنیکی نوعیت کی بنیاد پر سزا دینا، جبکہ اس کی جسمانی اور حیاتیاتی حقیقت ایک مستقل ملازمہ جیسی ہی ہو، مساوات کے اصول کی سنگین خلاف ورزی ہے، جسے عدالتی جانچ میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔یہ فیصلہ ان سینئر ریزیڈنٹس اور ٹیوٹرز کی درخواست پر سنایا گیا، جو جموں و کشمیر میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایجوکیشن (اکیڈمک ارینجمنٹ بنیادوں پر تقرری) رولز، 2020 کے تحت سرکاری میڈیکل کالجوں میں تعینات ہیں۔درخواست گزاروں نے محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے 14 اکتوبر2025 کو جاری کیے گئے ایک سرکاری مراسلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔یہ مراسلہ محکمہ خزانہ کے مشورے پر جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت زچگی کی چھٹی پر موجود ڈاکٹروں کی تنخواہیں اس بنیاد پر روک دی گئی تھیں کہ وہ اس عرصے میں “ڈیوٹی پر تعینات نہیں” تھیں۔درخواست گزار خواتین ڈاکٹروں کا مؤقف تھا کہ 8 جولائی 2024 کے سرکاری حکم نامے کے تحت سینئر ریزیڈنٹس اور ٹیوٹرز کو بھی موجودہ سرکاری قواعد کے مطابق زچگی کی چھٹی کا حق دیا گیا تھا، لہٰذا اس دوران تنخواہ اور الاؤنسز کی عدم ادائیگی کی کوئی قانونی بنیاد نہیں بنتی۔عدالت نے قرار دیا کہ جب 8 جولائی 2024 کا حکم نامہ نافذ العمل تھا تو اس کے بعد جاری کیا گیا 14 اکتوبر 2025 کا مراسلہ کسی بھی صورت میں “وضاحت” نہیں بلکہ انتظامی اختیارات سے صریح تجاوز ہے۔عدالت نے کہا کہ زچگی کی چھٹی کے دوران مکمل تنخواہ اور دیگر مالی مراعات اس حق کا لازمی حصہ ہیں، جنہیں کسی انتظامی حکم کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کبھی یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ زچگی کی چھٹی لینے کی صورت میں ان کی تنخواہیں روک دی جائیں گی، جبکہ 8 جولائی 2024 کے سرکاری حکم نامے میں واضح طور پر موجودہ سروس رولز کو نافذ کیا گیا تھا، جن کے تحت زچگی کی چھٹی باقاعدہ تنخواہ کے ساتھ دی جاتی ہے۔دوسری جانب حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ڈاکٹرز 2020 کے اکیڈمک ارینجمنٹ رولز کے تحت مدتِ ملازمت پر تعینات ہیں، مستقل سرکاری ملازم نہیں، اس لیے وہ تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی کی اہل نہیں ہیں۔حکومت نے مزید کہا کہ زچگی کی چھٹی کے بعد ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع صرف اس لیے کی گئی تاکہ وہ اپنی لازمی تعلیمی مدت مکمل کر سکیں، اس سے انہیں چھٹی کے دوران تنخواہ لینے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔تاہم ہائی کورٹ نے حکومت کا یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 8 جولائی 2024 کے حکم نامے میں واضح طور پر سینئر ریزیڈنٹس اور ٹیوٹرز کو موجودہ سرکاری قواعد کے مطابق زچگی کی چھٹی کا حق دیا گیا ہے۔ جب حکومت نے انہیں انہی قواعد کے تحت زچگی کی چھٹی دی ہے تو پھر اس چھٹی کا لازمی حصہ یعنی تنخواہ اور الاؤنسز سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے مزید کہا کہ تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی کوئی الگ رعایت نہیں بلکہ زچگی کی چھٹی کے بنیادی حق کا لازمی جزو ہے۔ اس دوران تنخواہ روکنے کا کوئی بھی انتظامی اقدام زچگی کے تحفظ کے مقصد کو ناکام بناتا ہے اور قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔عدالت نے آخر میں 14 اکتوبر 2025 کے سرکاری مراسلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی کہ درخواست گزار خواتین ڈاکٹروں کو زچگی کی چھٹی کے پورے عرصے کی مکمل تنخواہ اور تمام واجب الادا الاؤنسز فوری طور پر ادا کیے جائیں۔