خالق ِ کائنات نےانسان کو بغیر کسی وجہ سے تخلیق نہیں فرمایا ہے بلکہ ہر انسان کو زندگی عطا کرکے کوئی نہ کوئی مقصد دیا ہے۔ مگر آج کا انسان یہ بھول بیٹھا ہے کہ وہ کس وجہ سے اس دنیا میں آیا ہے اور اس کے جینے کا مقصد کیا ہے؟ آج ہر کوئی اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہوچکا ہے کہ وہ مقصد ِحیات کی طرف جانا ہی نہیں چاہتا ،وہ صرف خواہشاتِ نفس کو حاصل کرنے کے پیچھے دوڑتا چلا جارہاہے اور وہ محض اعلیٰ مقام ، قیمتی گاڑی اور بہت سارےمال ودولت کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے،گویا اس نفسا نفسی کے عالم میں دنیا کی رنگینیوں میں کھو کراپنی مقصدِ حیات ہی بھول بیٹھا ہے۔ آج مسلمانوں کی رسوائی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اُس نے مالک ِ کائنات کے احکامات سے روگردانی کرتے ہوئے نفسانی خواہشات کو ہی زندگی کا مقصد بنالیا ہے۔
اگرچہ مسلمانوں کا مقصد حیات اسلام تھا مگر آج مسلمانوں کا مقصد کچھ اور ہے۔ آج تو مسلمان کو نماز پڑھنے کا بھی وقت نہیں ملتااور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کرنے کیلئے بھی سوچتا رہتا ہے شائد یہی وجہ ہے کہ بیشتر مسلمانوںنے اللہ کی طرف رجوع کرنا چھوڑ دیا ہے۔ہم اگر صرف بر صغیر ہند و پاک اوربنگلہ دیش میں مسلمانوں کی آبادی دیکھیں تو تقریباً 75 تا 80 کروڑ ہے ۔جس کی زیادہ تر تعداد شدید ترین مسلکی ، فرقہ ورانہ ،علاقائی اور لسانی فساد کے نرغے میں ہے۔ معاملات اور اخلاق اتنے خراب ہیں کہ کرپشن ، بد عنوانی اخلاقی زوال کا ایک سیلاب ایوانِ اقتدار سے شروع ہو کر ہرخاص و عام کو اپنے لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ اب تو کسی کو کسی پر اعتبار نہیں رہا، ہر جگہ آدمی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ فحاشی عریانی اور جرائم ریاستی اداروں کی سرپرستی میں انجام دیا جا رہا ہے ۔ عدلیہ ، پولیس ، انتظامیہ سب کرپشن کے شکار ہیں ۔ پوری دنیا کا مالیاتی نظام سود پر قائم ہے ۔ مذہب کے نام پر شرک کا ارتکاب ہو رہا ہے ۔ سیاسی اورمذہبی شخصیات کی عقیدت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ انہیں دیوتا تسلیم کیا جا رہا ہے ۔
انگریزوں کی غلامی سے لے کربھارت کی آزادی کے بعد ہندوستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمان اپنی مذہبی ، تہذیبی ، ثقافتی شناخت کھوتے جا رہےہیں ۔ آج جب ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہیں تو یہی الفاظ سننے میں آتے رہتے ہیں کہ مجھے یہ کام کرنے ہیں ،مجھے وہ کام کرنے ہیں۔ لیکن کبھی یہ سُننے میں نہیں آرہا ہے کہ مجھے اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے دین کے لئے کام کرنا ہے ۔ ذرا سوچیں!ہم مسلمان کتنے بد قسمت ہیں ، جب زندگی کے مقصدکو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، تب ہم سمجھتے نہیں اور جب زندگی کا مقصد سمجھ میں آتا ہے، تب ہمارے پاس زندگی ہی باقی نہیں رہتی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہ ساری باتیں انسان کو اُس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب انسان کے ہاتھ پیر کام کرنا بند کردیتے ہیں۔
مطلب جب انسان اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو اور اِس فانی دنیا سے رخصت ہونے والا ہو ،اُس وقت انسان کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ دنیا واقعی میںایک عارضی ہے اور یہاں کی سب محفلیں، رونقیں، روشنیاں، دولت ، شہرت اور عزت سب عارضی ہے اور ایک دن یہ سارا کچھ ختم ہونا ہے۔ افسوس زندگی پھر دوبارہ یہ موقع نہیں دیتی اور انسان اس خواہش کے ساتھ ہی دفن ہوجاتا ہے۔قبل اس کے ضرورت اس بات کی ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم اللہ کے حقوق اللہ اور حقوق العبادکی بجا آوری کریں ، سیرت نبی پاکؐ پر اپنی زندگی کا انتخاب کریں اور جو سہولت اللہ تعالیٰ کی طرف سے زندگی میں میسر ہوئی ہے، اُس پر صبر وشکر کریں، چاہے جیسے بھی حالات ہوں، اس میں کوئی گلہ اور شکوہ کا عنصر نہ ہو ، بس شکر ہی شکر ہو اور رب العزت کی عطا پر اپنے آپ کو راضی رکھنا، اپنے ربّ کو راضی کرنے کا بہترین عمل ہے۔ہمیں چاہئے کہ اپنے اڑوس پڑوس میں دُکھی اور مصیبت میں گھرے اللہ کے بندوں کے ساتھ معاملات پر نظر رکھیں، ایثارو قربانی کے چلتے پھرتے نمونے بنیں، اپنی زندگی سے شیطانی وسوسے کا خاتمہ کریںاور اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کو سمیٹتے جائیں۔