بشیر اطہر
شہر کی شور بھری گلیوں سے دور، بستی کے کنارے ایک پرانا سا پل تھا۔ وہ پل، جو کبھی انسانوں کے قدموں سے زندہ رہتا تھا، اب زنگ کے بوجھ تلے کراہتا تھا۔ اس پر وقت نے اپنے ناخن ایسے گاڑ دیئے تھے کہ اس کی دراڑوں سے چیخیں سنائی دیتی تھیں۔ اس کے نیچے کبھی موجیں گاتی ندی بہتی تھی، مگر اب وہ ندی ایک مردہ بدن کی مانند پڑی تھی… اس کی خشک رگوں میں پانی کے بجائے خاموشی بہتی تھی۔ ایسی خاموشی، جو صرف سننے والوں کے دل پھاڑ ڈالتی ہے۔
لوگ کہتے تھے کہ رات کے پچھلے پہر جب سب سو جاتے ہیں تو اس پل سے رونے کی آوازیں آتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ آواز کس کی ہے…… پتھروں کی؟ وقت کی؟ یا انسان کی شکست کی؟
اسی پل کے سائے تلے ایک بوڑھا شخص روز آکر بیٹھ جاتا تھا…… عبداللہ۔ وہ ایک بدن تھا مگر اس کے اندر شکستہ تاریخ کی عظیم خاموشی بسی ہوئی تھی۔ کبھی اس کی آواز بجلی کی گرج جیسی گونجتی تھی، ہاتھ فولاد کی طرح مضبوط تھے، اور نگاہ میں روشنی کی تیز لہریں تھیں۔ مگر اب وقت نے اسے ایسے پیوند لگا دیئے تھے کہ وہ چلتا تو سایہ بھی اس سے آگے نکل جاتا۔ اس کی پشت جھکی ہوئی تھی، جیسے زندگی کے بوجھ تلے زمین اس کے کاندھوں تک جھک آئی ہو۔وہ روز زمین پر انگلیوں سے کچھ لکھتا، پھر مٹا دیتا۔لکھتا….. مٹاتا…… لکھتا۔
جیسے امید اور مایوسی کی جنگ ہو اور دونوں تھکن سے چور ہوکر ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
ایک دن اسکول کے چند بچے وہاں سے گزرے۔ ان میں احتشام نام کا لڑکا سب سے آگے تھا۔ اس نے بوڑھے کو دیکھا……. ٹوٹا ہوا مگر باوقار، خاموش مگر بولتا ہوا۔
احتشام آگے بڑھا اور دھیرے سے پوچھا”بابا جی… آپ کیا لکھتے رہتے ہیں؟”
عبداللہ نے انگلی سے زمین پر لکھے لفظ پر ہاتھ پھیرا۔
اس کی آنکھوں میں ہزاروں راتوں کا بوجھ تھا۔آسمان کی طرف دیکھ کر بولا”میں زخم لکھتا ہوں، بیٹا….. وہ زخم جو بولتے ہیں… مگر کوئی سنتا نہیں۔”
بچے حیرت میں ڈوب گئے… احتشام نے سوال کیا”زخم بھی بولتے ہیں؟”
بوڑھا مسکرایا۔ وہ مسکراہٹ روشنی کی وہ آخری کرن تھی جو غروبِ آفتاب سے پہلے باقی رہ جاتی ہے۔
“ہاں بیٹا، زخم بولتے ہیں۔ جسم کے زخم وقت بھر دیتا ہے۔
مگر دل کے زخم… وہ وقت گنتے گنتے خود وقت کو زخمی کر دیتے ہیں۔وہ چیختے ہیں، فریاد کرتے ہیں…لیکن دنیا صرف ہنسی اور جشن سننا چاہتی ہے۔رونے والی آواز اسے گناہ لگتی ہے۔”
احتشام نے پھر پوچھا”آپ کے زخم کیوں لگے؟”
عبداللہ کے ہاتھ لرز گئے۔ اس نے سینے پر ہاتھ رکھا”یہاں جو زخم ہیں، یہ کسی چھری سے نہیں لگے۔یہ بےوفائی، بھول جانے اور اکیلے چھوڑ دینے کے زخم ہیں۔
میں نے ساری عمر دینے میں گزار دی…. اور جب ہاتھ خالی ہو گیا تو سب نے منہ موڑ لیا۔”
“بیٹا…لوگ محبت سے نہیں، ضرورت سے ساتھ رہتے ہیں۔
جب ضرورت ختم ہو جائے تو انسان کاغذ کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔انسان کی اصل قبر دل میں بنتی ہے، مٹی میں نہیں۔”
ہوا رک گئی۔ جیسے کائنات بھی سن رہی ہو۔احتشام نے دھیرے سے کہا”بابا جی، لوگ اتنے بے رحم کیوں ہوتے ہیں؟”
بوڑھا ہنسا….. وہ ہنسی جو رونے سے بھی زیادہ تکلیف دیتی ہے۔
“کیونکہ لوگ دل سے نہیں دیکھتے…آنکھوں سے دیکھتے ہیں…… کپڑا، گاڑی، دولت، طاقت۔
اندر کی ٹوٹی دنیا کوئی نہیں دیکھتا۔دل کے قبرستان میں کوئی نہیں اترتا۔”وہ زمین پر لکھنے لگا”انسان کا اصل قد تب معلوم ہوتا ہےجب وہ دوسروں کے سہارے کا محتاج ہو جائے۔”اور پھر بولا”زندگی کہتی ہےاصل انسان وہ ہے جو اس وقت ساتھ کھڑا رہےجب تمہارے پاس دینے کو کچھ بھی نہ بچے۔”
احتشام کی آنکھیں بھر آئیں”بابا جی… کیا کبھی آپ کے زخم بھر جائیں گے؟”
بوڑھے نے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا”زخم تب بھر جاتے ہیں بیٹا…جب کوئی انہیں سن لے۔
کیونکہ درد بھی عبادت ہے……
اور عبادت بغیر سننے والے کے ادھوری رہتی ہے۔”
اسی وقت مغرب کی اذان گونج اٹھی۔آسمان لہو رنگ تھا، سورج ڈوب رہا تھا،مگر کہیں دور روشنی پھوٹ رہی تھی…… جیسے امید مر کر دوبارہ زندہ ہوئی ہو۔
بوڑھے نے آخری جملہ لکھا”دنیا کا سب سے بڑا جرم،،، کسی کو وقت پر سہارا نہ دینا ہے۔
اور سب سے بڑا ثواب،،، کسی ٹوٹے دل کو تھام لینا ہے۔”
بچے اٹھ کھڑے ہوئے۔احتشام نے بوڑھے کا ہاتھ چوما”ہم وعدہ کرتے ہیں بابا جی…
کہ ہم کسی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ہم زخموں کو خاموش نہیں رہنے دیں گے۔”اور برسوں سے سوکھی ندی کے سینے میں ہلکی سی ارتعاش دوڑ گئی…..
جیسے پانی لوٹنے کے لئے چل پڑا ہو۔
اور اس رات وہ زخم جو بولتے تھے…بالآخر خاموش ہو گئے۔
���
خان پورہ ، کھاگ بڈگام ، کشمیر
موبائل نمبر؛7006259067