عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// سرینگرکے داچھئی گام کے قریب زبروان جنگلاتی پٹی میں تازہ آگ بھڑک اٹھنے کی اطلاع ہے اورجنگل کے کافی علاقے میں آگ تیزی سے پھیل گئی ہے جس سے کل دھواں اٹھ رہا تھا۔فائربریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ آگ لگنے کی اصل وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ مقامی لوگوں نے آسمان پردھواں اٹھتے ہوئے دیکھاہے۔یہ واقعہ اس خطے میں جنگلات میں بار بار لگنے والی آگ، حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے رہائش گاہوں کے لیے خطرہ بننے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں وادی کے جنگلوں میں کئی آگ لگنے کی اطلاعات ہیںجس میں فائر فائٹرز کو اونچائی اور وہاں تک پہنچے کیلئے سڑک رابطے نہ ہونیکی وجہ سے رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ادھر شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے ارن اور چندا جی جنگلاتی علاقوں میں کئی دنوں سے جنگل میں ایک بڑی آگ بھڑک رہی ہیََ ۔ادھر ترال کے چند علاقوںکے جنگلات میں گزشتہ دو روزآگ نمودار ہوئی ہے جس نے وسیع جنگلات علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ۔اس سے قبل فروری میں بانڈی پورہ کے مرکزی بازار میں ایک بڑی آگ لگ گئی تھی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ادھرترال کے شکار گاہ علاقے کے جنگلات میں پیر کے روز آگ اچانک نمودار ہوئی جس نے آناً فاناً وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ۔ محکمہ نے بتایا آگ نمودار ہونے کے حوالے سے اطلاع موصول ہونے کے فوراً بعد انہوں نے محکمہ کے اہلکاروں کو جنگل میں روانہ کیا جنہوں نے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا اور کافی مشقت کے بعد آگ کو مزید پھیلنے سے روک لیا گیا ۔ادھر شاجن لرگام نامی جنگلات میں آگ برابر جاری ہے جس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے محکمہ کے اہلکار اور عام لوگ مصروف ہے ۔
ادھر گلشن پورہ کے جنگلات میں بھی گزشتہ رات آگ نمو دار ہونے کی اطلاع موصول ہوئی جس پر فوری طور قابو پا لیا گیا ہے ۔ وادی کشمیر میں مسلسل خشک سالی کے نتیجے میں جنگلات میں گزشتہ چند سال سے آگ لگنا معمول بن گیا ہے جس پر لوگوں میں تشویش پایا جاتا ہے۔دریں اثناضلع رامبن کے سناسار کے بالائی علاقے میں ایک ڈھوک جوکہ قاسم دین ولدمرحوم راج علی کے بیٹے ساکن ادھم پور کے کامل ڈنگہ کے رہنے والے کی تھی،جل گیا تاہم، واقعے کے وقت ڈھانچے کے اندر کوئی بھی موجود نہیں تھا، کیونکہ سردیوں کے آغاز سے قبل ادھم پور ہجرت کرنے کے بعد مالک نے اسے چھوڑ دیا تھا۔خانہ بدوش خاندان ایسے ڈھوکوںاستعمال کرتے ہیں جب وہ اپنے مویشیوں کے ساتھ گرمیوں کے دوران بالائی سناسار کے پہاڑی میدانوں میں واپس آتے ہیں اور اکتوبر تک وہاں رہتے ہیں۔