عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// سپریم کورٹ نے منگل کے روز ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ اور اس کے دو اعلیٰ عہدیداران کی جانب سے دائر اس اپیل کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے سیکیورٹیز اپیلیٹ ٹریبیونل کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس نے سیبی کی جانب سے عائد کردہ 30لاکھ روپے کے جرمانے کو برقرار رکھا تھا۔ یہ جرمانہ جیوفیس بک ڈیل سے متعلق غیر شائع شدہ حساس معلومات کو بروقت منظر عام پر نہ لانے کے باعث عائد کیا گیا تھا۔جون 2022 میں سیبی نے ریلائنس انڈسٹریز، ساوتھری پاریخ اور کے سیٹھورامن پر کل 30لاکھ روپے کا جرمانہ اس بنیاد پر لگایا تھا کہ کمپنی نے اسٹاک ایکس چینجز کو جیوفیس بک سرمایہ کاری سے متعلق میڈیا رپورٹس پر فوری وضاحت فراہم نہیں کی۔ بعدازاں ایس اے ٹی نے 2 مئی 2025کو سیبی کے اس فیصلے کو صحیح قرار دے کر برقرار رکھا۔چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کہا کہ ایس اے ٹی کے فیصلے میں کسی عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں کیونکہ معاملہ کسی قانونی سوال کو جنم نہیں دیتا۔ اس طرح عدالتِ عظمیٰ نے سیبی کے اس مقف کی توثیق کر دی کہ ریلائنس انڈسٹریز اور اس کے کمپلائنس افسران نے غیر شائع شدہ حساس معلومات کو وقت پر عام کرنے کے اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ہی سیبی اور ایس اے ٹی دونوں کے مقف کی مکمل توثیق ہو گئی ہے۔سیبی کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق مارچ اور اپریل 2020میں میڈیا میں متعدد رپورٹس سامنے آئیں جن میں فیس بک کی جانب سے جیو پلیٹ فارمز میں بھاری سرمایہ کاری کی بات کی گئی تھی، مگر کمپنی نے اس حوالے سے کوئی بروقت ردعمل یا وضاحت جاری نہیں کی۔ بعد میں 22اپریل 2020کو کمپنی نے باضابطہ اعلان کیا کہ فیس بک جیو پلیٹ فارمز میں 9.99 فیصد حصص کے لیے 43,574 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ سیبی نے قرار دیا کہ یہ اعلان میڈیا رپورٹس کے تقریبا 28 دن بعد کیا گیا، جو واضح طور پر ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔