صورتحال سے 1987سے بھی بڑے بحران کو جنم لینے کا خدشہ :سجاد لون
سرینگر//پیپلز کانفرنس کے سربراہ اور رکن اسمبلی سجاد لون نے جمعرات کو جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ روزگار اور ریزرویشن پالیسیاں کشمیری نوجوانوں کیلئے ’’وجودی خطرہ‘‘ بنتی جا رہی ہیں اور یہ صورتحال 1987 سے بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔سجاد لون نے سرکاری دستاویز کو ’’بے روح، دفتری تحریر‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس میں عوامی مسائل، عوامی تکالیف اور کشمیر کی تاریخی بے اختیاری کا کوئی ذکر نہیں ہے۔انہوں نے کہا،’’نہ دفعہ 370 کی منسوخی کا کوئی ذکر ہے، نہ ریاستی درجہ کی بات، نہ ہی ہزاروں نظر بند افراد کا حوالہ۔ کیا ہم کسی خیالی دنیا میں جی رہے ہیں؟‘‘سجاد لون نے اسمبلی کے اندر اختلاف رائے کو دبانے کا بھی الزام عائد کیا۔اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے پی سی سربراہ نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے کشمیر کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے، مگر سرکاری ملازمتوں میں اسے محض 25 سے 30 فیصد نمائندگی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ریزرویشن ترامیم سے کشمیری امیدواروں کو محض معمولی فائدہ ہی پہنچے گا۔انہوں نے کہا،’’یہ صرف پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ منظم اخراج ہے۔سجاد لون نے اسمبلی کی ’’انتخابی آئینی اخلاقیات‘‘ پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ جہاں پڈوچیری میں کئی بار ریاستی درجہ کیلئے قراردادیں منظور ہوئیں، وہیں جموں و کشمیر اسمبلی نے ایک بھی ایسی قرارداد منظور نہیں کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریزرویشن کا مسئلہ جموں و کشمیر کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے، جس کے نتائج 1987کے متنازع انتخابات سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔