شاہ نواز
ریاسی//ضلع ریاسی کی سب ڈویژن مہور کے بٹوئی گاؤں میں جمعرات کے روز اچانک آنے والی شدید طغیانی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں نصف درجن سے زائد رہائشی مکانات تباہ یا شدید متاثر ہو گئے جبکہ زرعی فصلوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ واقعہ کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔مقامی ذرائع کے مطابق جمعرات کی دوپہر شدید بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے بعد چنجور محلہ میں اچانک تیز رفتار سیلابی ریلہ اْمڈ آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی رہائشی گھروں میں داخل ہو گیا اور کئی مکانات مکمل طور پر ناقابلِ رہائش بن گئے۔ طغیانی کے باعث رابطہ راستے بھی متاثر ہوئے جبکہ کھڑی فصلیں پانی کی زد میں آ کر تباہ ہو گئیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بھی اسی علاقے میں اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اس بار کی طغیانی کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ پانی کے بہاؤ میں اچانک شدت آنے کے باعث لوگوں کو گھروں سے نکلنے کا بھی موقع نہیں ملا، جس کے بعد مقامی لوگوں اور ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا۔خوش قسمتی سے واقعہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم متعدد خاندانوں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کئی متاثرین کے گھریلو سامان، اناج اور دیگر ضروری اشیاء بھی سیلابی پانی میں بہہ گئیں۔واقعے کے فوراً بعد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ ایس ڈی ایم مہور شفقت مجید بٹ اور تحصیلدار مہور جاوید اقبال نے متاثرہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ انتظامیہ کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے بھی شروع کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے تحصیلدار مہور جاوید اقبال نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر ضروری امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے جبکہ املاک اور فصلوں کے نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل رپورٹ تیار ہونے کے بعد امدادی رقم اور بازآبادکاری کے لیے معاملہ حکومت کو بھیجا جائے گا تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی فوری بحالی، حفاظتی بندوبست اور مستقل اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے اور معمولاتِ زندگی جلد بحال ہو سکیں۔