عظمیٰ نیوز سروس
ریاسی//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر رہنماؤں نے سرجندر، ریاسی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جانب سے شروع کی گئی مہم ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کے تحت ایک مضبوط عوامی بیداری پروگرام منعقد کیا۔ پروگرام میں سابق وزیر جگل کشور شرما، ٹھاکر من موہن سنگھ، ایڈووکیٹ سریش ڈوگرہ، امرت بالی اور ضلع صدر کانگریس ریاسی اجے سلالیہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر بی جے پی حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی گئی جس کے تحت مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ کے نام میں تبدیلی کی بات کی جا رہی ہے۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جگل کشور شرما نے کہا کہ منریگا محض ایک فلاحی اسکیم نہیں بلکہ دیہی غریبوں کیلئے روزگار، وقار اور معاشی تحفظ کی ضمانت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی دانستہ طور پر کانگریس کی تاریخی اسکیموں کی شناخت مٹانا چاہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس منریگا کی روح کے ساتھ کسی بھی چھیڑ چھاڑ کو برداشت نہیں کرے گی۔ٹھاکر من موہن سنگھ نے کہا کہ منریگا نے دیہی جمہوریت کو مضبوط کیا ہے مگر حکومت نام بدلنے کی سیاست میں مصروف ہے، جبکہ اجرت، کام کے دن اور بروقت ادائیگی جیسے مسائل نظر انداز کئے جا رہے ہیں۔امرت بالی نے دیہی مزدوروں کو درپیش مشکلات اجاگر کرتے ہوئے کانگریس کے مزدور دوست موقف کو دہرایا۔ ایڈووکیٹ سریش ڈوگرہ نے اسے گاندھی جی کی وراثت سے لاعلمی قرار دیا اور تحریک تیز کرنے کا اعلان کیا۔اجے سلالیہ نے کہا کہ ریاسی کانگریس ہر گاؤں تک ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کا پیغام پہنچائے گی۔ پروگرام کے اختتام پر اسکیم کے تحفظ اور عوامی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا۔