جموں//ریاستی اسمبلی کو معطل رکھے جانے پر متعلقہ حکام کی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے پینتھرز پارٹی نے آج اسے غیر آئینی قرار دے دیا۔ یہاں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی چیئر مین ہرشدیو سنگھ نے صدر جمہوریہ سے اپیل کی کہ آئین کے تقدس کو بحال رکھنے کے لئے فوری طور پر اسمبلی کو تحلیل کر کے از سر نو انتخابات کا راستہ صاف کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو غیر معین عرصہ کے لئے معطل نہیں رکھا جا سکتا کیوں کہ اس سے صرف چند مخصوص سیاسی جماعتوں کے عزائم کو پورا کرنے کے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا گٹھ جوڑ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اب جب کہ قریب چار ماہ سے اسمبلی معطل ہے اسے اسی حالت میں برقرار رکھنے کی کوئی تک نہیں ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2008میں جب غلام نبی آزاد ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے اور پی ڈی پی کے حمایت واپس لیتے ہی حکومت گر گئی تھی، کوئی بھی پارٹی اکثریت میں نہیں رہی تو اسمبلی کو ایک ہفتہ کے اندر تحلیل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 2005میں بہار اسمبلی میں ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تو ایک ماہ کے اندر اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا گیا لیکن 116 دن سے ریاستی اسمبلی کو معطل کر کے جو ں کا توں رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق گورنر نے اسمبلی معطل کر کے اراکین کے تمام اختیارات سلب کر لئے تھے لیکن موجودہ گور نر نے نہ صرف ان کے اختیارات بحال کر دئیے بلکہ انہیں مراعات اور حلقہ ترقیاتی فنڈ استعمال کرنے کی اجازت دے کر سیاسی فیصلہ لیا ہے ۔ ہرشدیو سنگھ نے متنبہ کیا کہ اگر فوری طور پر اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا جاتا ہے تو وہ پارلیمنٹ کے باہر مظاہرے کرنے پر مجبور ہوں گے ۔