جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے کارکنان نے یہاں پریس کلب کے باہراحتجاج کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے گورنر این این ووہرہ سے درخواست کی ہے کہ وہ جموں وکشمیر آئین کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کریں۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کا الگ آئین ہے جو گورنر کو سیکشن 53(2)(b),، سیکشن 73(2)(b) کے تحت یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ہاوس یا کسی ہاوس کو ملتو ی کرسکتے ہیں اور دوسرا لیجسلیٹیو اسمبلی کو تحیل کرسکتے ہیںپنتھرس پارٹی کے چیئرمین ہر ش دیوسنگھ نے کہاکہ جموں وکشمیر حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں یاگروپ کے بیشتر اراکین اسمبلی نے خارج کردیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے حمایت واپس لے لینے کے بعد رضاکارانہ طورپر گورنر کو اپنا استعفی پیش کردیا۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کررہیں اور نئے سرے سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ 2019میں عام انتخابات ہونے ہیں یہ ایک اچھا موقع ہے کہ ریاست کے اسمبلی انتخابات بھی ان ہی کے ساتھ کرادیئے جائیں جیسا کہ وزیراعظم بھی چاہتے ہیں کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرائے جائیں۔
اسمبلی حلقوں کی حد بندی کیلئے حد بندی کمیشن قائم کیا جائے : بھیم سنگھ
جموں//نیشنل پنتھر س پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر کے گورنر این این ووہرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر کے لئے حد بندی کمیشن قائم کیا جائے کیونکہ گزشتہ پندرہ برسوں سے ریاست کی حدبند ی نہیں ہوئی ہے۔پنتھرس سربراہ نے کہاکہ اسمبلی حلقوں کی حدبندی اصول کے مطابق حد بندی کی جائے جائے جس میں کہا گیا ہے کہ ہر حلقہ کی اس کے علاقہ اور جغرافیائی درجہ کے مطابق حدبندی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ پنتھرس پارٹی تینوں خطوں لداخ، کشمیر اور جموں کی حد بندی ڈی لمیٹیشن کے اصول کے مطابق کرنے کے لئے گزشتہ 30برسوں سے جدوجہد کررہی ہے جس میں آبادی ، جغرافیائی حیثیت اور کمیونکیشن پر توجہ دی جائے۔پنتھرس سربراہ نے کہاکہ جموں پردیش کی آبادی وادی کشمیرسے زیادہ ہے اور جمو ں کا علاقہ کشمیر سے دوگنا ہے۔یہ سیاسی بدقسمتی ہے کہ جموں میں 37اسمبلی حلقے ہیں جبکہ کشمیر میں 44 اسمبلی حلقہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت کے سامنے بھی اٹھایا گیا ہے لیکن جموں کے لوگ اپنے قانونی حق سے محروم ہیں۔انہوں نے 1950سے جموں اور لداخ کے لوگوں کے ساتھ اس امتیاز کے لئے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔انہوں نے کہاکہ 2019میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ریاست کے اسمبلی انتخابات بھی کرائے جائیں اور ایسا کرنے کے لئے موجودہ اسمبلی تحلیل کیا جائے اور حدبندی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ قانون کی حکمرانی کے مطابق نئے انتخابات ہوسکیں اور جموں وکشمیر کے ہر خطہ لداخ، جموں، وادی کشمیر کے لوگ اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہ رہیں۔