بانہال // بانہال میں آج جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کا ایک زونل اجلاس فورم زونل صدر بہار میر کی صدرات میں منعقد ہوا۔ یہاں جاری ایک پریس بیان کے مطابق اجلاس کے دوران رہبر تعلیم اساتذہ کو درپیش مختلف مسائل خاص کر تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور اس کو مرکزی سرکار کے بجائے ریاستی خزانے سے ماہانہ بنیادوں پر واگذار کر نے پر زور دیا گیا۔اجلاس میں ممبران نے ریاستی فورم چیئرمین فاروق احمد تانترے کی قیادت میں حالیہ ریاست گیر احتجاج کے دوران سرکار کو 15 مارچ تک کا وقت دینے کی تائید کرتے ہو ئے کہا کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر اقدامات اْٹھائیں۔ مقررین نے کہا کہ مرکزی سرکار کی طرف سے رقومات واگذار کر نے تک لگنے والے وقت کاخمیازہ اساتذہ کو اْٹھانا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مانگ ہے کہ ان کی تنخوائیں ریاستی بجٹ سے واگذار کی جانی چاہئے تاکہ ریاست کے رہبر تعلیم اساتذہ کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کر نا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی طرف سے تین مہنیوں سے بند پڑی تنخوا ہوں میں سے صرف ایک ماہ کی تنخواہ تین مہینے کے بعد واگذار کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بنکوں سے لون لے استاتذہ کو بنکوں سے تین مہنیوں کی قسط کاٹی گئی جس کی وجہ سے ان اساتذہ کی ایک مہینے کی تنخوا ہوں قسطوں میں چلی گئی اور دیگر دوکانداروں کا قرضہ بھی وہ نہ چکا سکے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں اساتذہ کو اپنی اْجرتوں کے لئے ترسایا جا رہا ہے جو کہ انسانی حقوق کی پامالی ہے۔اس موقع پر میٹنگ میں موجود فورم کے صوبائی صدر آفتاب ملک کے کہا کہ ریاستی فورم چیئرمین فاروق تانترے نے اساتذہ کی تنخوائیں سٹریم لائن و ڈی لنک کر نے کے لئے سرکار کو پندرہ مارچ کا وقت دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پندرہ مارچ تک اگر سرکار اس پر اپنا رد عمل ظاہر نہ کر تی ہے تو اس کے بعد ریاستی باڈی کا اجلاس منعقد ہو گا اور ریاست کے رہبر تعلیم اساتذہ غیر معینہ مدت کے سکول تالا بند ہڑتال پر چلے جائیں گے جس کی ذمہ داری ریاستی سرکار پر عائد ہو گی۔ اس موقع پر فورم کے زونل ترجمان محمد اقبال داربو ،ضلع جنرل سیکریٹری شفقت نثار ،صوبائی ممبر سجاد احمد ، ریاستی میڈیا انچارچ مظفر احمد کے علاوہ دیگر زونل فورم عہداران اور دیگر اساتذہ موجود تھے ۔