سرنکوٹ//سرحدی ضلع پونچھ میں روشنی ایکٹ کے تحت سرکاری اراضی پر قابض لوگوں کو انتظامیہ نے جلد زمینیں خالی کروانے کا انتباہ جاری کیا ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کیلئے جاری انتباہ کے بعد مکینوں میں مایوسی پیداہو گئی ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ کئی افراد کے پاس صرف روشنی ایکٹ کے تحت ہی ملکیت اراضی آئی تھی تاہم مذکورہ ایکٹ کالعدم ہونے کے بعد اب وہ بے زمین ہوگئے ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ایک سازش کے تحت لوگوں کو بے دخل کرنے عمل شروع کر دیا ہے ۔سرپنچ خادم کٹاریہ نے بتایا کہ پچاس اور ستر برسوں سے زائد عرصہ سے زمینوں پرقابض لوگوں کی بے دخلی کا عمل شروع کر دیا گیاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عرصہ دراز سے لوگ روشنی ایکٹ اور ایل بی 6اور 632 کے تحت زمینوں کے انداج کروا کر بیٹھے ہوئے ہیں جن کہ زمینوں کو ناجائز قابض قرار دے کر سرکاری اراضی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کہنا تھا کہ لسانہ، نابنہ، کلرکٹل ،بفلیاز، چندی مڑھ کے علاوہ کئی گائوں میں انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کر دیے گے ہیں اور انہیں سات دن کے اندر زمینیں خالی کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے ۔مقامی معززین نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کئی نسلوں سے زمینی پر قابض لوگوں کیساتھ ناانصافیاں کی جارہی ہیں ۔ انھوں نے سیاسی نمائندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت کوئی بھی سیاسی لیڈر عوام کی اس بے بسی پر بات نہیں کر رہاہے ۔ضلع ترقیاتی کونسل رکن سرنکوٹ شاہنواز چوہدری نے کئی غریبوں کے پاس مذکورہ زمین کے علاوہ کوئی دیگر اثاثے موجود نہیں ہیں اور اسی وجہ سے انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کی زمینوں کو روشنی ایکٹ کے زمرے میں لایا گیا تھا ۔تحصیلدار سرنکوٹ نے بتایا کہ روشنی ایکٹ کو کالعدم قراردینے کے بعد مذکورہ زمینوں کو خالی کروانے کیلئے نوٹس کے ذریعے اطلاع دی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر مذکورہ زمینوں کو حکم کے تحت خالی نہیں کیا گیا تو اس سلسلہ میں کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی ۔