یو این آئی
برسلز، (بیلجیئم)// کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے روس یوکرین جنگ پر حکومت ہند کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ روس ہمارا دوست ہے اور اس کے ساتھ تعلقات برقرار رہنے چاہئیں۔یوروپ کے ایک ہفتہ طویل دورے پر بیلجیئم کی راجدھانی برسلز پہنچے ۔ راہل گاندھی نے برسلز پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ میں ہندوستانی حکومت کا کردار اہم ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان تعلقات اچھے رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے۔دونوں حکومتوں کے درمیان امن کی اپیل کرتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کرنے کی حکومت کی پالیسی سے انہوں نے اتفاق کیا۔
گاندھی نے کہاکہ “مجھے لگتا ہے کہ ہندوستان کی اپوزیشن پارٹیاں روس اور یوکرین کے تنازعہ کے درمیان ہندوستان کی موجودہ صورتحال سے تقریباً متفق ہوں گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے پر مرکزی حکومت کے موقف کے خلاف ہوں گی۔ روس کے ساتھ ہمارے پرانے اور اچھے تعلقات ہیں اور ایسی صورت حال میں بھارت کو اس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور اپوزیشن کا موقف اس سمت میں حکومت کے موقف سے مختلف نہیں ہوگا۔وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی اپوزیشن کی بات نہیں سنتے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب بھی ہم اڈانی پر سوال اٹھاتے ہیں، اس کے اپنے ہی لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے سرمایہ دارانہ نظام کی بات کرتے ہیں، مودی جی ایک نیا مسئلہ لے کر آتے ہیں۔ آئیے ایک نئی چیز شروع کرتے ہیں۔ ‘انڈیا یا بھارت’ بھی ایسا ہی ایک مسئلہ ہے۔
انڈیا اتحاد مودی کو بہت پریشان کر رہا ہے، اسی لیے وہ ملک کا نام بدلنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی ہندوستانی جمہوریت کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ اقتدار کی مرکزیت ہونی چاہیے، سرمائے کی مرکزیت ہونی چاہیے اور ملک کے لوگوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہونا چاہیے۔ گاندھی نے کہاکہ ’’جمہوریت کے تحفظ کے لیے لڑنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم یہ کام کرتے رہیں گے۔
آئینی اداروں کو دبانے اور ان کی آزادی کے تحفظ کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی کوششیں جاری رہیں گی۔