پرویز مانوس
دانش ایک ایمبسڈر کار سے اُتر کر کمرے میں داخل ہواجہاں اُس کی ماں نوری کپڑوں کو استری کرہی تھی، اماں تُو ابھی تک تیار نہیں ہوئی؟ دانش نے اندر آتے ہوئے پوچھا-وہ اُسے ایک ٹک دیکھتی رہی، نوری کی نظر میں آج بھی دانش وہی بچہ تھا جس کا بستہ لے کر وہ اسکول کے گیٹ تک جاتی تھی،
اماں….! تُو کہاں کھو گئی؟ چلنا نہیں ہے، میں نے تیرے لئے ہی آج آدھے دن کی چُھٹی رکھی ہے –
مجھے کہاں جانا ہے دانی؟میں یہیں ٹھیک ہوں –
نہیں اماں، تجھے گاؤں سے آئے ہوئے آج کتنے دن ہوگئے، آج میں تجھے یہ سارا شہر دکھاتا ہوں -دانش نے نوری کا ہینڈ بیگ کبڈ سے نکال کر ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا- تُو بھی نا بڑا ضدی ہے ۔مانے گا نہیں، اچھا ٹھہر میں کپڑے تبدیل کرلوں کہہ کر نوری دوسرے کمرے میں چلی گئی تو دانش ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اپنے بال درست کرنے کے بعد اپنی نکٹائی کا ناٹ کسنے لگا اتنے میں نُوری کمرے میں داخل تو دانش نے کہا، واؤ…. میری اماں تو آج با لکل ہیروئن لگ رہی ہے، چل شیطان کہیں کا، نوری نے اس کی پیٹھ پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے کہا اور پھر دانش کی خوشی کے لئے اُس کے ساتھ چل کر کار میں سوار ہوگئی-نوری کار کے شیشوں سے شہر کی چکاچوند اور سڑک کے دونوں اطراف بلند و بالا عمارتیں دیکھ کر حیران تھی، تھوڑی دیر بعد کار ایک خوبصورت عمارت کے سامنے رکی تو نوری عمارت کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی،کیا دیکھ رہی ہے اماں؟دانش نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو نوری نے کہا، بیٹا یہ کیا ہے؟ اماں اسے شاپنگ مال کہتے ہیں، یہاں روز مرہ کی ہر چیز موجود ہے، آج تُو جی بھر کر شاپنگ کر، دانش نے مال میں داخل ہوتے ہوئے کہا-نُوری نے زندگی میں کبھی اتنا بڑا شاپنگ مال نہ دیکھا تھا۔ جب وہ لفٹ میں داخل ہوئی تو خوفزدہ ہو گئی۔ “دانش، یہ کمرہ ہل کیوں رہا ہے؟” اُس نے پوچھا۔ دانش مسکرایا اور کہا، “اماں، اس کو لفٹ کہتے ہیں، یہ ہمیں اوپرنیچے لے جاتی ہے “یہ سیڑھی کا کام کرتی ہے، اور جو وہ ہے اُسے اسکیلیٹر کہتے ہیں، یہ بجلی سے چلتی ہے، دانش نے دوسری جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا-جب نُوری نے شاپنگ مال کی روشنیوں اور سامان سے بھری دکانوں کو دیکھا تو اُس کی آنکھوں میں حیرت چھا گئی۔ لیکن اُس حیرت کے پیچھے ایک گہری اداسی بھی تھی۔ اُس نے مال کی چمک دمک میں اپنے گاؤں کی سادگی کو یاد کیا۔ اُس کے ذہن میں رمضان چچا کی دکان کا منظر گھوم گیا۔نُوری، ایک گاؤں کی سادہ اور محنتی عورت، اپنی زندگی کے سخت ترین امتحانات سے گزری تھی۔ وہ ایک بڑھئی کی بیوی تھی اور اُس کا شوہر، کبیر، اپنے ہنر کے ذریعے گھر کا گزارہ چلاتا تھا۔ کبیر ایک دن گاؤں کے رئییس خواجہ صاحب کے مکان کی چھت لگا رہا تھا کہ ایک حادثہ پیش آیا، اور وہ گر کر اپنی جان گنوا بیٹھا۔کبیر کی موت کے بعد نُوری کے لیے زندگی ایک امتحان بن گئی۔ کبیر کی تدفین کے وقت جو رشتہ دار غمگین چہروں کے ساتھ نُوری کے آس پاس تھے، وہ جلد ہی اپنی اصلیت دکھانے لگے۔ رسم و رواج کے ختم ہونے کے بعد اُنہوں نے نُوری کو اُس کے حال پر چھوڑ دیا-نُوری نے سوچا تھا کہ شاید مشکل وقت میں رشتہ دار اُس کا سہارا بنیں گے، لیکن حقیقت اُس کی توقعات کے برعکس نکلی- کبیر کے چچا اور بھائی، جو پہلے گھر کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، اب نُوری سے دوری اختیار کر چکے تھے۔ اُن کےلئے ایک بیوہ اور اُس کا یتیم بچہ صرف بوجھ تھے۔ نُوری کو احساس ہوا کہ کبیر کی موجودگی ہی اُن رشتوں کو جوڑے رکھتی تھی، اور اُس کی موت کے بعد وہ رشتے دھاگوں کی طرح ٹوٹنے لگے۔کچھ رشتہ داروں نے تو یہاں تک کہہ دیا، “ہم نے بھی اپنی زندگی گزارنی ہے، ہم کب تک دوسروں کی ذمہ داریاں اٹھائیں گے؟” کوئی کبیر کے قرضوں کی بات کرتا، تو کوئی نُوری کے بیٹے کی پرورش کے اخراجات کو بہانہ بناتا۔ اُن کے رویوں سے نُوری کو صاف اندازہ ہو گیا کہ وہ صرف باتوں تک محدود ہمدردی دکھا رہے تھے۔رشتہ داروں کی یہ بے رُخی نُوری کے لیے ایک سبق بن گئی۔ اُس نے سمجھ لیا کہ دنیا میں وہی لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو واقعی دل سے ہمارے اپنے ہوں۔ نُوری نے خود کو مضبوط کیا، اپنی محنت پر بھروسہ کیا، اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنے زور بازو سے کامیاب بنائے گی۔ یہ تکلیف دہ تجربہ نُوری کے دل میں ایک عزم پیدا کر گیا کہ وہ کسی کے سہارے کی محتاج نہیں رہے گی۔کبیر کی موت کے بعد نُوری اپنی زندگی کی الجھنوں میں گھری ہوئی تھی۔ دانش کی تعلیم، گھر کے اخراجات، اور اپنے مستقبل کی فکر اُسے دن رات پریشان کئے رکھتی تھی، وہ جانتی تھی کہ کبیر نے خواجہ صاحب کے گھر کی چھت کا کام ایک ماہ لگاکر کیا تھا اور وہ اُن کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا تھا۔ نُوری نے سوچا کہ شاید خواجہ صاحب، جو گاؤں کے سب سے دولت مند اور بااثر شخص تھے، اُس کی مدد کر سکیں گے۔ایک دن ہمت جُٹا کر، نُوری خواجہ صاحب کے بڑے اور شاندار گھر کی طرف چل دی۔ اُن کے گھر کا آنگن بہت وسیع تھا، اور دروازے پر ایک نوکر نے اُسے اندر بلایا۔ خواجہ صاحب، جو اپنے آرام دہ کمرے میں چائے نوش فرما رہے تھے، نُوری کو دیکھ کر اپنی جگہ سے اُٹھے۔ اُن کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی، لیکن اُن کی نظریں کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہی تھیں۔نُوری نے احترام سے اپنی بات رکھی:”خواجہ صاحب، کبیر آپ کے گھر کی چھت کا کام کرتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ میں اکیلی ہوں، اور میرا بیٹا دانش ابھی پڑھ رہا ہے۔ مجھے کچھ مالی مدد کی ضرورت ہے تاکہ میں اُس کی تعلیم جاری رکھ سکوں۔”خواجہ صاحب، جو بظاہر نرم لہجے میں بات کر رہے تھے، اُس کی بات سن کر چند لمحے خاموش رہے۔ پھر اُنہوں نے کہا، “نُوری…! اس دنیا میں ہر انسان کی ضرورتیں ہوتی ہیں لیکن دیکھو، اس دنیا میں سب کچھ یوں آسانی سے نہیں ملتا۔”یہ کہتے ہوئے خواجہ صاحب کی نظریں نُوری کے چہرے سے سرک کر اُس کے سینے کا جائزہ لینے لگیں۔ اُن کے انداز میں ایک عجیب سی ہوس تھی، جسے نُوری فوراً بھانپ گئی۔ اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، اور وہ خوفزدہ ہو گئی۔”خواجہ صاحب، میں صرف اپنے بیٹے کے مستقبل کے لئے آپ کے پاس آئی ہوں۔” اُس نے اپنی آواز میں لرزش کو قابو میں رکھتے ہوئے کہا۔خواجہ صاحب نے آگے بڑھ کر کہا، “تم جیسی عورت کے لئے یہ دنیا بہت ظالم ہے، نُوری۔ اگر تم چاہو، تو میں تمہاری ہر مشکل آسان کر سکتا ہوں۔ لیکن بدلے میں، تمہیں بھی میرے لیے کچھ کرنا ہوگا۔” اُن کے الفاظ میں چھپا مطلب نُوری کے دل کو چیر گیا۔نُوری نے ایک لمحے کے لیے اپنی بے بسی کو محسوس کیا، لیکن پھر اُس کے اندر ایک غیرت اور عزت نفس جاگ اٹھی۔ وہ پیچھے ہٹ گئی اور کہا، “خواجہ صاحب، آپ جیسے لوگ دوسروں کی مجبوری کا فائدہ اُٹھاتے ہیں لیکن یاد رکھیں، میں اپنی عزت پر سمجھوتہ نہیں کروں گی، چاہے مجھے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔”یہ کہہ کر نُوری تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔ اُس کا دل زخمی تھا، لیکن اُس نے عزم کر لیا تھا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے گی۔ اُس دن نُوری نے یہ سمجھ لیا کہ دنیا میں کچھ لوگ طاقت اور دولت کے نشے میں دوسروں کی عزت کو پامال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ لیکن نُوری کے لئے اُس کی خودداری اور بیٹے کا مستقبل سب سے زیادہ اہم تھا اور وہ کسی بھی قیمت پر اُس کی حفاظت کرنے کے لیے تیار تھی۔اُن دنوں میں، جب نُوری کو ہر ایک کی مدد کی زیادہ ضرورت تھی، اُس نے خدا کی طرف رجوع کیا اور اپنی دعاؤں کو اپنا سہارا بنایا۔ رشتہ داروں کی بے رُخی نے اُسے توڑنے کے بجائے اور زیادہ مضبوط بنا دیا۔۔ اُس کے پاس نہ کوئی سہارا تھا اور نہ کوئی مضبوط ہاتھ جو اُس کے بیٹے دانش کا سہارا بن سکے۔نُوری نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اپنے اکلوتے بیٹے دانش کے بہتر مستقبل کے لئے وقف کر دیا۔ وہ گاؤں کے دولت مند لوگوں کے گھروں میں جھاڑو پوچا کرتی، برتن دھوتی اور محنت مشقت سے کچھ پیسے جوڑتی۔ دانش ایک ذہین لڑکا تھا۔ اُس کی ماں کی محنت نے اُس میں تعلیم حاصل کرنے کی جستجو پیدا کی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنی ماں کے چہرے پر تھکن کے باوجود امید کی جھلک دیکھتا اور خود سے وعدہ کرتا کہ ایک دن وہ اپنی ماں کی زندگی بدل دے گا۔وقت گزرتا گیا، اور دانش نے اسکول میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ نُوری اپنے محدود وسائل کے باوجود دانش کی تعلیم کے لئے ہر ممکن قربانی دیتی رہی۔ دانش نے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد مسابقتی امتحانات کی تیاری شروع کی۔ اُس کے پاس کیٹگری بھی تھی، لیکن اُس نے اپنی محنت پر بھروسہ کیا۔نُوری کی دعائیں اور دانش کی محنت آخرکار رنگ لائیں۔ دانش نے سول سروسز کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گیا۔ وہ دن نُوری کی زندگی کا سب سے خوشگوار دن تھا۔ ایک ماہ بعد دانش نے اپنی ماں کو شہر بلایا، جہاں وہ اب ایک خوبصورت اپارٹمنٹ میں رہنے لگا تھا۔یہاں آکر نُوری نے پہلی بار اتنی اونچی اونچی عمارتیں دیکھیں تو حیرت میں ڈوب گئی۔ وہ اپنی چھوٹی سی جھونپڑی سے اتنی بڑی دنیا تک پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی-شاپنگ مال میں اچانک اُس کی نظروں کے سامنے رمضان چچا کا چہرہ رقص کرنے لگا، رمضان چچا کی دکان گاؤں کی محبت، خلوص اور ہمدردی کا مرکز تھی۔ وہ چھوٹی سی دکان ہر ایک کے دل میں بستی تھی۔رمضان چچا کی دکان گاؤں کی ایک سادہ سی پہاڑی پر واقع تھی، جہاں لکڑی سے بنی ایک چھوٹی سی عمارت تھی۔ دکان کے سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا، جس میں کبھی کبھار بچے کھیلتے نظر آتے تھے۔ دکان کی دیواروں پر مٹی اور لکڑی کی خوشبو محسوس کی جا سکتی تھی، اور چھت پر بھورے رنگ کی پرانی چادریں تھیں، جو برفباری کے دوران گاؤں کے حسن کو اور بڑھا دیتی تھیں۔رمضان چچا درمیانے قد کے ایک بزرگ تھے، جن کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔ اُن کا جُھریوں میں ڈوبا ہوا سفید داڑھی والا چہرہ زندگی کی سختیوں اور محبت کی کہانی بیان کرتا تھا۔ وہ عموماً روایتی کشمیری لباس پہنتے تھے، جس میں ایک گہرا خاکی پھیرن اور سر پر سفید دستار شامل ہوتی تھی۔ سردیوں میں وہ انگاروں سے بھری کانگڑی تھامے رکھتے، جس کی گرمی اُنہیں ٹھٹھرتی ہواؤں میں سکون دیتی تھی۔دکان کے اندر، لکڑی کی شیلفیں دیواروں کے ساتھ لگی ہوئی تھیں، جن پر طرح طرح کی چیزیں ترتیب سے رکھی ہوتی تھیں۔ ایک طرف شیشے کے مرتبانوں میں مٹھائی تھی، دوسری طرف چمکتی ہوئی رنگین ٹافیاں، گُڑ کی گولیاں اور گلابی چورن کے لفافے پڑے رہتے۔ تیسری طرف کھلونے اور گڑیا رکھی ہوتیں، جو ہر بچے کی خوشی کا باعث بنتیں-دکان کے باہر اُن کی پالتو بکری اکثر بندھی رہتی، جو بچوں کی توجہ کا مرکز ہوتی۔رمضان چچا کا دل بھی اُن کی دکان کی طرح وسیع اور محبت سے بھرا ہوا تھا۔ وہ گاؤں کے ہر فرد کو جانتے تھے اور بچوں سے خاص لگاؤ رکھتے تھے۔ جو بچہ پیسے کم لاتا، رمضان چچا اُسے کبھی خالی ہاتھ واپس نہ بھیجتے۔ اُن کی دکان گاؤں کی زندگی کا محور تھی، جہاں لوگ نہ صرف سودا خریدنے آتے بلکہ دل کی باتیں بھی کرتے تھے۔نُوری کو یاد آیا کہ کیسے وہ بچپن میں پانچ یا دس پیسے لے کر رمضان چچا کی دکان پر جاتی تھی اور وہاں سے مٹھائیاں، کھلونے، اور گڑیا خریدتی تھی۔ رمضان چچا کا رویہ ہمیشہ محبت بھرا ہوتا۔ وہ بچوں کو دیکھ کر مسکراتے اور اُسے کہنے آگئی، صمدے کی بیٹی، شرارتی کہیں کی-“کہاں رمضان چچا کی وہ چھوٹی سی دکان، اور کہاں یہ وسیع شاپنگ مال!” نُوری نے سوچا۔ یہ شاپنگ مال بےشک قیمتی سامان سے بھرا ہوا تھا، لیکن یہاں محبت اور خلوص کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ہر چیز پیسوں پر مبنی تھی، اور ہر شخص مادیت کے جال میں جکڑا ہوا تھا۔ نُوری کے دل میں گاؤں کی سادگی اور محبت کے لئے تڑپ جاگ اٹھی۔یہ دکان اور رمضان چچا کی شخصیت گاؤں کی وہ یادگار تھی، جو نُوری کے دل میں ہمیشہ زندہ رہی۔ اُن کی سادگی اور محبت آج کی مادیت بھری دنیا سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔نُوری نے دانش کی طرف دیکھا اور کہا، “بیٹادانی، مجھے یہاں سے باہر نکالو۔ یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے۔” دانش نے حیرانی سے پوچھا، “ماں، کیا ہوا؟ آپ کو کچھ چاہیے؟” نُوری نے نفی میں سر ہلایا اور کہا، “نہیں، بیٹا۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ یہ جگہ میرے لئے نہیں ہے۔ یہاں سب کچھ مصنوعی لگتا ہے۔ مجھے وہ رمضان چچا کی دکان کی خوشبو یاد آ رہی ہے، جہاں خلوص ہر چیز سے زیادہ قیمتی تھا۔”دانش نے دیکھا نوری کے چہرے پر زردی چھانے لگی تھی اُس نے دوڑتے ہوئے ایک شیلف کی جانب پانی کی بوتل اُٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھا ہی تھا تو سیلز بوائے نے روکتے ہوئے کہا-پہلے کونٹر پر پیسے جمع کرایئں -ارے بھئ میری ماں مر جائے گی-سوری سر….! یہاں کا اصول ہے پہلے پیسے پھر چیز-دانش تیز تیز چلتے ہوئے کونٹر تک پہنچا اور پانی کی بوتل کے پیسے ادا کئے اور ماں کو پانی کے چند گھونٹ پلاتے ہوئے ہوچھا-اماں…..! میری پیاری اماں، تُو ٹھیک ہے نا؟ ہاں بیٹا اب میں ٹھیک ہوں، نوری نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا-دانش نے ماں کی بات کو سمجھا۔ اُس نے محسوس کیا کہ مادیت کی دنیا میں انسانی جذبات اور رشتوں کی اہمیت کم ہو چکی ہے۔ زندگی کی اصل خوشی دولت یا بڑی عمارتوں میں نہیں بلکہ محبت، خلوص اور سادگی میں ہے۔دانش نے اپنی ماں کی خواہش کا احترام کیا اور اُسے مال سے باہر لے آیا۔ نُوری نے اُس دن فیصلہ کیا کہ وہ کبھی اپنی جڑوں کو نہیں بھولے گی۔ چاہے وہ کسی بھی مقام پر پہنچ جائے، رمضان چچا کی دکان اور اُس کی سادگی ہمیشہ اُس کے دل میں زندہ رہے گی۔
���
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر،کشمیر، موبائل نمبر؛9419463487