جب بندہ تیس دِن لگا تار روزے رکھتا ہے اور روزے کے سارے عملی تقاضے پورے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ تیس دن کے بعد اِسے اپنی اطاعت شعاری کا ظاہری بدلہ عیدالفطر کی شکل میں عنائت فرماتا ہے۔ اس دِن جب مزدوری ملتی ہے تو اس کے صحن میںبے پناہ خوشیاں رقض کرنے لگتی ہیں۔یہ عظیم العرتبت خوشی کاموقع اللہ نے ہمیںصرف بدلہ دینے مزدوری تقسیم کرنے یا اِن کی محنتوں کا صِلہ دینے کیلئے عنائت نہیں فرمایا ۔ بلکہ اس کے اندر بے پناہ حکمتیں بھی پنہاں ہیں عید سعید کی بے شمارمصالح اور مقاصِد ہیں۔ جو انفرادی اور اجتماعی طور پر سب کی قربیت اور ذہن سازی کرکے ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں۔ چوں کہ یہ خوشی کادِن ہوتا ہے۔ ساری دُنیا کے مسلمان مشترکہ طور پر اپنے اپنے انداز ، طور طریقوں اور اپنی اپنی تہذیب کے مُطابق اظہار مسّرت کرتے ہیں اور اس مسّرت کے موقع پر بہت سارے ایسے کام بھی ہوجاتے ہیں کہ جو صرف اہل ثروت کرسکتے ہیں۔ لیکن بے چارے جو دولت مند نہیںہیں وہ صرف اشکوں اور حسرتوں کے بیچ گھُٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اظہار مسرت کے عنوان سے ان کی وہ خواہشات پوری نہیں ہوتیں جن کے مُستحق ہیں۔ اسی لئے اللہ عزوجل بندوں سے خوشیوں اور مسرتوں کے درمیان توازن و اعتدال کاحکم دیتا ہے۔ یعنی ایسا ناہوکہ مالدار تو خوب خوشیاں منائیں ان کے بچے نئے نئے کپڑے پہنیں ۔ان کے گھروں میںمختلف النوع پکوان پکیں مگر بے چارہ غریب مادی آسائش کی عدم فراہمی کی وجہ سے نااپنے بچوں کی خواہشوں کو پورا کرسکے اور انہیں اچھے کھانوں اور اچھے کپڑوں کی فراہمی کرکے انکی خوشیوں کو دوبالا کرسکے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کو اس دِن بہت ہی زیادہ احساس محرومی ہوگا اور اس کا احساس غربت اُس کی آنکھوں کو نم کردے گا۔ ہمارے معاشرے میں افراط و تفریط کے یہ مظاہر ہر جگہ عام ہیں جو مُسلم بستوں میں چند ۔چند قدم کے فاصلوں پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بحران کے خاتمے کیلئے مالداروں پر خاص طور یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اپنی خوشیوں میں غریبوں کو بالغرض اور بالضرور شریک کریں ۔روٹھے ہوئوں کو منائیں ۔کم درجہ لوگوں کوگلے لگائیں افلاس کے مارے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کرگلے لگائیں۔یہی وجہ ہے کہ اس دِن صاحب نصاب مُسلمانوں کو کچھ متعینہ قطرہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ۔ اور اتنی سختی سے دیا گیا ہے کہ حدیث شریف میں بیان ہے کہ روزہ دار کا روزہ زمیں و آسمان کے درمیاں مُعلق رہتا ہے جب تک کہ صدقہ فطر ادا نہ کیاجائے۔ اس سے جہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ صدقہ مطر کی کتنی اہمیت ہے وہاں اس بات کی بھی تعلیم دینا مقصود ہے کہ غریب و افلاس کے ماروں کو گلے لگائے بغیر ناآپ کی مسرتوں کی کوئی حیثیت ہے ناآپ کے روزوں کی اور ناہی آپ کی عبادتوں کی۔ اس سے اس اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ہر جگہ ہر حُکم میں اعتدال و توازن کیسوں برقرار رکھا ہے۔ ایسا کہیں بھی نہیں ہے کہ ایک طرف تو انتہا ہے اور دوسری طرف دوسری انتہا اس سے معاشرہ بحران کاشکار ہوجاتا ہے ۔آپ عید تزک و احتشام پُر وقار طریقے سے منائیں لیکن عیدالفطر کو محض رسم و رواج کامجموعہ نابنائیں۔ اس کو حقیقی او رمعنیاتی طور پر سمجھ کر اس کے پیغام کو عمل کی صورت میں فروغ و استحکام بخشیں۔ آج ہمارے درمیان وہ لوگ نہیں ہیںجو پچھلی عید پر ہمارے ساتھ تھے اور جو اس سال ہیں ناجانے کتنے نہیں ہوں
گے۔یہ حقیقت ہے ۔ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ دُنیا چھوڑنے سے قبل کی اہم نے اس ماہ مبارک دور عید سعید کے حوالے سے اللہ تعالی ٰ کے احکامات پر عمل کیااور کیا ہم سے کوئی کوتاہی تو نہیں ہورہی ہے۔ اللہ رب کریم ہمارے گناہوں کی بخشش کرنے والا ہے ہماری عاجزانہ دُعا ہے کہ وہ غفوُر و رحیم ہمیں ایسے موقعے فراہم کرے اور توفیق عطا فرمائے کہ ہم اُس کے احکامات پر پابندی سے عمل کریں (آمین) میری طرف سے تمام مسلمانوں کو عید سعید کی خوشیاں مبارک ہوں۔
(ایم اسلم خان ۔جموں)7051106355