رمضان المبارک کا آغاز ہورہا ہے۔یہ مہینہ مسلمانوں کیلئے خاص اور انتہائی مقدس ہے جس میں عبادت بڑھ جاتی ہے اور نیکی کی جستجو بھی، تراویح جیسی اجتماعی عبادت کا خاص اہتمام کیا جاتاہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر کے مسلمان اس ماہِ مقدس کے استقبال کی تیاریوں میں ہیں مگر اس وقت پورا عالم کرونا وائرس کی تباہیوں سے ہراساں و لرزاں ہے۔بیشترعبادت گاہوں اور مساجد کو تالے لگے ہوئے ہیں۔معاشرتی فاصلے کے ان دنوں میں افطار اور سحر کے اجتماعات ممکن نہیں رہے۔اللہ کے برگزیدہ بندے ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہیں۔ایک طرف رمضان ْ المبارک کے تقاضے دوسری طرف حفظانِ صحت کے تقاضے۔بقول غالب : ؎
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی کے بعد مسلمانوں کے تیسرے بڑے مذہبی مقام مسجدِ اقصیٰ میں 23 مارچ سے با جماعت نماز کا سلسلہ بند ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یہ پابندی ماہِ رمضان میں بھی جاری رہے گی۔الجزیرہ نیٹ ورک نے خبر دی ہے کہ اردن کے منتخب کردہ یروشلم اسلامی وقف، جو اسلام کے مقدس مقامات کا نگران ہے،نے اس فیصلے کو تکلیف دہ قرار دیا ہے مگر یہ بھی کہا ہے کہ یہ اقدام قانونی فتوے اور میڈیکل ہدایات کے عین مطابق ہیں اور مسلمانوں کو اپنے تحفظ کیلئے گھر پر نماز پڑھنی چا ہئے۔ مغربی کنارے میں تمام مساجد 12 مارچ اور غزہ کی پٹی میں 25 مارچ سے بند ہیں۔
اس وقت ہندوستان کے معتبر علماء و مفتیان کے مطابق میں جو مختلف ادارے، مساجد اور تنظیمیں ہیں، انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کی ریاست یا مرکزی حکومت کسی پابندی کا اعلان کرے گی تو اس پابندی کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے گا۔
ان کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اگرچہ عبادت کا اجر بہت زیادہ ہے مگر انسانی جان بھی اللہ کو بہت پیاری ہے نیز بندوں کو بھی پیاری ہے اور یہاں مسئلہ صرف اپنی جان کا نہیں ہے بلکہ آپ کی لاپرواہی سے لاکھوں لوگ جاں بحق ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اصولی طور پر یہ طے کر لیا گیا ہے کہ رمضان میں ایک تو یہ ہو سکتا ہے کہ لوگ دیکھیں اگر ان کی ریاست میں نظام کھل جاتا ہے تو ٹھیک ورنہ گھروں میں نماز تراویح ادا کریں جیسے کہ وہ جمعے کی نماز گھر پر پڑھ رہے ہیں۔
یہ پہلی بار ہے کہ رمضان لاک ڈاؤن اور معاشرتی فاصلے کی پابندیوں میں شروع ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسی ترکیب ہے کہ رمضان کی مبارک کو ساعتوں کو وصول بھی کیا جائے اور کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے حفاظت بھی ہو جائے۔اس مقالہ میں اسی سوال کا جواب دینے کی ایک چھوٹی سی کوش کی گئی ہے۔تمام تعریفیں اس پاک پروردگار کے لیے ہیں کہ وہ کمال رحمت سے اپنے نیک بندوں کے لیے نیک کاموں کو آسان کر دیتا ہے۔فاما من اعطی و التقی و صدق با لحسنیٰ فسنیسرہ للیسریٰ اس پر عادل گواہ ہے۔
رمضان المبارک اور تدابیر حفظان صحت:
کرونا وائرس کی تباہی سے بچنے کیلئے حسب ذیل تدابیر پر کاربند ہوں:
۱۔نمازیں گھر پر پڑھیں۔ہو سکے تو با جماعت نماز ادا کریں مگر سماجی فاصلہ بندی کو مد نظر رکھیں۔مصلیوں کے درمیان کم سے کم ایک میٹر کا فاصلہ ہو۔
۲۔ماسک اور گلوس(طبی دستانوں) کا استعمال ہر گز ترک نہ کریں۔
۳۔تلی ہوئی چیزوں نیز سرد اشیاء(ٹھنڈے مشروبات) کے استعمال سے پرہیز کریں ،اس لئے کہ ممکن ہے کہ وہ سردی کھانسی کا سبب بن جائیں یا وائرس کو دعوت دیں اور آپ اس وباء سے دو چار ہو جائیں۔سردی کھانسی کی شکایت ہو تو فوری طور پر اپنے فیملی طبیب سے رجوع کریں۔
۴۔کھانا بنانے سے پہلے اور کھانہ بنانے کے بعد نیز کھانے کے بعد ہینڈ واش کا ستعمال ضرور کریں۔
۵۔اپنے ناک منہ اور کان کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کریں۔
۶۔ جو لوگ بر سر روزگار ہیں وہ وزارت صحت کی بتائی ہوئی ہدایتوں پر عمل کریں۔
۷۔بے تحاشہ کھانے سے اور روزے کی تلافی مافات سے بچیں مبادہ آپ کی صحت پر اس سے برا اثر پڑے۔
۸۔کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کو مجرم سمجھنے اور ان کا اور ان کے اہل خانہ کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی بجائے ان کے ساتھ غمخواری کریں۔اگر وہ قرنطینہ میں ہیں تو ان کے اہل خانہ کا خیال رکھیں اور اپنی غمخواری کا ثبوت دیں۔
۹۔اپنے اوقات کی حفاظت کریں۔واہی تباہی کی باتیں کرنے اور انٹر نیٹ پر وقت ضائع کرنے کی بجائے (جو ازخود اس وائرس کے پھیلانے میں معاون ہے)اپنے اوقات کو انفرادی عبادات سے معمور کریں اور دعا فرمائیں کہ پروردگار اس وباء کا جلد سے جلد خاتمہ فرمائے۔
مذکورہ بالا باتوں کا دھیان رکھا جائے تو امسال بھی اپنے روزوں کی رونق کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔بنا بریں اکثریت ماحول کی محتاج ہوتی ہے مگر امسال یہ ماحول اپنے گھر میں پیدا کریں۔بقول اقبالؒ ؎
فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں قطار اندر قطار ا ب بھی
سائنسداں و لیکچرار شعبہ معالجات، کشمیر یونیورسٹی سرینگر