عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو نے بدھ کو خصوصی اینٹی کرپشن عدالت سرینگر میں ایک رشوت ستانی کیس میں چارج شیٹ پیش کی ہے، جس میں ایک پٹواری اور 2دلال شامل ہیں۔ یہ چارج شیٹ ایف آئی آر نمبر 35/2022 کے تحت درج ہوئی ہے، جو انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 7 اور آئی پی سی کی دفعہ 120-B کے تحت ہے۔ ملزمان میں اْس وقت کے پٹواری حلقہ خانیار اعجاز احمد شیگن اور دو مبینہ دلال شوکت احمد بدو اور محمد یوسف ڈار شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کیس 1 ستمبر 2022 کو درج ہوا تھا، جب ایک تحریری شکایت میں الزام لگایا گیا کہ پٹواری نے ریونیو ایکسٹریکٹ جاری کرنے کے لیے 7,000 روپے رشوت طلب کی تھی۔ اینٹی کرپشن بیورو کی ٹریپ کارروائی کے دوران دونوں دلالوں کو پٹواری کی طرف سے رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ موقع پر نقدی برآمد ہوئی اور کیمیائی ٹیسٹ سے ان کے ہاتھوں پر فینولفتھلین کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ ملزمان پر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعات 7، 7A اور 12 کے ساتھ ساتھ آئی پی سی کی دفعہ 120-B کے تحت جرم ثابت ہوتا ہے۔ حکومت سے لازمی اجازت حاصل کرنے کے بعد اینٹی کرپشن بیورو نے چارج شیٹ عدالت میں پیش کی۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت کی تاریخ 16 فروری 2026 مقرر کی ہے۔ یہ کارروائی وادی میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس میں سرکاری اہلکاروں اور ان کے ساتھ ملوث افراد کو جواب دہ بنایا جا رہا ہے۔ دریں اثناء جنوبی کشمیرمیں لوگوں نے لاسی پورہ کے انڈسٹریل گروتھ سنٹر میں بڑے پیمانے پر زمین گھوٹالے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ گھوٹالے میںخسرہ نمبر 852 اور 867کے تحت 15 کنال سرکاری اراضی شامل ہے جسے مبینہ طور پر ترکاونگم، شوپیاں کے ایک رہائشی نے 2017، 2021 اور 2024 میں ریونیواہلکاروں اور زمین دلالوں کی مدد سے فروخت کیا تھا۔لوگوںنے حکام سے فوری ایکشن اور انصاف کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔