دنیا بھر میںآج یعنی 9 دسمبر کو عالمی یوم ِ انسداد رشوت ستانی منایا جارہا ہے۔ اس دن کے منانے کا خاص مقصد یہ ہے کہ دنیا کو رشوت سے پاک رکھیں اور عام لوگ اس برائی سے آگاہ ہوجائیں کیونکہ یہ ایک ایسی برائی ہے کہ اس سے سماج، سیاست، جمہوریت اور اقتصادیات پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور اس مرض نے آہستہ آہستہ دنیا کے ہر ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ رشوت ستانی سے عالمی سیاست بھی خطرے میں ہے اور اس سے تمام ممالک کی اقتصادی ترقی کے علاوہ سرکاری اداروں پر بھی برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ رشوت ستانی سے ممالک کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور اس سے سماج میں بہت سارے ناسور جنم لے رہے ہیں۔ اس سے بے راہ روی میں اضافہ، ناانصافی، جانبدارانہ نظام، قتل، حق تلفی جیسے برائیاں پنپ رہی ہیں۔ غریب اور محتاج رشوت ستانی سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں کیونکہ وہ رشوت دینے سے قاصر ہوتے ہیں اور جو کام ان کو کرنا ہوتا ہے رشوت کے بغیر وہ نہیں کر پارہے ہیں یا ان کے حق پر وہ لوگ شب خون مار رہے ہیں جو رشوت ادا کرسکتے ہیں۔ رشوت کو عرف عام میں کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے جیسے چائے، مٹھائی، سگریٹ اور کاغذ خرچی۔
یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے سیکریٹری جنرل کے آگے ایک تجویز رکھی تھی کہ انسداد رشوت ستانی کا دن عالمی سطح پر منایا جائے تاکہ ایک آگاہی مہم اس کے خلاف چلائی جائے جس میں تمام ممالک اپنی عوام کو اس کے خلاف لڑنے کیلئے تیار کریں اور لوگ رشوت ستانی سے محفوظ رہ سکیں۔ اسی لئے یہ دن 2005 میں معرض وجود میں آیا ۔جب سے آج تک اس دن کو اسی نام (یوم انسداد رشوت ستانی) کے طور سے منایا جارہا ہے مگر یہاں یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ آیا اس دن کے منانے سے رشوت خوری میں کوئی کمی واقع ہورہی ہے کہ نہیں؟ تو جواب نفی میں آرہا ہے کہ نہیں! کیونکہ یونائیٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں ہر سال تقریباً ایک ٹرلین ڈالر رشوت کے طور پر ادا کئے جارہے ہیں۔ ایک اور تخمینہ کے مطابق رشوت کی وجہ سے ہی 2.5ٹرلین ڈالر ہر سال چرائے جا رہے ہیں جو گلوبلDGP سے پانچ فیصد زیادہ ہے ۔
رشوت ستانی کے مرض سے کسی بھی ملک کواستثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ رشوت ستانی سے جمہوریت پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ایسے نااہل، ناقابل اور سماج دشمن عناصر آگے آرہے ہیں جو ملک کے ہی نہیں بلکہ سماج، مذہب اور انسانیت کے بھی دشمن ہوتے ہیں جب زمام حکومت ان کے ہاتھوں میں آتی ہے تو وہ جمہوریت کو اس طرف لے جاتے ہیں جہاں سے واپس آنا بہت ہی مشکل اور ناممکن بھی ہوتا ہے۔اس برائی سے لڑنے کیلئے دیگر ممالک کی طرح ہندوستانی پارلیمنٹ نے 1988میں ایک قانون پاس کیا۔مگر یہ ایکٹ کس حد تک کامیاب ہے، اس سے ہم سب واقف ہیں کیونکہ رشوت ستانی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اس ایکٹ میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ جو شخص رشوت لے، اس کو سات سے دس سال تک کی قید مل سکتی ہے ۔2018 میں اس ایکٹ میں تھوڑی سی ترمیم بھی کی گئی اور اس ترمیم میں رشوت لینے کو ایک خاص جرم کے طور پر تسلیم کیا گیا ۔
رشوت لینا اور دینا اسلام کی نظروں میں بھی بدترین گناہ ہے۔ رشوت سماج کی رگوں میں زہریلے خون کی طرح سرایت کرکے پورے معاشرے کے ساتھ ساتھ انسانیت کو بھی تباہ و برباد کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے احمد کی ٹوپی محمود کے سرپر جاتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐنے فرمایا کہ "رشوت لینے اور دینے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے"۔ رشوت ایک ایسی لعنت ہے جس کے سبب انسان رحمت خدا سے دور رہتا ہے ۔
آج بھی ٹھیکیدار کو دس فیصد کے حساب سے مٹھائی دینی پڑتی ہے اور ٹھیکہ اپنے نام کروانا پڑتا ہے جسکا اثر سیدھے اسی کام پر پڑتا ہے ۔ڈرگسٹ کمیشن دیکر ہی کوئی غیر معیاری دوائی منظور کرواتا ہے۔ غرض یہاں ہر سطح پر رشوت خوری عام ہو رہی ہے مگر اس کے لئے کوئی آگے نہیں آرہا ہے اور یہاں ہر کوئی بے بس نظر آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ مرض دن بہ دن بڑھتا ہی جارہا ہے۔اس کا واضح ثبوت 2019کے سروے میں مل رہا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل انڈیا کی جانب سے 2019کے ہندوستان میں رشوت ستانی سروے کے مطابق انہیں رشوت ستانی سے متعلق سولات کے ایک لاکھ نوے ہزار جوابات موصول ہوئے ہیں اور ان سے یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ 51فیصد ہندوستانیوں نے کوئی کام انجام دینے کیلئے پچھلے بارہ مہینوں میں رشوت ادا کی ہے۔ اسی سروے کے مطابق راجستھان رشوت ستانی میں سب سے آگے ہے جہاں 78فیصد لوگوں نے رشوت دیکر اپنا کام کروایا ہے۔ دوسرے نمبر پر بہار ہے جہاں 75 فیصد، اترپردیش اور جھارکھنڈ میں 74فیصد، تلنگانہ میں 67فیصد، پنجاب اور کرناٹکہ میں 63 فیصد اور تامل ناڈو میں 62 فیصد لوگوں نے رشوت دیکر ہی اپنا کام کروایا ہے۔ کیرلہ میں سب سے کم یعنی 10 فیصد لوگوں نے ہی ایسا کام کیا ہے۔ اس سال یعنی 2020کے اعداد وشمار جلد ہی منظر عام پر آنے والے ہیں اور خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ جموں و کشمیر بھی اس بار کئی ریاستوں پر رشوت ستانی میں بازی لے جائے گا جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے اور غور طلب بھی۔
انسداد رشوت ستانی کا دن منانے، دیواروں پر نعرے لکھنے اور محفلیں سجانے سے تب تک کچھ حاصل نہیں ہوگا جب تک نہ سرکار کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری ادارے، پولیس، انسداد رشوت ستانی فورس اور عوام آپس میں مل جل کر اس کے خلاف زمینی سطح پر کام کریں۔ ہمیں ان راشی سرکاری، پرائیوٹ اور غیر سرکاری کارکنوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے جو چائے کے نام پر عام لوگوں سے رشوت حاصل کر رہے ہیں اور اس اس کے بعد ان کا کام کررہے ہیں۔ بہت سارے سرکاری وغیر سرکاری ادارے آپ کی مدد کرنے کیلئے ہمیشہ تیار ہیں جن میں سنٹرل ویجی لنس کمیشن، سٹیٹ ویجی لنس کمیشن،Integrity Pact، ALAC اورPAHAL وغیرہ شامل ہیں۔Integrity pact،جو 2006 میں سینٹرل ویجی لنس کمیشن کی وساطت سے وجود میں آیا ہے،آپ کی مدد کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہALAC یعنی ایڈووکیسی اینڈ لیگل ایڈوائس سینٹر رشوت کے شکار شخص یا گواہوں کو مفت قانونی مشورہ اور اعانت فراہم کر سکتا ہے۔ ALAC ہندوستانی شہریوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اس وباء کے خلاف لڑنے اور آواز اٹھانے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔Pahalدیہی علاقوں میں اپریل 2019سے کام کر رہی ہے اور لوگوں خاص طور سے غریب دیہاتیوں کو مجاز بناتی ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کو پاسکیں۔ اس کیلئےPahal انہیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ کیسےRTI اور سوشل آڈٹ کرسکتے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم ان اداروں سے مدد ملیں اور رشوت سے پاک معاشرہ کی تشکیل میں اپنا حصہ ادا کریں۔
رابطہ۔ [email protected]