محمد تسکین
بانہال// ضلع رام بن کی تحصیل ہیڈکوارٹر رامسو سے محض دو سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پنچایت سربگنی آج بھی بنیادی رابطہ سہولیات سے محروم ہے۔ پہاڑی ڈھلان پر آباد اس دیہی علاقے کے مکینوں کو روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دینے کے لیے ایک خستہ حال اور خطرناک فٹ پاتھ پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس کی ابتر حالت عوام کے لیے مستقل پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔مقامی باشندوں کے مطابق سربگنی تک آج تک گاڑیوں کی سڑک نہیں پہنچ سکی ہے جس کے باعث طلبہ، بزرگ شہری، مریض، خواتین اور کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ روزانہ سکول اور کالج جانے والے طلبہ کو دشوار گزار راستوں پر کئی کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے جبکہ بیمار افراد کو ہسپتال یا طبی مراکز تک پہنچانے میں بھی بڑی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکھیتی سے سربگنی تک فٹ پاتھ کی تعمیر و مرمت ناگزیر بن گئی ہے۔ مقامی سماجی کارکن سجاد فاروق نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بارش، برفباری اور خراب موسمی حالات کے دوران فٹ پاتھ انتہائی پھسلن زدہ اور خطرناک ہو جاتا ہے، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ متعدد مقامات پر راستہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہنگامی طبی صورتحال میں مریضوں کو چارپائیوں یا کندھوں پر اٹھا کر سڑک تک پہنچانا پڑتا ہے، جس سے قیمتی وقت ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ مریضوں کی جان کو بھی خطرات لاحق رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑک نہ ہونے کے باعث زرعی اجناس، مویشیوں کے چارے اور روزمرہ ضروریات کی نقل و حمل ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے اور انہیں اپنی روزمرہ کی پیدل زندگی میں اضافی وقت اور اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، جس سے ان کی معاشی حالت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے ممبر اسمبلی بانہال سجاد شاہین ، ڈپٹی کمشنر رامبن اور محکمہ دیہی ترقیات کے حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ اس خستہ حال راستے پر سفر کرنا آسان اور محفوظ ہو جائے ۔
سابقہ پنچایتی نمائندہ کا کہنا ہیکہ سربگنی رامسو سب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کے بالکل قریب ہونے کے باوجود ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز رہا ہے اور اب ممبر اسمبلی بانہال کی کاوش سے سربگنی کیلئے سڑک منظور ہوئی ہے اور اس کی تعمیر میں وقت لگ سکتا ہے لہذا تب تک لڑکھیتی اور سربگنی کے درمیان تیس سال پہلے محکمہ جنگلات کی طرف سے بنائے گئے اور اب خستہ حال ہوئے فٹ پاتھ کی مرمت کی جائے اور اسے انسانوں کے چلنے کے قابل بنایا جائے۔ انہوں نے موجودہ فٹ پاتھ کی مرمت، توسیع اور مضبوطی کے لیے عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دیہی آبادی کو محفوظ اور باوقار آمد و رفت کی سہولت میسر آ سکے۔مقامی عوام نے ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے اپیل کی ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ سربگنی کے سینکڑوں باشندوں کو بنیادی رابطہ سہولیات سے محرومی کے خاتمے کے ساتھ بہتر معیارِ زندگی فراہم کیا جا سکے۔