محمد تسکین
بانہال// سرسبز پہاڑ اور صاف پانی کے چشمے بانہال کی خوبصورتی کی پہچان سمجھے جاتے ہیں، مگر نوگام کے ذبن سے بہنے والانالہ بشلڑی اب عوامی بے حسی کا شکار مختلف کہانی سنا رہا ہے۔ نالے کے اندر اور اس کے کناروں پر پھیلا کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک کا بڑھتا ہوا ڈھیر مقامی لوگوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں قصبہ بانہال کے قریب موضع بنکوٹ میں واقع نعمانیہ کالونی میں رہائشی مکان بن رہے ہیں اور اس سے آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے، لیکن صفائی ستھرائی کے مسائل اور کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے میونسپل حکام کوئی اقدام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مناسب ڈسٹ بن، کچرا اٹھانے کے نظام اور ٹھوس ویسٹ مینجمنٹ کی عدم موجودگی نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے اور بانہال کے کئی دیگر علاقوں کی طرح نعمانیہ کالونی کے گھروں سے نکلنے والی گندگی فضلہ بھی نالہ بشلڑی اور اس کے کناروں کی نظر کیا جاتا ہے۔ نعمانیہ کالونی کی رہائشی مضمون نگار اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی طالبہ طوبیٰ فاطمہ نے اس مسئلے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بشلڑی نالہ کبھی اپنی صاف شفاف روانی ، قدرتی حسن اور مچھلیوں کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن اب کے اندر اور اس کے کنارے پلاسٹک، بوتلوں اور گھریلو کچرے سے اٹے پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوگام سے بیٹری چشمہ تک لمبی بشلڑی ندی سرکاری اور عوامی سطح پر عدم توجہی کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا، یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ ماحولیات اور عوامی صحت کا بھی معاملہ ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں اور اس ندی اور اس کے کناروں اور اس سے ملنے والے درجن بھر نالوں کا کچرا آخر نالہ بشلڑی اور وہاں سے دریائے چناب میں جا پہنچتا ہے جو ہمارے آبی ذخائر اور آبی حیات کیلئے تباہی کن ہوگا۔ مقامی باشندوں کے بستی سے نکلنے والے کچرا کو ٹھکانے لگانے کیلئے کوئی سرکاری انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ اب پل کے نیچے اور نالے کے کناروں پر کچرا پھینک رہے ہیں، جس سے پانی آلودہ ہو رہا ہے اور بارشوں کے دوران یہ گندگی اور عفونت گھروں تک پہنچ جاتی ہے۔طوبیٰ فاطمہ نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ علاقے میں فوری طور پر ڈسٹ بن نصب کیے جائیں، باقاعدہ کچرا جمع کرنے کا نظام قائم کیا جائے اور عوامی بیداری مہم شروع کی جائے تاکہ بشلڑی نالہ اور بانہال کا قدرتی ماحول مزید تباہی سے بچایا جا سکے اور اس خوبصورت آبی گزرگاہ کو مستقل کی آلودگی پاک و صاف بنانے کیلئے جامع منصوبہ بنایا جائے ۔